کراچی میں امن کیوں نہیں

ـ 7 فروری ، 2010
جسٹس (ر) راجہ افراسیاب
تمام دنیا کے بڑے بڑے شہروں اور دارالخلافوں میں مثالی امن موجود ہے۔ ہمارے بدقسمت شہر کراچی میں جگہ جگہ بدامنی اور قتل و غارت ہے۔ پورے شہر کراچی میں خوفناک آگ لگی ہوئی ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی ایسا رہنما نظر نہیں آتا جو اس آگ کو بجھانے میں لگا ہُوا ہو‘ ہر کوئی لگی آگ میں تیل ڈالتا ہُوا نظر آ رہا ہے۔ یہ سب کچھ نفرت‘ تنگ نظری‘ جہالت‘ ملک دشمنی اور غداری کا نتیجہ ہے کہ ہم سب اس مکروہ اور گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ جرم کب ختم ہو گا ؟
یہ جرم اس وقت ختم ہو گا جب ہم سب ختم ہو جائیں گے اور خدانخواستہ ہمارا وطن عزیز تباہی کے منہ میں گر جائے گا۔ ہم سب حکمران‘ اپوزیشن جماعتیں اور بڑے بڑے سماجی اور لسانی لیڈر مل کر اس لگی ہوئی آگ کو دیکھ رہے ہیں اس آگ پر قابو پانے والا کوئی بھی آگے نہیں آ رہا۔ کیا ہم سب دیوانے ہو چکے ہیں؟ کیا ہم سب اپنے ہوش و حواس کھو چکے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں ہمارے دشمن ملکوں نے ہمیں تباہ کرنے کے لئے اپنی افواج کو ہمارے وطن کے اندر داخل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے؟
بالکل مجھے تو ایسے ہی نظر آتا ہے۔ جو کام دشمن نے کرنا تھا وہ کام تو ہم خود کر رہے ہیں۔ ہم خود اپنے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ خدا کے واسطے ہم سب ہوش کے ناخن لیں‘ ہم اپنے پر‘ اپنی اولاد اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں اور اس قتل و غارت کو ختم کر دیں۔ میں نے اپنے کسی کالم میں کہا تھا کہ وقت اب آ گیا ہے کہ ہم اپنے ہی عزیز و اقارب کے کفن دفن میں مصروف ہو جائیں ان کے ’’قل‘‘ اور ’’چہلم‘‘ کا اہتمام کریں ’’قرآن خوانی کا کام بھی تو ہم نے خود ہی کرنا ہے۔‘‘
دنیا میں ہمارے ’’پیارے کراچی‘‘ جیسے ہزاروں شہر موجود ہیں۔ وہاں بھی ان تمام قوموں کے لوگ اپنے بڑے بڑے شہروں میں آتے ہیں وہاں کاروبار کرتے ہیں‘ ملازمت کرتے ہیں تمام اکٹھے رہتے ہیں‘ مختلف زبانیں بولتے ہیں‘ ان کے اکثر لباس مختلف ہوتے ہیں کیا وہ بھی ہماری طرح اپنوں ہی کا قتل کرتے ہیں ایسے ہرگز نہیں ہوتا۔ وہاں تو امن و امان ہوتا ہے‘ بھائی چارہ ہوتا ہے‘ دوستی ہوتی ہے ہم ایسا کیوں نہیں کر رہے؟ ٹوکیو‘ بیجنگ‘ ماسکو‘ برلن‘ پیرس‘ نیویارک‘ واشنگٹن‘ نیو دہلی‘ کلکتہ‘ ڈھاکہ وغیرہ وغیرہ بے شمار بین الاقوامی شہر آپ کو ملیں گے وہاں تو کسی قسم کا دنگا فساد‘ لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔ کیا ہم کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں؟
ہمیں اپنے گرد و نواح کا بغور جائزہ لینا ہو گا‘ ہمیں پھر سے نئی پُرامن زندگی کا آغاز کرنا ہی ہو گا۔ عداوت و دشمنی کو ختم کرنا ہی ہو گا۔ ہمیں قائداعظمؒکے بھولے ہوئے سبق کو دوبارہ یاد کرنا ہو گا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا ’’پاکستان سب کا ہے۔ سندھی بلوچی‘ سرحدی (پٹھان) ‘ پنجابی‘ کشمیری سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ ہم میں کوئی بھی پنجابی‘ سندھی‘ بلوچی‘ پٹھان اور کشمیری نہ ہے ہم سب پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا مشترکہ سب کا ملک ہے اسی ملک میں ہم سب پیدا ہوئے ہیں اور اسی ملک کی سرزمین میں ہم نے دفن ہونا ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں ایک اللہ‘ ایک رسولؐ‘ ایک کتاب کو ماننے والے ہیں کوئی بھی مسلمان کسی بے گناہ کا قتل نہیں کر سکتا۔
آئیں ہم سب مل کر کشمیر کو اغیار کی غلامی سے آزاد کرائیں۔ آئیں ہم غربت‘ جہالت اور بے روزگاری کو ختم کریں۔ ہمارے کرنے والے یہی بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں ان کاموں کو ہم نے ہی کرنا ہے۔ آئیں ہم مل کر پاکستان کو ایک جدید اور انتہائی ترقی یافتہ ملک بنائیں اسی میں ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی نجات ہے۔ خدا نے ہمیں دنیا کا ایک بہت بڑا ملک دیا ہے۔ پاکستان وسائل سے بھرا پڑا ہے ان وسائل سے فائدہ اٹھانا ہمارا کام ہے۔ ہمارے اتحاد و اتفاق میں ہی ہماری خوشحالی کا راز پوشیدہ ہے۔ سوئے ہوئے حکمرانوں کو خود ہم نے بیدار کرنا ہے۔ آئیں ہم سب مل کر اس عظیم الشان کام کا آغاز کرتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں