تازہ ترین:

حصول خوراک کی ضمانت … (۱)

ـ 4 فروری ، 2010
سلطان علی چودھری ............
قدرتی طور پر پاکستان میں خوراک کی کمی کے اسباب وہی ہیں جو کہ ساری دنیا پر اثر انداز ہو رہے ہیں لیکن پاکستان میں پیداواری اسباب مثلاً کاشتکاروں کے پاس زمین کا کم ہونا (86فیصد فارم ساڑھے بارہ ایکٹر سے کم) ،پانی ہوتے ہوئے بھی اسکی کمی، زرعی مداخل کی کمی کے علاوہ کاشتکاروں میں تعلیم کا فقدان ، لہٰذا مروجہ نئی زراعت کے طریقوںسے ناواقفیت، باہمی مخاصمت، مقدمہ بازی، رورل سیکٹر کی ترقی کی طرف حکومت کی بے توجہی اور محب الوطن، محنتی اور قابل کارکنوں کی کمی کی وجہ سے خوراک کے مسائل اور بھی گھمبیر ہو گئے ہیں۔
یہ مسائل مناسب حکمت عملی، توجہ اور غوروفکر کے ساتھ حل ہو سکتے ہیں۔ اگر ہمارے ہمسائے ممالک چائینہ اور ہندوستان زراعت میں ترقی کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے زرعی پالیسی کومرتب کرتے ہوئے مندرجہ ذیل پانچ بنیادی اصولوں کو اگر مد نظر رکھا جائے تو پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہو سکتا ہے۔
1)کاشتکاروں کی تعلیم
2)زمین کی ملکیت اور اشتمال
3)زرعی تحقیق و تعلیم
4)زرعی ترقی کے پیداواری عوامل ، پانی، بیج، کھاد، زرعی ادویات
5)کاشتکار کی پیداوار کی صحیح قیمت اور مارکیٹنگ۔
1)کاشتکاروں کی تعلیم
دیہی سیکٹر میں تعلیم بہت کم ہے۔ 1998کے censusکیمطابق لیٹریسی کے اعدادوشمارمندرجہ ذیل ہیں۔
کاشتکاروں میں خصوصاً عورتیں جو مردوں سے زیادہ کھیتی باڑی میں حصہ لیتی ہیں تعلیم کا فقدان ہے۔ کم تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے کاشتکار نئی زرعی معلومات حاصل نہیں کر سکتا اور اس پر طرہ یہ کہ 86فیصد کاشتکار جن کی زمین ساڑھے بارہ ایکٹر سے کم ہے وہ بہت غریب ہیں۔ کاشتکار نہ تو نئی ٹیکنالوجی کو جانتا ہے اور نہ ہی غربت کی وجہ سے اسے خرید سکتا ہے تو زراعت میں ترقی کیسے ہو گی۔ لہٰذا نہایت ضروری ہے کہ کاشتکاروں کو زرعی ٹیکنالوجی سے اگاہی ہونی چاہیے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز صرف صنعت تک سمٹ کر رہ گئے ہیں کاشتکاروں کیلئے کوئی ووکیشنل ٹریننگ کا انتظام نہیں۔ امریکہ اور دوسرے ممالک میں ایسے سنٹرز قائم ہیں جہاں فارم گائیڈتیار کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مستقبل میں کاشتکاروں کیلئے ووکیشنل ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔
تجویز کیا جاتاہے کہ ہر یونین کونسل میں ایک گائوں کے اندر کسی اچھے کاشتکار کو منتخب کیا جائے۔ اسکے فارم اور اسکی زمین پر کاشتکاروں کو ٹریننگ دی جائے‘ جہاں پر محکمہ زراعت، محکمہ حیوانات اور محکمہ امداد باہمی کے فیلڈ اسٹنٹ متعین کیے جائیں۔ وہ ہر فصل کی کاشت کرنے سے پہلے کاشتکاروں (مرد وں اور عورتوں) کو ٹریننگ دیں اورنوجوان فارم گائیڈ تیار کریں۔ ہر سال یہاں ایک زرعی میلہ منعقد کرنا چاہیے‘ جہاں کاشتکاروں کی فصلات اور جانوروں کی دودھ کی پیداوار وغیرہ کے مقابلے ہونے چاہیے ۔ لہٰذا اگر زراعت نے ترقی کرنی ہے تو Knowlege is power کے زرین قولہ پر عمل کرنا چاہیے۔ جس ملک کے پاس ٹیکنالوجی ہے وہ ساری دنیا پر حاوی ہے۔ پاکستانی قوم نئے علوم و فنون اور ٹیکنالوجی میں اپنا مقام پیدا کر لے تو با عزت اور باوقار قوم بن سکتی ہے۔
2)زمین کی ملکیت اور اشتمال
یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی زیر کاشت زمین جو کہ 21.17ملین ہیکٹر پر مشتمل ہے کا سروے اور اسکی زرخیزی کے کوائف سائنٹفک طریقے سے تیار کریں اور دیکھیں کہ کون سی فصل کس علاقے میں کاشت کرنی بہتر ہو گی۔ ہمیں Zoningof Crop پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔پاکستان میں اگرچہ تقریباً 10ملین ہیکٹر کلچرل ویسٹ موجود ہے۔ لیکن اس کو پانی کی کمی کی وجہ سے قابل کاشت نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا رقبہ میں اضافہ ناممکن ہے۔ ہماری بقا صرف اور صرف اس میں ہے کہ ہم نئی ٹیکنالوجی کو زیر استعمال لاتے ہوئے فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ کریں۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ زراعت کے میدان میں پاکستان نہ صرف ایشیائی ممالک میں بلکہ مسلم ممالک سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ دنیا میںپاکستان کاشتکار کی فی کس آمدنی صرف کم ہی نہیں بلکہ پاکستان کا کاشتکار ان پڑھ، جاہل، غریب اور مظلوم ہے ۔ مندرجہ ذیل اعداد و شمار پاکستان زراعت کی پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
پیداوار فی ہیکٹر کلو گرام
اگر پاکستان کے کاشتکار اور کاشتکاری کو ترقی پذیر بنانا مطلوب ہے تو یہاں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے زرعی انقلاب نہیں آئیگا بلکہ تمام زرعی نظام کی ہئیت کو بدلنا ہو گا ۔ یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج تک تمام زرعی پالیسیوں اور ٹیکنالوجی ڈیویلپمنٹ صرف بڑے کاشتکاروں کے ارد گرد گھومتی ہیں جس سے چھوٹے کاشتکار مسفید نہیں ہو سکتے۔ درآمد شدہ ٹیکنالوجی مہنگی ہونے کی وجہ سے چھوٹے کاشتکار کی دسترس میں نہیں ہے۔ ایسی زرعی ٹیکنالوجی اپنانی چاہیے جو چھوٹے کاشتکاروں کی ضروریات کیمطابق ہو تاکہ غریب کاشتکار اسے اپنا کر اپنی مالی حالت کو بہتر بنا سکیں۔ بھارتی پنجاب نے اس سلسلے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ بھارتی پنجاب صحیح معنوں میں چھوٹے کاشتکاروں کا دیس ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ17 ہیکٹر ملکیت ہے۔ مزارعت سرے سے ناپید ہے اور انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس سے چھوٹے سے چھوٹا کاشتکار بھی فیض یاب ہوا ہے وہاں ایک ہیکٹر کے مالک کی فی ہیکٹر اتنی ہی آمدنی ہے جتنی 17 ہیکٹر والے مالک کی فی ہیکٹر۔
جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جب تک زراعت میں تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں زراعت کا پستی کی دلدل سے نکلنا نا ممکن ہے۔ لہٰذا زراعت کے شعبہ میں انقلابی پالیسی اپنانی چاہیے اور سب سے بڑا قدم زمین کے اشتمال اور ملکیت ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے آخری رسول مقبول کے ارشاد کیمطابق زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور زمین سے فائدہ اٹھانے کا حق صر ف اس شخص کو ہونا چاہیے جو اس میں ہل چلائے۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی غالبا ً اکثریت فقہ حنفی کی پیروکار ہے اور حضرت اما م ابو حنیفہ کے قول کیمطابق زمین کو بٹائی یا ٹھیکہ پر دینا بھی جائز نہیں ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اللہ تعالیٰ کے نائب کی حیثیت سے ان زمینوں کی مالک قرار دی جائے اور تمام زمین کو 25 ایکٹر کے قطعوں میں تقسیم کر کے اپنے ہاتھ سے کام کرنیوالے کاشتکاروں میں تقسیم کردی جائے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کی نظم بعنوان "الارض للہ " یعنی زمین کا مالک اللہ ہے۔ فرماتے ہیں:
دہ خدا یا یہ زمین تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آباء کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں
ڈاکٹر اقبال کے افکار اور فلاسفی کو اکثر اخباروں ، ریڈیو، ٹیلی ویزن پر بیان کیا جاتا ہے۔ حکام وقت بھی اپنی تقاریر کلام اقبال سے مزین کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ زمین کو جوا سے کاشت کرتا ہے اسے نہ دی جائے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں