تحریک آزادی ٔ کشمیر … قربانیوں کی لرزہ خیز داستان … (۱)
ـ 5 فروری ، 2010
ساجد حسین ملک ..........
کشمیر ہمیشہ سے پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ رہا ہے۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ پاکستان کے نام میں جوحرف ’’ک‘‘ ہے اس کا اشارہ کشمیر کی طرف ہے گویا کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے اور کشمیر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہوتا۔ پاکستان کیلئے کشمیر کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1947-48ء اور 1965ء میں جنگیں ہو چکی ہیں 1999ء میں کارگل کی معرکہ آرائی بھی کشمیر کی وجہ سے ہوئی پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات قائم نہ کئے جا سکنے کی بڑی وجہ بھی کشمیر کا تنازعہ ہے۔ آخر کشمیر کا مسئلہ کیا ہے اور یہ کیوں پاکستانیوں کیلئے زندگی اور موت کا معاملہ نیا ہوا ہے؟ پاکستانی ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں تو اس کا مقصد کیا ہے؟ اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیری آج تک اپنی جدوجہد آزادی میں کامیاب نہیں ہو سکے اس کی وجہ کیا ہے اور کیسے اس کا دوش دیا جا سکتا ہے ان سارے سوالوں کے جواب میں ہمارے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ ان کو سامنے رکھ کر ہی ہم کشمیریوں کی لازوال جدوجہد آزادی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
ریاستہائے جموں و کشمیر و گلگت و لداخ کا علاقہ ہمیشہ سے مسلم اکثریتی علاقہ رہا ہے ہندوستان میں مسلمانوں کے طویل دور حکمرانی کے دوران کشمیر برصغیر کے باقی علاقوں کی طرح اسلامی سلطنت کا ایک حصہ رہا۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب ہندوستان میں مغلوں کی برائے نام حکومت بھی ختم ہونے لگی اور انگریزی ہندوستان پر اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب ہو گئے تو مارچ 1846ء میں انگریزوں نے ’’معاہدہ امرتسر‘‘ کے تحت کشمیر‘ لداخ اور گلگت کے علاقے 75 لاکھ روپوں کے عوض ہندو ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دئیے۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے کشمیر کے اسی سودے کے بارے میں کیا تھا؎
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
قوم بیچ دی گئی اور کتنی سستی بیچی گئی۔ معاہدہ امرتسر کے نتیجے میں ڈوگرہ راجہ کشمیر کا مالک بن گیا اور اس کا خاندان جموں و کشمیر اور گلگت و لداخ کے عوام کو زرخرید غلام سمجھ کر یہاں حکومت کرنے لگا۔ ظلم و ستم اور جورو جفا کا ایک بازار گرم تھا اور کشمیری مسلمان جو کشمیر کی کل آبادی کا دو تہائی سے زیادہ حصہ تھے ڈوگرہ حکمرانوں اور ان کے کارندوں کے ظلم و ستم کا نشانہ تھے۔
جبرو استیداد کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کے انگریزوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ہندوستان کو چھوڑ دیں۔ 3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ ہندوستان کو دو آزاد ریاستوں پاکستان اور بھارت میں تقسیم کر دیا جائے ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل ہوں گے اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی نیم خود مختار ریاستوں کو جن کی تعداد 564 تھی اور جو براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت تھیں یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی جغرافیائی حیثیت یعنی محل وقوع اور اپنے عوام کی خواہشات کا خیال رکھتے ہوئے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکیں گی یا اپنی نیم خود مختار حیثیت برقرار رکھ سکیں گی لیکن کشمیری مسلمان تقسیم ہند کے منصوبے کی منظوری سے قبل 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے ساتھ ہی اپنے عظیم قائد رئیس الاحرار چودھری غلام عباس کی قیادت میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق کی پرخوش اور پرزور تحریک شروع کر چکے تھے جس کا ہندو کانگریسی رہنماؤں اور کشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کو سخت صدمہ تھا۔
کشمیر کا ڈوگرہ ہندو حکمران مہاراجہ سری سنگھ جو پہلے ہی کشمیری مسلمانوں سے شدید نفرت رکھتا تھا کشمیری مسلمانوں کی آزادی کیلئے شروع کی جانے والی اس تحریک کی بنا پر مسلمانوں کا اور بھی سخت دشمن بن گیا وہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کسی صورت میں نہیں چاہتا تھا لیکن وہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں بھی نہیں تھا تاہم ہندوستان کے آخری انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن جس نے بعد میں بھارت کے پہلے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا اور ہندو کانگرسی رہنماؤں کے منصوبے کچھ اور تھے۔ انہوں نے اپنے منصوبوں کی تکمیل کیلئے پاکستان اور بھارت کی آزاد مملکتوں کے درمیان سرحدوں کے تعین کیلئے قائم باؤنڈری کمیشن ’’ریڈ کلف ایوارڈ‘‘ کے انگریز سربراہ ریڈ کلف کو اپنے آلہ کار بنا جس نے پاکستان کے ساتھ صریحاً زیادتی کرتے ہوئے انتہائی بدنیتی سے مشرقی پنجاب کا گورداسپور کا مسلم اکثریتی ضلع بھارت میں شامل کرنے کیلئے فیصلہ کیا اس طرح بھارت کو جموں و کشمیر کے ساتھ مستقل زمینی راستہ حاصل ہو گیا کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کسی صورت میں بھی کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں نہیں تھی ان کی نمائندہ جماعت ’’آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس‘‘ نے 19 جولائی 1947ء کو واضح لفظوں میں یہ مطالبہ کیا ’’چونکہ جغرافیائی‘ مذہبی‘ تاریخی اور ثقافتی ہر لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اور گلگت و لداخ کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو۔ لہٰذا مہاراجہ ہری سنگھ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر اس نے اس کے برعکس کوئی فیصلہ کیا تو کشمیری عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘‘
دوسری طرف مہاراجہ ہری سنگھ پر ہندوستان کے آخری وائسرائے اور بھارت کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگرس کے اہم ترین رہنماؤں پنڈت نہرو‘ گاندھی جی اور سردار پٹیل وغیرہ کا شدید دباؤ تھا کہ وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بجائے بھارت کے ساتھ اسکے الحاق کا اعلان کرے۔ مہاراجہ نے مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ بنایا چنانچہ مہاراجہ کی فوج‘ ریاستی پولیس‘ ڈوگرے اور ہندو انتہا پسند جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈے نہتے کشمیری مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہو گئے۔ اس دور کے ایک انگریز اخبار نویس مسٹر آہن سٹیفن کے مطابق اکتوبر 1947ء تک جموں و کشمیر میں پانچ لاکھ کشمیری مسلمانوں کی آبادی کو ختم کردیا گیا۔ دو لاکھ مسلمان تہ تیغ کئے گئے اور تین لاکھ مسلمان مہاجر بنا کر گھروں سے نکال دئیے گئے۔ مسلمانوں کے اس بہیمانہ قتل عام اور ان کو کشمیر سے نکالنے کیخلاف پونچھ‘ راولاکوٹ‘ باغ‘ میرپور‘ مظفر آباد اور گلگت وغیرہ میں مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مہاراجہ کی وفادار ریاستی فوج سے باقاعدہ لڑائی شروع کر دی کشمیر کے کچھ علاقے ڈوگرہ تسلط سے آزاد کروا لئے گئے اور 24 اکتوبر 1947ء کو جموں و کشمیر کی آزاد حکومت کا اعلان کر دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ پر بھارتی حکمرانوں کا سخت دباؤ تھا چنانچہ اس نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا۔ بھارت نے اپنی مسلح افواج کشمیر میں بھیج دیں۔ پاکستان کو بھی کشمیری مجاہدین کی مدد کیلئے اپنے مسلح دستے کشمیر میں بھیجنے پڑے۔ اس طرح پاکستان کے قیام کے چند ہی ماہ بعد پاکستان کو بھارت کے ساتھ برسرپیکار ہونا پڑا۔
بانی پاکستان حضرت قائداعظم چاہتے تھے کہ پاکستان کی فوج کشمیر میں پیش قدمی کرے اور سری نگر پر قابض بھارتی افواج کو نکالنے کیلئے بھرپور اور جاندار کارروائی کرے لیکن مسلمانوں کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ انہیں اپنے کسی حکمران‘ کسی مقتدر حکومتی عہدیدار اور میر جعفر و میر صادق جیسے غداروں کی وجہ سے ایسی بدتر صورت حال کا سامنا کرنا پڑاتا رہا ہے کہ وہ اسکے نتائج صدیوں تک بھگتتے رہتے ہیں یہی حال کشمیر میں ہوا اس وقت کے پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے کشمیر میں پیش قدمی کیلئے قائد کے فرمان پر عمل کرنے سے معذرت کر لی اور بھارت کو کشمیر میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع مل گیا بھارت نے ایک طرف کشمیر میں اپنے پاؤں جمالئے اور دوسری طرف وہ یکم جنوری 1948ء کو کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ کی مداخلت سے کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی اقوام متحدہ نے 17 جنوری 1948ء کو اپنی قرارداد میں کشمیریوں کیلئے استصواب کے حق کو تسلیم کیا یعنی کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اس بات کا موقع ملے گا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے جس کیساتھ چاہیں الحاق کا فیصلہ کریں بعدازاں 21 دسمبر 1971ء تک اقوام متحدہ میں مختلف اوقات میں کشمیر کے حوالے سے 53 قراردادیں منظور ہوئیں جن میں کشمیریوں کیلئے استصواب کے حق کو تسلیم کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ بھارت شروع میں کشمیریوں کیلئے استصواب کے حق کو تسلیم کرتا رہا لیکن ساتھ ہی ٹال مٹول اور حیلہ سازی سے بھی کام لیتا رہا۔ 1955ء کے بعد اس نے بھارت کو کشمیر کا حصہ دار اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کر دیا پاکستان بہرکیف اس موقف پر قائم رہا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔
کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے بھارت اور پاکستان کے درمیان مختلف اوقات میں مذاکرات کے کئی دور بھی چلتے رہے۔ 1966ء میں معاہدہ تاشقند میں کشمیر کا مسئلہ چھایا رہا 1972ء میں شملہ معاہدہ کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت تنازعات کے حل کیلئے دوطرفہ بات چیت اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی بات طے پائی۔ پاکستان کشمیر کے بارے میں اپنے اس دیرینہ اصولی موقف کے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب کے ذریعے انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے سے ہٹ کر بھی بھارت سے دوطرفہ مذاکرات اور بات چیت کرتا رہا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی میں ذرا برابر بھی فرق نہیں آیا ہے وہ اگر ایک طرف مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو اس کے ساتھ ہی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ بھی لگائے رکھتا ہے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں