پاکستان کی نظریاتی اساس پر کاری ضرب … (آخری قسط)

سکندر خان بلوچ ـ 4 فروری ، 2010
نندا صاحب مزید فرماتے ہیں۔
" Sencondly, endowed with this fierce sense of "Individual independence", majority of the inhabitants of Waziristan do not consider themselves Pakistanies. ..... Infact going by history and ethnicity, they have more affinity with the people of present day Afghanistan than those in Pakistan."
’’شخصی آزادی کے مضبوط تصورکی وجہ سے وزیرستان کی کثیر آبادی اپنے آپ کو پاکستانی نہیں سمجھتی۔ویسے بھی تاریخی اور نسلی اعتبار سے یہ لوگ موجودہ افغانستان کے لوگوں کے زیادہ قریب ہیں بہ نسبت پاکستانی آبادی کے۔ مصنف یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس علاقے کے لوگ کس طرح پاکستان کی آبادی میں مدغم ہوچکے ہیں۔ مختلف سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور معاشی طور پر پاکستان کی تجارت کا اہم جزو ہیں۔
طالبان اور القاعدہ کے متعلق مصنف نے زہر افشانی ان الفاظ میں کی ہے۔
"Since there is no clear demarcation of Pak Afghan border, Taliban and Al Quida fighters sheltring in the tribal belt under the control of Wazirs, Mahsuds and Dawars easily cross the border and attack their targets on Afghan soil, using the mountain terrain to strategic advantage and then melt into the villages located in the Pak Afghan broder area."
’’چونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی واضح سرحد ی لائن موجودنہیں ہے اس لیے طالبان اور القاعدہ کے جنگجو جو قبائلی وزیرستان میں رہائش پذیر ہیں آسانی سے افغانستان جاتے ہیںوہاں حملے کرتے ہیں۔ علاقے کے پہاڑی میدان کا سٹرٹیجک طور پر فائدہ اُٹھاتے ہیں اور پھر وہاں علاقے کے سرحدی گائوں میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ مضمون نگار کی رائے میں یہ کھیل روسی قبضے کے دور سے شروع ہو کر اب تک جاری ہے۔ لہٰذا امریکہ اُس وقت تک علاقے میں کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ان سرحدی قبائلی علاقوں میں روپوش جنگجوئوں کا قلع قمع نہیں ہوتا اور وہ تب ہی ممکن ہو گا جب امریکہ اس علاقے پر تباہ کن حملہ کر کے ان لوگوں کو ختم کرے گا۔ قارئین کتنا آسان اور سادہ نسخہ ہے۔
ڈیورنڈ لائن کے متعلق نندا صاحب فرماتے ہیں۔
"Sir Mortimer Durand, the then foreign secretary of the colonial Government of India, signed a document with the king of Afghanistan, in Nov 12,1983, relating to the border between Afghanistan & British India. It was named as Durandline".
’’سر مورٹی مور ڈیورنڈ جو کہ اُسوقت انگریزی ہندوستان کا سیکرٹری خارجہ تھا ،نے 12نومبر 1893ء کو افغانستان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاہدہ کیا جسے ڈیورنڈ لائن کا نام دیا گیا۔‘‘ نندا صاحب تفصیل میں بتاتے ہیں کہ یہ معاہدہ اس لئے غیر قانونی ہے کیونکہ اس کی توثیق اس وقت کی افغان اسمبلی نے کر نی تھی جو نہ ہو ئی۔ دوسرا یہ غیر حقیقی سرحد پشتون علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے اس لئے پشتونوں کو قابل قبول نہیں تھی کیونکہ وہ سب مل کر پشتونستان کے نام سے اپنی علیحدہ ریاست بنانا چاہتے تھے۔ 1919ء میں افغا ن جنرل نادر خان اپنی فوج کے ساتھ وزیرستان کے شہرٹل تک آیا اور سارے وزیرستان کو اپنا علاقہ قرار دیا ۔ مزید یہ کہ افغان جرگہ نے 1949ء میں اس سرحد کو یکسر مسترد کر دیا تھا اس لئے تمام حقائق کے مدِ نظر یہ افغانستان ہی کا علاقہ ہے۔
اف ۔پاک پالیسی کا بنیادی نقص یہ ہے کہ اس کا سارا دارومدار پاکستان پر ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ سے مخلص نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے عزائم ہیں۔ نندا صاحب مزید لکھتے ہیں:
"It is not without substance that many international observers believe that Pakistan intelligence is actually helping the resurgence of Taliban and Al Quida."
’’بین الاقوامی ابزرورز کی نظر میں پاکستانی انٹیلی جنس القاعدہ اور طالبان کے پھیلائو میں مدد کر رہی ہے اور اس سوچ میں کافی وزن ہے۔ با الفاظ دیگر حقیقت یہ ہے ۔ پاکستانی فوج کے متعلق بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ سب کچھ پاکستان کی حکو متی پالیسی کے تحت ہو رہا ہے اور یوں پاکستان امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو دھوکا دے رہا ہے۔ یقینا یہ بہت ہی خطرناک پراپیگنڈہ ہے جس کے اثرات ہمارے سامنے ہیں۔
جہاں تک افغانستان کے عدم استحکام اور موجودہ لاقانونیت کا تعلق ہے اُس کا ذمہ دار بھی پاکستان ہی ہے کیونکہ پاکستان چاہتا ہی نہیں کہ وہاں امن قائم ہو یا کوئی مستحکم حکومت آئے کیونکہ جس دن ایسی حکومت قائم ہوئی وہ پاکستان سے اپنا وزیرستان کا علاقہ واپس لے لے گی اور پاکستان کی سٹر ٹیجک گہرائی کی پالیسی زمین بوس ہو جائیگی۔ نندا صاحب کے اپنے الفاظ میں:
" A stable and secure Afghanistan is not in the interest of the forces that run Pakistan today. There are many reasons for this including the so called strategic depth.... But the most important one happens to be the fact that once Afghanistan becomes strong, secure and stable, it will demand the return of its territories particularly Waziristan.
قارئین بین الاقوامی طور پر کامیاب پالیسی وہ تصور کی جاتی ہے جس میں ایک بھی گولی چلائے بغیرآپ اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر پاکستان کے موجودہ حالات اور افغانستان میں لوگوں میں پاکستان کے خلاف ظاہر کی گئی نفرت کو سامنے رکھا جائے تو اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہو گا کہ بھارت بہت حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہا ہے۔ کیا ہمارے پالیسی ساز اس موضوع پر سوچنا پسند کریں گے؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں