کشمیر کی آزادی تکمیل پاکستان ہے ......آخری قسط
ـ 7 فروری ، 2012
حافظ محمد سعید ۔۔۔
ایسے گھمبیر اور سنگین حالات میں پاکستان کے ساتھ وفا وا یثار اور عقیدت و محبت کی داستانیں اپنے خون سے رقم کرنا کشمیری قوم کا ہی شیوہ وطیرہ ہے۔یہ وفا و جفا اور اصرار و انکار کا عجب معرکہ ہے۔ ایک طرف کشمیری قوم کی وفا ہے تو دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی جفا ہے۔ ایک طرف کشمیری قوم کی پاکستان کےلئے وابستگی و دلچسپی محبت و عقیدت ہے اور دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی عدم دلچسپی ہے۔ جس کا اظہار 2011ءمیں ہمارے حکمرانوں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات سے ہوتا ہے۔ اگر 2010ءمیں مقبوضہ وادی میں بھارتی حکمرانوں کا ظلم و ستم عروج پر رہا تو دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں نے بھی بھارت کو تجارت کیلئے پسندیدہ ملک قرار دیتے ہوئے سند محبت کی انتہا کر دی۔ یہ فیصلہ بھارت کیلئے یقینا پسندیدہ ہو سکتا ہے لیکن کشمیر ی اور پاکستانی قوم کیلئے انتہائی نا پسندیدہ ہے ۔ ابھی اس فیصلہ کے زخم تازہ تھے اور کشمیری قوم اس کشمیر دشمن فیصلہ کے صدمہ سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ پارلیمانی کشمیری کمیٹی نے اس فیصلہ کی توثیق کر کے کشمیریوں کو ایک اور گہرا صدمہ پہنچایا دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی ساری دلچسپی بھارت کا اعتماد حاصل کرنے اور اس کے ساتھ مفاہمت و مصالحت کی راہ ہموار کرنے تک ہے۔ بھارت کے ساتھ اعتماد سازی کا سب سے زیادہ کام پرویز مشرف دور میں ہوا جو ہمارے لئے سرا سر گھاٹے کا سودا ثابت ہوا ۔ بھارت کا اعتماد حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے حکمران کشمیری قوم کا اعتماد گنوا بیٹھے ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آ یا جب بھارتی حکمرانوں ، بھارتی دانشوروں اور بھارتی میڈیا کو 5فروری کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن بھی چھبنے لگا ۔ بھارتی میڈیا کھلم کھلا کہنے لگا کہ پاکستا ن میں 5فروری کے دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے پروگراموں سے اعتماد سازی کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔
5فروری کے دن ہونے والے پروگراموں پر بھارت کے اعتراض کا بد یہی اور یقینی مطلب یہ تھا کہ پاکستانی عوام کشمیر کا زبانی کلامی نام لینا بھی چھوڑ دیں اور کشمیر سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائیں ۔
یہ ہے برہمن کی جموں کشمیر کے بارے میں اصل سوچ ، فکر ، نیت اور ذہنیت۔ برہمن چاہتا ہے کہ ہم نہ صرف مقبوضہ جموں کشمیر بلکہ آزاد جموں کشمیر سے بھی دستبردار ہو جائیں۔ ہمیں یہ بات یقین سے جان لینی چاہیے کہ جموں کشمیر سے دستبرداری پاکستان کے وجود سے دستبرداری کے مترادف ہے۔ اگر خدا نخواستہ ہم جموں کشمیر سے دستبردار ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے ملک کا نام بھی بدلنا ہوگا ۔ اس لئے کہ ” پاکستان “کے نام میں ” ک“کشمیر کی نمائندگی کر رہا ہے۔ آج ہمیں افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے موجودہ حکمران بھی پرویز مشرف کی غلط روش نا مناسب طریقہ اور غلط پالیسی پر کار بند ہیں ۔ مسئلہ کشمیر جتنا سنگین ہے حکومتی سطح پر اتنی ہی بے حسی ہے ۔
کشمیر پاکستان کیلئے جتنا اہم ہے حکومتی سطح پر اسے اتنا ہی غیر اہم سمجھا جارہا ہے کشمیر جتنا زیادہ توجہ کا متقاضی ہے حکومتی سطح پر اتنا ہی اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس وقت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ساری تگ و دو ایام منانے تک ہے۔ کیا ہم نہیںجانتے کہ زندہ و بہادر ، غیور و خود دار، جفا کش وجانباز ، سر فروش و سرفراز اور با عمل قومیں ایام نہیں مناتیں بلکہ ایام سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہمیں سر فروشی و جانبازی اور ایام کی اہمیت کا سبق کشمیری قوم سے سیکھنا چاہیے ۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں جب 14اگست یوم آزادی کے طور پر 15اگست کو بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ اور 26جنوری یوم جمہوریہ یوم بربادی کے طو پر منایا جاتا ہے تو بھارتی حکومت ہل کر رہ جاتی ہے اور دہلی پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ سو ان حالات میںہمیں بھی بے عملی چھوڑ کر کشمیری قوم کی طرح عمل کی راہ پر چلنا ہوگا۔ عمل کی راہ یہ ہے کہ جب 2008ءمیں مقبوضہ وادی میں شرائن بورڈ کیخلاف تحریک چلی تو اس وقت قائد کشمیر ، سالار حریت اور نظریہ پاکستان کے علمبردار سید علی شاہ گیلانی نے مجھے مقبوضہ جموں کشمیر سے مٹی کی ایک پوٹلی اس پیغام کے ساتھ بھجوائی” یہ مٹی شہداءکے خون میں گندھی ہوئی ہے۔ اس مٹی میں شہیدوں کے خون کی خوشبو رچی بسی ہے۔ ہم پاکستانی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم شہداءکے خون سے بے وفائی نہیں کریں گے۔ ہم پاکستانی قوم اور حکمرانوں سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ آزادی کی کٹھن منزل اور پرخار راہوںمیںہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔
یہ ہے عمل کی راہ۔ یہ ہے کشمیری قوم کی ہم سے توقع ،آس اور امید‘ آج ہماری قوم اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے دلوں کو ٹٹولنا ہوگا اور اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہم اہل کشمیر کی ان توقعات پر پور ا اتر رہے ہیں ۔۔۔۔؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمیں یقین سے جان لینا چاہیے کہ پھر تکمیل پاکستان کی منزل دور نہیں اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر ہمیں اپنی اصلاح کرنا ہوگی ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں