کشمیر ہی بنیادی تنازعہ ہے
ـ 5 فروری ، 2010
مرزاصادق جرال..............
تحریک آزادی کشمیر 1947ء بلکہ اس سے بھی قبل ڈوگرہ استبداد کیخلاف اہل کشمیر کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بنیادی اصولوں اور فارمولے کو نظر انداز کر کے بھارتی قیادت اور برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کشمیر سے سازباز کر کے الحاق کی ایک نام نہاد دستاویز کے تحت کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا تو ریاست میں عَلم جہاد بلند ہوا اور جدوجہد آزادی کشمیر برق رفتاری سے کھڑی ہوئی۔ پاکستان کی کشمیر سے ناصرف سماجی‘ اخلاقی‘ جذباتی اور انسانی وابستگی ہے بلکہ برصغیر تقسیم کے بنیادی اصولوں اور فارمولے کے تحت اسے پاکستان کا اٹوٹ انگ کہا جاتا ہے۔
پاکستان کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ خطہ کشمیر کے لوگوں کو آزادی کیساتھ زندہ رہنے اور زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔ بھارت نے کئی لاکھ فوج جنت نظیر میں تعینات کر کے غاصب ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا اور ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے ہیں جن کو دیکھ اور سُن کر روح کانپ جاتی ہے۔ 1990ء سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں نے راہِ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ سینکڑوں مظلوم کشمیریوں کو زخمی کیا گیا۔ ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں تار تار کی گئیں لیکن عالمی ادارے محض تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے۔ اپنی زبانیں اور آنکھیں بند رکھیں جیسے وہ گونگے اور اندھے ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کیلئے پاکستان کی جدوجہد کسی طور بھی فراموش نہیں کی جا سکتی اور ہر حکومت نے اپنے طور پر ممکنہ کوششیں کیں‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اسکے بعد 5 فروری 1991ء میں میاں نواز شریف کے دور حکومت میں اپوزیشن سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے عوامی سطح پر یوم یکجہتی کشمیر منایا اور مظلوم کشمیریوں کیساتھ بھرپور اظہار ہمدری کیا۔ یہ دن گذشتہ 19 سال سے بالترتیب منایا جا رہا ہے اور بین الاقوامی اداروں میں مسئلہ کشمیر فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
پاکستان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ کمشیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوشش میں ان کو ان کا جائز حق ملے۔ اس سلسلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف سطح پر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا اس وقت کی فضا میں یہی بات زیادہ اہم تھی کہ اسلام آباد اور دہلی کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط بحال ہوں اور امن کوششوں کا آغاز ہو ‘ اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے مخلتف تجاویز پیش کی گئیں جس میں کشمیر سے فوجوں کا انخلا اور سیلف گورنس کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ اسکے جواب میں بھارت نے ایسے ا قدام اٹھائے جن کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان کو بدنام کرنا تھا تاکہ مسئلہ کشمیر سرد خانے میں چلا جائے اور تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کیا جائے اور مذاکرات کا عمل بھی بھارت کے نزدیک محض وقت گزارنا تھا اور دوسری طرف تنازعات کو طے کرنے کیلئے وہ سنجیدہ نہیں تھا۔ امن اور دوستی کے جتنے اقدامات کئے گئے وہ اپنی جگہ درست ہیں مگر بھارتی قیادت کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ کشمیر ہی وہی بنیادی تنازع ہے جس نے دوسرے بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے۔ اس حقیقت کو کسی طور پر نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکتا دونوں ملکوں کے درمیان مستقل امن قائم نہیں ہو سکتا اور اعتماد سازی کے تمام اقدامات کی حیثیت ریت پر بنے ہوئے محل جیسی ہے جنہیں کوئی معمولی سا جھٹکا زمین بوس کر سکتا ہے۔ دونوں ملک تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اگر معاملات کو بہتری کی طرف لے جانے کی کوشش نہ کی جائے تو وہ ابتری کی طرف جانے لگتے ہیں۔ نئی دہلی اور اسلام آباد جنگوں کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں اس لئے پُرامن بات چیت ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے کسی فیصلے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ جنگ کی صورت میں بھی مذاکرات ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ بھارتی قیادت کو دونوں ملکوں میں عوامی سطح پر پائے جانے والی فضا سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا‘ سازگار موقع کو بروقت استعمال نہ کیا جائے تو ان کا ضائع ہونے کا احتمال رہتا ہے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کیلئے ہر ممکن لچک دکھائی ہے پاکستان نے ایسی مثبت اور قابل عمل تجویز پیش کی ہیں جن پر دونوں ملکوں کی قیادتیں غور کر کے ایسے فیصلوں تک پہنچ سکتے تھے جو پاکستان اور بھارت دونوں کیلئے قابل عمل ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہوں۔ پاکستانی تجویز بات چیت کو آگے بڑھانے کا عین نقطہ بن سکتی تھی تاہم بھارت کو ان پر کسی پیشرفت میں اعتزاض تھا تو وہ اپنی تجویز پیش کر سکتا تھا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ایسے اقدامات بھی کرتا جن سے امن و استحکام کی خواہش کا عمل ظاہر ہو بلکہ ساڑھے سات لاکھ کے لگ بھگ بھارتی فوج ریاست میں موجود ہیں جموں و کشمیر میں ایسے حالات پیدا کرنے ضروری میں جن سے عوام کے مصائب کم ہوں اور وہ یہ محسوس کریں کہ بھارتی حکمران پانی ضد چھوڑ کر واقعی مسئلے کے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان اپنی طرف سے جس حد تک لچک دکھا سکتا تھا دکھا چکا اب نئی دہلی کی باری ہے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرے دونوں ممالک جس سرنگ میں طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں ان سے باہر نکلنے کیلئے سیاسی عزم اور جرأت کی ضرورت ہے۔ بھارتی قیادت و خطہ میں امن و استحکام اور خوشحالی کا نیا دور شروع کرنے کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ کشمیری عوام پاکستانی قیادت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور وہ اس کو مقدمہ کشمیر کا سچا اور مخلص وکیل سمجھتے ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے جتنے بھی اقدامات کئے ہیں وہ انہیں درست سمت نہیں دیکھتے‘ یکطرفہ خیرسگالی سے بہتر نتیجہ نظر نہیں آتا۔ لہٰذا ہمیں بھارت سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ مذاکرات کو طول دیکر بالآخر مذاکرات اس موقع پر ختم کر دیتا ہے جب حالات اسکے حق میں سازگار ہوتے ہیں‘ اس لئے ہمیں اپنے پرانے مؤقف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں