5؍ فروری … یوم یکجہتی کشمیر
ـ 5 فروری ، 2010
سید منور حسن (امیر جماعت اسلامی پاکستان) ............
مسئلہ کشمیر کسی خطہ زمین کا تنازع نہیںبلکہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِخود ارادیت کا مسئلہ ہے، کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی آزاد مرضی سے کریں۔ بھارت کی رضامندی سے منظور کی گئی اقوام متحدہ کی قراردادیںپاکستان کو مسئلہ کشمیر کا فریق تسلیم کرتی ہیں اورکشمیریوں کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ استصواب کے ذریعے دونوں ملکوں میں سے جسکے ساتھ چاہیں الحاق کرسکتے ہیں۔افسوس کہ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان قراردادوں پرعمل نہیں ہو سکا ہے، شاید اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ اگر ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے قبضے پر مصر ہے تو اقوام متحدہ کے چارٹر کیمطابق جدوجہد آزادی کشمیری عوام کا حق،اور ایک فریق ہونے کے ناتے کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدداور اس جدوجہد کی تائید کرنا پاکستان کا فرض ہے۔
حق خود ارادیت ایک ایسا حق ہے جسے دنیا کا ہرقانون تمام انسانوں کیلئے یکساںطور پر تسلیم کرتا ہے لیکن کشمیریوں کا یہ حق سلب کرلیا گیا ہے۔ سات لاکھ سے زائد ہندوستانی فوج مظلوم کشمیریوں کو کچلنے اور ان کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے ہر ہتھکنڈہ آزما رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال ہورہے ہیں۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو زیر حراست شہید کیا جارہا ہے، املاک کو تباہ کیا جارہاہے، عفت مآب خواتین کی عصمت محفوظ نہیں ہے۔ اور یہ سلسلہ گذشتہ ۲۶سال سے جاری ہے لیکن کشمیریوں نے صبر و استقامت کی نئی داستان رقم کی ہیں اور حوصلے کے ساتھ تمام مظالم کو برداشت کیا ہے ۔ کسی مرحلے پر بھی ان کی آواز دبی ہے نہ قدم ڈگمگائے ہیں ۔چودہ اگست کویوم پاکستان ہو یا پانچ فروری کویوم یکجہتی کشمیر، ہر موقع پر کشمیری نوجوان، بچے بوڑھے، مردوخواتین پورے عزم کے ساتھ میدان میں نکلتے ہیں، احتجاجی مظاہرے کرتے اور ریلیاں نکالتے ہیں،ان کی زبانوں پر آزادی اور پاکستان کامطلب کیا لاالہ الا اللہ کے نعرے ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام نے اپنے جان و مال کے نذرانے پیش کر کے آزادی کی تحریک زندہ رکھی ہوئی ہے۔
اہل کشمیر نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے تمام پُرامن طریقے آزمائے،کبھی انتخابات میںحصہ لے کر اورکبھی اس کا بائیکاٹ کر کے اپنی آواز بلند کی، کبھی بات چیت کا سہارا لے کر اور کبھی بھارت کے جھوٹے وعدوں کو بے نقاب کرکے اس مسئلے کو اجاگر کیا لیکن جب کوئی نتیجہ نہ نکلا توبالآخر انھوں نے 1989ء میں جدوجہد آزادی کا آغاز کیا،اور اب تک لاکھوں شہداء اور زخمیوںکی قربانی کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ مسلح جدوجہد کے بعد جب بھارتی مظالم میں اضافہ ہو ا اور مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی بڑی تعدادنے آزاد کشمیر کا رخ کیاتوجماعت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ان کی میز بانی کی اوراس کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے کشمیر میں ہونے والی بے انصافی اور مظالم کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کو پاکستانی قوم کی مکمل حمایت کا یقین دلانے کے لیے 5فروری 1990ء کو’یوم یکجہتی کشمیر‘ منانے کااعلان کیا۔ جماعت اسلامی کی کال پرحکومت پاکستان اورقوم کے تمام طبقات نے لبیک کہا۔ 1990ء سے اب تک ہر سال 5فروری کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر یہ دن منایا جاتا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری اور دنیا بھر میں پھیلے انصاف پسند لوگ بھارتی ظلم کا شکار اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ اس یوم یکجہتی کے ذریعے ہمارے مظلوم کشمیر ی بھائیوں کو یہ حوصلہ ملتا ہے کہ وہ اس ظلم وبربریت کے سامنے اکیلے نہیں ہیں۔پاکستانی قوم ان کی پشت پر ہے۔الحمد للہ جماعت اسلامی نے ہر مرحلے پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و محکوم بھائیوں کو یاد رکھاہے او رپوری پاکستانی قوم کو تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر کھڑا کیا ہے۔
بدقسمتی سے بھارت کی شکل میں ایک ایسا ہمسایہ ہمارے پڑوس میں موجودہے جس نے ابھی تک ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کیا، جس نے ہم پرتین جنگیں مسلط کی ہیں اور وطن عزیزکو دوٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کی چیرہ دستیاں اب بھی جاری ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی اور بلوچستان اور صوبہ سرحد کے حالات کی خرابی میں بنیادی طور پر بھارت کاہاتھ ہے۔ وہ ان علاقوں میں پیسہ تقسیم کر رہا ہے، تربیت یافتہ دہشت گرد بھیج رہا ہے، افغانستان میں اسکے قونصل خانے دہشت گردی کی ٹریننگ کے مراکز کا کام کررہے ہیں۔ اس نے پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کیلئے کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر باسٹھ ڈیم بنائے ہیں اور دریائی پانی روک کر مسلسل آبی جارحیت کا مرتکب ہورہاہے ایسے دشمن کیلئے آصف زرداری صاحب نے منصب صدارت سنبھالتے ہی فرمایاکہ ’’بھارت سے ہمیںکوئی خطرہ نہیں ہے۔ ‘‘بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کریہ کہاکہ ’’ ہر پاکستانی کے دل میں ایک چھوٹا سا ہندوستان بستا ہے۔‘‘
امریکی دباؤ پر تیس ہزار پاکستانی فوج مشرقی بارڈر سے اس عالم میں ہٹا ئی گئی کہ وہاںبھارت اپنی فوجی اور جنگی مشقیں کررہاتھا۔ یہ تو بمبئی سانحے نے مصنوعی دوستی کا پردہ چاک کردیا ورنہ بعید نہیں تھا کہ جناب صدر ہر پاکستانی کے دل میں پورا ہندوستان ہی بسا دیتے۔
بمبئی سانحے کو کچھ عرصہ گزرا ہے تو دوبارہ مذکرات اور اعتماد سازی کی بات ہورہی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ اس حوالے سے بہت بیتابی کا مظاہرہ کررہے ہیں حالانکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ اس یکطرفہ خواہش کا انجام بھی گزشتہ تجربات سے مختلف نہیں ہوگا۔ بھارت کے ساتھ بے معنی مذاکرات کا عمل گزشتہ ساٹھ سال تک پھیلا ہوا ہے،اور پچھلے آٹھ نو سال تو مسلسل مذاکرات کی میز بچھی رہی ہے،کمپوزٹ ڈائیلاگ،اعتماد سازی کے اقدامات۔ لیکن اس عرصے میںکسی منتخب وزیر اعظم یا فوجی آمرکی طرف سے پارلیمنٹ یا قوم کو نہیں بتایاگیاکہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہم نے کیا کھویااورکیا پایا ہے۔ کوئی بیلنس شیٹ پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوسکا۔اس لیے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ہے،بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے معاملہ جہاں تھا وہیں رکاہواہے ۔ اعتماد سازی کا حال یہ ہے کہ آٹھ سالہ مذاکرات کے بعدجب بمبئی کے اندر واقعہ پیش آیا تو ہندوستان میں ساری انگلیاں پاکستان کی طرف اٹھ گئیں، سارا ملبہ ریاست پر گرادیا گیااور کہا گیا کہ پاکستان اس دہشت گردی کا مرتکب ہے۔ گزرے باسٹھ سال اس بات کے شاہد ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی برادری کی کمٹمنٹ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیے بغیر پاک بھارت مذاکرات کبھی کامیاب ہوہی نہیں سکتے۔کشمیر کو پس پشت رکھ کر جو بھی مذاکرات اور اقدامات ہوں گے، ان کی حیثیت محض دکھاوے اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
کشمیریوں کی تحریک آزادی سا لمیت پاکستان اور استحکام پاکستان کی تحریک ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر کشمیر پالیسی واضح کی جائے اوردنیا کو بتایا جائے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ہے۔ چین نے حال ہی میں کشمیر کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ہے ، اس سے بھارت کوتو خاصی پریشانی ہوئی ہے لیکن پاکستانی حکومت اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ حکومت آگے بڑھ کر چین کے اس مؤقف کا خیر مقدم کرے اور اس موقف کو آگے بڑھانے اور دیگر حکومتوں کو ایسے اقدام کے لیے آمادہ کرنے کے لیے بھرپور سفارتی مہم چلائے ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں