کشمیر بنے گا پاکستان
ـ 4 فروری ، 2012
پروفیسر نعیم قاسم
برصغیر میں انگریزوں کے دور حکومت میں ریاست جموں کشمیر کا بھی اُن پانچ سو ریاستوں میں شمار ہوتا تھا جہاں کسی حد تک انگریزوں کے تابع نیم بادشاہت قائم تھی اورکسی حد تک ریاست اندرونی معاملات میں فیصلے کرنے کیلئے خود مختار تھی جون میں 1947 کی آزادی ایکٹ کے تحت ان ریاستوں پر انگریزوں کی عملی حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا توآئینی طورپر تو یہ ریاستیں انگریزوں کی عملداری سے آزاد ہوگئیں مگر 25 جولائی 1947کوگورنر جنرل ماﺅنٹ بیٹن نے ان ریاستوں کے سربراہان کو نصیحت کی کہ پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی ایک ڈومینن (ریاست) کےساتھ الحاق اختیار کریں۔
ماﺅنٹ بیٹن نے ان خود مختار ریاستوں کے حکمرانوں کو ایسا کیوں کہا اسکے پیچھے انڈین کانگریس کا وہ مطالبہ تھا جو اُس نے تین جون کو کشمیر پر قبضہ کرنے کی خاطر ماﺅنٹ بیٹن کو پیش کیا۔اس ناپاک منصوبے کے تحت آسام، بنگال اور پنجاب کو تقسیم کردیا گیا۔تمام نیم خود مختار ریاستیں سوائے حیدرآباد، جموں و کشمیر اور جونا گڑھ کے علاوہ باقی تمام ریاستیں ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہوگئیں مگر حیدرآباد کے نظام نے آزادی کی خواہش کی مگر اُسکی ریاست پر 1948 میں ہندوستان نے قبضہ کرلیا۔
اسی طرح جب جونا گڑھ کے مسلمان حکمران نے 15اگست 1947 کوپاکستان کےساتھ الحاق کا اعلان کیا تو ہندوستان اس ریاست میں بھی فوراً اپنی فوج بھیج کر قبضہ کرلیا حالانکہ پاکستان نے کشمیری عوام کی رائے جاننے کیلئے اس پر رائے شماری کی تجویز دی تھی مگر اسکے برعکس جب کشمیر کے ہندو راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کےساتھ منسلک ہونے کی درخواست کی تو نہرو نے فوراً اسکو مان لیا جو کہ اُسی اصول کی صریحاً خلاف ورزی تھی جو کانگریس کے مطالبے کی بنیاد تھا کہ جس ریاست میں عوام کی اکثریت یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ اُسے پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونا ہے آزادی کے وقت جموں اور کشمیر کی کل آبادی40 لاکھ تھی جس میں 77فیصد اکثریت مسلمانوں کی تھی جبکہ کشمیر وادی میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 92 فیصد تھا اور پورے کشمیر میں پاکستان کی آزادی پر بھرپور جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا گیا اور مسلمانوں نے اپنے اپنے گھروںکی چھتوں پر پاکستان کے جھنڈوں کو لہرادیا مگر نہرو اور ماﺅنٹ بیٹن کی ملی بھگت سے ریڈ کلف نے جو کہ پنجاب باﺅنڈری کمشن کا چیئر مین تھا‘ صریحاً بد دیانتی سے گورداس سپور ضلع کی دو مسلم اکثریت کی تحصیلیں ہندوستان کو دے دیں اور یہیں سے ہندوستان میں شامل سکھوں کی ریاستیں پٹیالہ اور کپور تھلہ کے سکھ حکمرانوں نے اپنی فوجیں کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے الحاق روکنے اور انکو کچلنے کیلئے بھیج دیں۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کے دلوں میں بھارتی سکھوں کیلئے بڑی کشادگی ہے مگر سکھوں نے آزادی کے وقت پنجاب اور کشمیر کے مسلمانوں کے قتل عام میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑدی تھی۔ اگر ماسٹر تارا سنگھ قائداعظمؒ کی بات مان لیتا تو پنجاب تقسیم نہ ہوتا‘ نہ ہی کشمیر پر ہندوستان فوج کشی کرنے کی پوزیشن میں ہوتا‘ نہ آج ہندوستان کے سکھ تیسرے درجے کی شہری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے اور نہ ہی بھارتی فوجیں اُنکے مقدس گوردوارہ گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی کرتےں اور آزادی کا مطالبہ کرنےوالے سکھوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارتےں مگر یہ تو قدرت کے مکافات عمل کا ایک حصہ ہے۔
قارئین! پنجاب کی ان تحصیلوں کے ذریعے ہی ہندوستان کی آر ایس ایس اور ڈوگرا فوجیں کشمیر کے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئیں چنانچہ اسکے نتیجے میں کشمیر میں ہنگامے شروع ہوگئے۔ کشمیر وادی میں سے دو لاکھ مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا۔ شیخ عبداللہ کو 29ستمبر کو جیل سے رہا کردیا گیا مگر جب کشمیری لیڈروں سردار عبدالقیوم اور سردار ابراہیم نے آزاد کشمیر کیلئے جہاد کا آغاز کیا اور شمالی وزیرستان سے قبائلیوں کا ایک لشکر سری نگر انکی مدد کیلئے پہنچ گیا تو مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر کو ہندوستان کے سیکرٹری وی پی مینن کو فوراً کشمیر بلالیا اور ہندوستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کردئیے اور اسکے ساتھ ہی عبوری حکومت قائم کرکے نیشنل کانفرنس کے سربراہ شیخ عبداللہ کو کشمیر کا وزیراعظم مقرر کردیا۔ 27 اکتوبر1947 کو ماﺅنٹ بیٹن نے کشمیر کے ہندوستان کے الحاق کو تسلیم کرلیا اور ہندوستان کی پیرا ملٹری فورسز کے دستے ائیر فورس کی مدد سے کشمیر پہنچ گئے۔
قائداعظمؒ نے جنرل گریسی کو جو پاکستان کی فوجی کے آرمی چیف تھے‘ حکم دیا کہ وہ پاکستان کی فوجیں کشمیر بھیجے مگر اُس نے گورنر جنرل کا حکم ماننے کی بجائے نیو دہلی میں دونوں ڈومنین کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل اچن لیک کی ہدایت پر عمل کیا اسکے علاوہ پاکستان کی فوجی آرڈیننس کا بڑا حصہ ابھی تک ہندوستان کے قبضے میں تھا مگر 30اکتوبر کوحکومت پاکستان نے واضح اعلان کیا کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق سراسر دھوکا اور غیر منصفانہ ہے اور کشمیر کو ہندوستان کا حصہ تسلیم کرنا پاکستان کیلئے قطعاً ناممکن ہے کیونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اوراگر انہیںاپنی مرضی سے رائے شماری کا موقع دیاجائے تو وہ اپنی تہذیب، جغرافیائی، معاشی اور ثقافتی عوامل کی بنا پر ہر حال میں پاکستان کے ساتھ فطری طورپرالحاق کریں گے۔ پاکستان کےساتھ کشمیر کا الحاق کیوں ضروری ہے اس پر پاکستان، ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کی تو کبھی دو رائے نہیں رہی ہے
نہرو کس قدر عیار اور مکار انسان تھا کہ اُس نے پاکستان کے وزیراعظم کو خط لکھا کہ ہندوستان کی فوجیں عارضی طورپر کشمیر میں داخل ہوئی ہیں‘ جونہی وہاں حالات پُرامن ہونگے تو ہندوستان کی فوج کشمیر کو چھوڑ دےگی اور وہاں کے عوام اپنی مرضی سے ہندوستان یاپاکستان جس سے چاہیں گے الحاق کرنے کیلئے آزاد ہونگے مگر نہرو نے بعد میں جب پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر بنا تو یہ موقف اختیار کیاکہ اگر ہم کشمیر میں رائے شماری کی اجازت دینگے تو اس سے ہندوستان کا سیکولر تشخص مجروح ہوگا اور ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائےگا یہ سب کچھ سوچتے ہوئے ذہن میں سوال اٹھتے ہیں کہ (1) جب شمالی وزیرستان کے قبائلی سری نگر پہنچ گئے تھے تو انہیں واپس کیوں بلایا گیا (2) جنرل اکبر سری نگر پہنچ گئے تو کس کے حکم پر سیز فائر کیا گیا(3) جب 1962 میں چین اور ہندوستان کی سرحدی جنگ شروع ہوئی تو اس موقع سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایاگیا (4) جب ہم نے کشمیر میں گوریلا جنگ کا آغاز شروع کیا تو کیوں ہماری فوجی قیادت کو اندازہ نہ ہوا کہ ہندوستان 1965میں کھلی جنگ شروع کردےگا جس سے ہمارے معاشی منصوبوں کی امداد یورپی ممالک روک لیں گے حالانکہ اُس وقت پاکستان کی معاشی ترقی کی نمو جنوبی ایشیا ءمیں سب سے زیادہ تھی جنوبی کوریا نے ہمارے دوسرے پانچ سالہ منصوبے کے پلان پر عمل کرکے ہی ترقی کی۔(5) پاکستان نے مشرف کے دور حکومت میں کشمیر میں جہاد کو کیوں ختم کردیا ۔ (6) ایک لاکھ کشمیری شہداءکے خون کا قرض کس پر ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی ہیں کہ کشمیر کا تنازعہ حل ہوسکے تاکہ دونوں ملکوں کے دفاعی بجٹ کو کم کرنے کا جواز نہ ملے(7) کشمیر کے مسئلے پرکیوں پہلے نواز شریف اور بعد میں مشرف کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے دعویٰ کیا کہ وہ تنازعہ کے حل تک پہنچ چکے ہیں(8) کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے وہاں سے نکلنے والے پانیوںپر ہندوستان نے جو سینکڑوں ڈیم بنادئیے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ بغیر جہاد کے ہندو بنیئے سے ہم ہماری شہ رگ کو آزاد کروا سکتے ہیں۔ محترم مجید نظامی تو یہی کہتے ہیں کہ کیا ایٹم بم سجانے کیلئے رکھا ہوا ہے۔ مگر سیکولر دانشوروں کی یہ سن کر خوف سے گھگی بندھ جاتی ہے اسکا کیا کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں