تازہ ترین:

زندہ جاوید

سرور منیر رائو ـ 7 فروری ، 2010
تاریخ تو سبھی لکھتے ہیں لیکن تاریخ کی تاریخ لکھنے کا شرف دنیا کے بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا ہے۔ انہی میں سے ایک نام Historiography کے مصنف آرنلڈ ٹائن بی کا ہے۔ آرنلڈ سے کسی نے پوچھا کہ تم نے تاریخ کی تاریخ کیسے لکھ ڈالی؟ اس نے جواب دیا کہ میں اگر روایتی انداز میں اس کام کو کرتا تو میری پوری عمر بھی کم تھی۔ میں نے تحقیقی کام کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ بکھرے ہوئے مواد کو حاصل کر کے ایک الگ ’’فائل یا دراز‘‘ بنالیا، تحقیقی موضوع پر جو بھی مواد ملتا میں اسے الگ ’’دراز‘‘ میں ڈال دیتا۔ یہ عمل ایک تسلسل سے جاری رہا۔ جب فرصت ملتی تو اس مواد کا سرسری مطالعہ کرکے ضروری مواد کو خط کشیدہ کرکے اور درجہ بندی کے بعد دوسرے دراز میں رکھ دیتا۔ پھر Time Management کے اصول پر عمل کرتے ہوئے یکسوئی سے چنیدہ مواد کی بنیاد پر سکرپٹ کی تحریر کا کام شروع کر دیا جاتا۔ اس کا کہنا تھا کہ اچھی تحقیق کرنے اور اچھی کتاب لکھنے کیلئے اس ا صول پر عمل ضروری ہے اور یہ تینوں عمل یا مرحلے تحقیقی ایام میں ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہئیے۔ اس کا کہنا ہے اگر آپ یہ سوچیں کہ پہلے پورا مواد جمع کر لوں پھر تحریر کا کام شروع کرونگا تو ٹائن بی کے بقول آپ پوری عمر میں شاید ایک بھی اچھا تحقیقی کام نہ کر سکیں گے۔
پاکستان میں بھی ایسی چند شخصیات ہیں جنہوں نے تحقیقی کاموں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ یہ لوگ بظاہر گم نام ہیں لیکن علمی تاریخ میں ان کام زندہ جاوید ہے۔ کچھ لوگ تو ’’اب لالہ و گل میں نمایاں‘‘ ہو گئے لیکن آج کے دور میں بھی ایک شخصیت ایسی ہے جو 82 سال کی عمر میں بھی تحقیقی اور علمی کام میں اسی طرح مصروف ہے جیسے وہ جوانی میں تھی اس قابل رشک ہستی کا نام سید قاسم محمود ہے۔ ملک کے ممتاز ادیب، مصنف، مدیر، مترجم، ناشر اور اسلامی انسائیکلوپیڈیا کے خالق سید قاسم محمود کی زندگی کے ابتدائی ایام بہت حد تک پاکستان کے قومی ترانے ’’پاک سر زمین شاد باد‘‘ کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری سے ملتے جلتے ہیں۔ قومی ترانہ اور شاہ نامہ اسلام لکھنے والے حفیظ جالندھری نے پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی تعمیر میں ایک مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے اینٹیں اٹھائیں۔
سید قاسم محمود نے اپنی عملی زندگی بطور ’’لکڑہارا‘‘ شروع کی۔ محکمہ بجلی کے لائن مینوں کا سیڑھی بردار بھی رہے۔ اخبار فروشی اور چپڑاسی کی حیثیت سے بھی محنت مزدوری کر کے گزر اوقات کی، لیکن علم کے حصول کی لگن اور انکی ترویج کے عمل کوہرحال میں فوقیت دی۔ جز وقتی نوکریوں کیساتھ ساتھ ریلوے کے بک سٹال، ہفت روزہ قندیل، روزنامہ امروز اور نوائے وقت میں بھی کام کیا اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا، ادیب عالم، ادیب فاضل اور بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ مینار پاکستان پر نصب یاد گار تختیوں کی تصنیف و تالیف اور نقش گری کے کام میں بھی شامل رہے۔ بے بی انسائیکلوپیڈیا، انسائیکلوپیڈ یا ایجادات، انسائیکلو پیڈیا فلکیات، انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا، انسائیکلو پیڈیا سیرت، انسائیکلو پیڈیا احیائے اسلام، انسائیکلوپیڈیاقران کی تصنیف و تدوین بھی کی۔
سیدقاسم محمود نے جن نامور کتابوں کے ترجمے کیے ان میں ولیم شکسپئیر کے ڈرامے، میکتھ اوتھیلو، ہیملٹ اور جولیس سیزر کے علاوہ، ٹالسٹائی، موپا ساں، دوستووسکی، ایملی برونٹی، چارلس ڈکنز، جان گالز وردی، جان ماسٹرزکے ناول، ڈارون، فرائیڈ، ڈاکٹر روتھ بینی ڈکٹ، ٹی ایس ایلیٹ اور ڈاکٹر کینتھ واکر کے علمی اورتحقیقی مقالات کے تراجم بھی کیے۔ انکی یہ تمام تر کاوشیں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ سید قاسم محمود نے اسلامی انسائیکلو پیڈیا لکھ کر پاکستان کی آئندہ نسلوں کیلئے ایک ایسا تحقیقی کام کیا ہے جو انہیں زندہ و جاوید کر گیا ہے۔ سید قاسم محمود کی خدمات کو مولانا ابوالحسن ندوی، ڈاکٹر اسراراحمد، ڈاکٹر طاہر القادری، ڈاکٹر غلام علی الانہ، مرزا ادیب، ڈاکٹر وحید قریشی، رئیس امروہوی، انتظار حسین، مولانا کوثر نیازی، جمیل الدین عالی، مولانا صلاح الدین مرحوم نے جس انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے اس کیلئے انکی کتابوں اور شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا کی ورق گردانی ضروری ہے۔ سید قاسم محمود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’جو کام بڑی بڑی جماعتوں کے کرنے کا تھا وہ کام فرد واحد نے انجام دیا‘‘۔
اب وہ بات کہ جس کا ذکر سارے فسانے میں نہ تھا کے مصداق یہ سوال ہمارے ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ ایک انسان جس نے اپنی زندگی کا آغاز جسمانی مزدوری سے کیا لیکن ذہنی کاوشوں کی بدولت وہ علم و ادب میں کس طرح زندہ جاوید ہو گیا۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو 82 سال کی عمر اور پیرانہ سالی کے با وجود علم و ادب اور تربیت نسل کی بھر پور خدمت انجام دے رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ اس بات کے مستحق نہیں کہ پاکستانی قوم اور حکومت انہیںخراج تحسین پیش کرے۔ سید قاسم محمود جیسے لوگ قوموں کی میراث ہوا کرتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنا حق ادا کیا ہے بلکہ ایسے چراغ روشن کیے ہیں جو آئندہ نسلوں کیلئے ہمت اور رہنمائی کی علامت بن گئے ہیں۔
یہ بات کس قدر قابل تاسف کی ہے کہ ایسی شخصیت کو نہ تو کبھی وفاقی اور صوبائی حکومت نے کسی اعزاز سے نوازا ہے اور نہ ہی قومی میڈیا نے ان زندہ و جاوید لوگوں پر کوئی خصوصی پروگرام ترتیب دیا۔ علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا کہ…؎
زندہ فرد از ارتباط جان و تن
زندہ قوم از ارتباط حفظ و کہن
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں