دہشت گردی کیوں اور کب تک؟…( آخری قسط)

جاوید قریشی ـ 7 جولائی ، 2009
جن اسباب کی بدولت " دہشت گردوں " نے روس کیخلاف جنگ کی تھی وہی امریکہ کیخلاف موجود تھیں چنانچہ اسی شدت سے انھوں نے امریکی مخالفت شروع کی ۔ جنرل مشرف نے امریکی دبائو میں آ کر اپنی افغانستان اور طالبان پالیسی یکسر بدل دی اور ہر طرح امریکہ اور اس کی افواج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ جو کل تک دوست سمجھا جاتا دشمن قرار دے دیا گیا۔ دشمن کا دوست دشمن اور دشمن کا دشمن دوست کے مصداق۔ آج ہم جو کچھ اپنے ملک بالخصوص پختون خواہصوبہ میں دیکھ رہے ہیں ہماری پالیسیز میں اسی الٹ پھیر کی وجہ سے ہے۔
یوں تو مملکت خدا داد پاکستان کی بنیاد ہی پانی کی بجائے شہداء ِ آزادی کے خون سے اٹھائی گئی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت فسادات میں لاکھوں مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور مہاجرین خون کا دریا عبور کر کے عافیت کی سرزمین پاکستان تک پہنچے(جن کا ادراک وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس تجربہ سے گزرے ہوں)۔
شیعہ سنی تنازعہ اور احمدی فرقہ کے خلاف فسادات 1950 ہی سے شروع ہو گئے تھے ۔ شہریوں اور سکیورٹی ایجنسیز کے افراد کی زندگی کو خطرات کا آغاز ان غلط پالیسیوں سے شروع ہوا جو جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں شروع ہو گئی تھیں۔ افغان سویت روس جنگ میں ضرورت سے زیادہ ملوث ہو جانے کی بناء پر اور ان لاکھوں عرب اور دیگر اقوام کے لوگوں کو اس میں جھونک دینے کے سبب۔ جنگ کے خاتمہ پر بہت سے افغان / عرب لوگوں نے جو جہاد کے جذبہ سے سرشار تھے ہمارے ملک کا رخ کیا اور پاک افغان بارڈر پر سکونت اختیار کی۔ یہ لوگ مسلح تھے جیسا کہ پہلے کہا گیا پاکستان میں کلاشنکوف اور ڈرگ کلچر انہی کے ذریعہ متعارف ہوا۔ ضیاء الحق کو ضرورت تھی کہ امریکہ ان کی آمریت کو جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرے ۔ چنانچہ اس کے واسطے جنرل ضیاء الحق نے جائز ناجائز، ضروری غیر ضروری حربوں سے امریکہ کی اس پراکسی جنگ میں حصہ لے کر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی ۔
ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف نے بھی ویسی ہی اغراض اور اپنے اختیار کو طول دینے کے لئے امریکی پالیسیوں کو قبول کر کے طالبان سے دشمنی مول لی اور وہ پشتون جو ہماری شمال مغربی سرحدوں کے محافظ ہوا کرتے تھے امریکی دوستی کی وجہ سے حکومت پاکستان ، سیکورٹی فورسز اور عوام کے دشمن ہو گئے۔ یہ دشمنی اتنی بڑھی کہ سن 2007 سے 2008 تک مختلف قسم کے حملوں میں 15000 پاکستانی لقمہ اجل بنے۔
اگلے سال یعنی 2009 میں ابھی تک 36 خود کش حملوں میں 465پاکستانی ہلاک اور 1121 زخمی ہو چکے ہیں۔یہ لوگ جو برملا اب ہماری مخالفت کرتے ہیں سوات ، مالاکنڈ ڈویژن ، بونیر ، شانگلا، وزیرستان اور دیگر ایجنسیزمیں اپنی حکومت قائم کرنے کے درپے تھے۔ ان علاقوں میں حکومت کی عمل داری عملاً ختم ہو چکی تھی انہی کا سکہ چلتا تھا ۔ حکومت نے اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے ان کیخلاف فوجی اقدام کا فیصلہ کیا۔ بھرپور منصوبہ بندی کی گئی اور ہماری افواج ملک کی آذادی اور سلامتی کی خاطر ان لوگوں کیخلاف جنگ میں مصروف ہو گئیں۔ ہمارے جوانوں نے اس دشوارجنگ میں جس جرات اور جانثاری کا مظاہرہ کیا ہے پوری قوم اس کی معترف ہے۔
آمرانہ حکومتوں نے پاک فوج کے دامن پر اگر کوئی داغ دھبے ڈال دیئے تھے تو شہداء نے اپنے خون سے انہیں دھو ڈالاہے اور اب فوج ایک بار پھر اس احسانمند قوم کی آنکھ کا تارا نظر آتی ہے۔
انتہا پسندوں ، طالبان اور اسی قماش کے لوگوں سے حکومت نے ماضی میں کئی بار معاہدے کئے کہ عوام اور مملکت کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ہر بار ان لوگوں نے معاہدوں کو توڑا اور ان کی آڑ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کی ۔
اس مرتبہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور درندہ صفت دہشت گردوں ، انتہا پسندوں اور عوام دشمن لوگوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ جہاں جہاں دہشت گردی کی تربیت جاتی رہی ہے ، خود کش بمبار تیار کئے جاتے رہے ہیں انکے تربیتی اور مواصلاتی نظام کو برباد کر کے اس ملک کو اس خطرے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات دلوائی جائے۔
اس جنگ میں جوانوں اور افسران میں شہادت کی نسبت5:1 ہے جو ہر لحاظ سے زبردست قربانی اور قائدانہ صلاحیتوں کا برملا اعتراف ہے۔ یہ جنگ جاری رہنا چاہئے اس وقت تک کہ یہ لوگ ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو جائیں یا ہمارا ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسیں ۔ دشمن کے پائوں اکھڑتے نظر آتے ہیں۔ ہرمحاذ پر اسے پسپائی کا سامنا ہے لیکن کام ابھی ختم نہیں ہوا۔دشمن کو مکمل شکست دینا ہے تاکہ اس ملک سے خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ٹل جائے۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حال ہی میں ایک بار پھر کہا ہے کہ مشن عنقریب مکمل ہو جائے گا۔ خدارا اس مرتبہ پھرا سے ادھورا نہ چھوڑئے گا۔ قوم چاہتی ہے کہ ان لوگوں کا خاتمہ ہو ۔ انتہا پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو اتنا گہرا دفن کیا جائے کہ یہ دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں اور ہمارے مرغزار ، ہمارے کہسار ، ہمارے چشمے ، ہمارے جھرنے ، باغات ، کھیت کھلیان اور ان سب کے ر کھوالے سکون سے زندگی گزار سکیں اور ہمارا ملک ایک بار پھر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے انشاء اللہ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں