سمجھوتہ

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ـ 3 فروری ، 2012
کل ہی ایک کالم نگار دوست کہہ رہے تھے کہ مزاج کی چاشنی اور تحریر کی شگفتگی کے بغیر کوئی تحریر کالم کہلانے کی مستحق نہیں گردانی جا سکتی، انکے خیال میں ایک کامیاب کالم نگار غم کے پہاڑ تلے دب کر یا زخموں سے نڈھال ہو کر بھی کراہنے کی بجائے مسکراتا ہوا دکھلائی دینا چاہیے، میں نے دوست سے کہا آپ بجا کہتے ہیں مگر زخموں سے چور ہو کر مسکرانے اور خود اپنے اوپر ہنسنے کیلئے اسد اللہ غالب کا دل و دماغ اور حوصلہ بھی چاہیے، لوگ غالب کی شاعری کے دیوانے ہیں مگر میں ان کی سحر انگیز نثر کا اسیر ہوں، ایک خط میں غالب لکھتے ہیں، پھوڑوں کی کثرت سے بدن سرو چراغاں بن چکا ہے، آج ہمارا حال بھی غالب سے مختلف نہیں۔
تن ہمہ داغ داغ شد
پنبہ کجا کجا نہم
ہمارا حال بقول غالب یہ ہو چکا ہے کہ:
پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
سچی بات یہ ہے کہ اپنے قومی رویوں پر ہنسی نہیں رونا آتا ہے، تاہم ہم ہنسیں یا روئیں اس سے فرق نہیں پڑتا، دنیا ہمارے حال پر ہنستی ہے اور خوب ہنستی ہے۔ ہم روز دنیا کو ہنسنے کیلئے نیا موضوع اور نیا مواد فراہم کر دیتے ہیں۔ بات تو صرف اتنی تھی کہ دو دوستوں کے درمیان کسی بات پر ناچاقی ہو گئی، اس پر ایک نے کہا کہ اب میں وہ سب کچھ طشت ازبام کرکے چھوڑوں گا جو گزشتہ چند برسوں میں ہمارے درمیان زیر بحث آتا رہا اور جسے باہمی اتفاق سے ہم اوپر پہنچاتے رہے، منصور اعجاز کے حسین حقانی کےخلاف الزامات کا ہم نے ہر سطح پر نہایت سنجیدگی کےساتھ نوٹس لیا، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نے منصور اعجاز سے ملاقات کی اور اپنی فوج کی قیادت کےخلاف امریکہ سے شکایت کرنے کو غداری کے مترادف ٹھہرایا گیا، اپوزیشن کے مرکزی رہنما میاں نواز شریف عدالت جا پہنچے اور انہوں نے زنجیر عدل ہلا کر دہائی دی کہ ملک کےساتھ کی جانیوالی بے وفائی کا بڑا سخت نوٹس لیا جائے، عدالت عظمیٰ نے اس کا نوٹس لیا اور ایک عدالتی کمشن میمو گیٹ کیس کی تحقیق تفتیش کے تشکیل دے دیا۔
پھر کیا تھا کہ ہماری عدالتیں ہماری عسکری و سیاسی قیادتیں، ہمارا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سب دنیا جہاں کے سارے کام چھوڑ کر منصور اعجاز کی پاکستان آمد کی راہ تکنے لگے۔ سب کا خیال یہ تھا کہ منصور پاکستان آئینگے تو نہ صرف حسین حقانی بلکہ ساری حکومت کے پرزے اڑیں گے اور بقول غالب:
دیکھنے ہم بھی گئے یہ تماشا نہ ہوا
اب قوم کو اصل تشویش یہ ہے کہ کیا اتنے سنگین الزامات لگانے کے بعد پس پردہ کسی اشارے کے نتیجے میں اچانک ہر شخص خاموش ہو گیا۔
اب یہ سادہ دل لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے، اگر حسین حقانی پر الزامات سنگین نوعیت کے تھے، اگر حسین حقانی کے پیچھے پاکستان کی کوئی بڑی شخصیت تھی، اگر امریکہ سے عسکری قیادت کے بارے میں ساری شکایتیں اعلیٰ شخصیات کے ایماءپر کی گئی تھیں تو پھر ان الزامات کو ثابت کیوں نہ کیا گیا، میاں نواز شریف اور عسکری قیادت اچانک اس سارے معاملے سے لاتعلق کیوں نظر آتی ہے۔ پھر منصور اعجاز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا، اس مرکزی گواہ کو راستے ہی میں چھوڑ کر حسین حقانی کو جوان الزامات کے مرکزی کردار تھے انہیں بیرون ملک روانہ کر دیا گیا۔ اب عین ممکن ہے کہ کل کلاں ہمارے میڈیا میں کوئی ایسی تصویر چھپ جائے جس میں حسین حقانی اور منصور اعجاز کو کسی ریستوران میں چائے پیتے اور قہقہے لگاتے ہوئے دکھایا جائے، جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ دو دوستوں کے درمیان ناچاقی ہوئی تھی، اب دور ہو گئی ہے۔اس دوران تقریباً تین ماہ تک ہمارے ہاں کسی بھی شعبے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ ہر کام تعطل کا شکار رہا، امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ حکومت، فوج اور اپوزیشن تین ماہ تک ایک نان ایشو کو ایسے پیش کرتے رہے کہ جیسے وہ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہو۔ پھر اچانک چپکے سے مریض کو قرار کیسے آ گیا، چاروں طرف خاموشی کیسے ہو گئی، کیا ہماری عسکری و مدنی قیادتوں کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ عوام کو جواب دیں کہ میمو گیٹ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ کیوں تھا اور پھر اچانک اس مسئلے سے متعلق ساری پارٹیاں اور ساری قیادتیں لاتعلق کیوں ہو گئیں۔
دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان نے علی الاعلان چینی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے عسکری قیادت پر تنقید کی کہ انہوں نے عدالت عظمی کو دیئے جانے والے بیانات کیلئے درست راستہ اختیار نہیں کیا، اس پر جب عسکری اداروں نے ردّ عمل کا اظہار کیا تو وزیر اعظم نے وضاحت کرنے اور اپنا بیان واپس لینے سے انکار کر دیا، وزیر اعظم کا موقف درست تھا یا غلط تاہم ان کی بارے میں یہ تاثر ابھرا کہ وہ ایک منتخب وزیر اعظم ہیں جو عوام اور پارلیمنٹ کے علاوہ کی اور کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتے مگر پھر اسی وزیر اعظم نے کہا کہ رات گئی بات گئی، وہ ایک غلط فہمی تھی جو اب دور ہو گئی ہے۔اداروںکے درمیان افہام و تفہیم ہونا چاہیے، انکے درمیان تصادم اور ٹکراﺅ نہیں ہونا چاہیے مگر جب علی الاعلان تصادم کی صورتحال پیدا ہو جائے۔ ادارے ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے نظر آئیں، تلواریں میانوں سے باہر نکل آئیں، لب و لہجے سے شدت اور جوش و خروش نظر آنے لگے تو پھر قوم کو یہ تو بتایا جائے کہ شدت جذبات کا سبب کیا تھا اور شعلے، شبنم میں کیونکر ڈھل گئے۔
میرے کالم نگار دوست کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، یہ حکمران روزانہ ہنسنے اور رونے کیلئے اتنا کچھ فراہم کر دیتے ہیں کہ کہیں اور دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے فرمایا کہ ہمیں ا گر پوری مدت کیلئے کام کرنے دیا گیا تو ہم ملک کے تمام مسائل حل کر دینگے، جناب زرداری سے پوچھنے والا سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنی مہلت اقتدار کا 80 فیصد وقت گزار لیا ہے جس کے بارے میں اسکے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ:
پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفتر میں ہے، پیپلز پا رٹی نے ان چار سالوں میں کیا کیا ہے، پیپلز پارٹی نے اس چار سالہ مدت میں مہنگائی کو دوگنا بلکہ تین گنا تک پہنچا دیا، روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا مگر عوام الناس کو یہ چیزیں دینے کی بجائے ان سے یہ چیزیں چھین لی گئیں، پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی مدت اقتدار کا بیشتر عرصہ نان ایشو سیاست کی نذر کر دیا، کبھی عدالت کےخلاف مہم جوئی، کبھی عدالت کی حکم عدولی، کبھی سوئس بنکوں کو خط نہ لکھنے کی ہٹ دھرمی، کبھی میمو گیٹ کا قضیہ۔ دوسرے ملکوں میں بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں، ان واقعات کے ذمہ داران کو نامزد بھی کیا جاتا ہے، انہیں کٹہرے میں کھڑا بھی کیا جاتا ہے، مگر اس طرح کہ یہ مقدمہ بھی چلتا رہتا ہے اور باقی کاروبار حیات بھی چلتا رہتا ہے، ایسے نہیں ہوتا کہ دو اداروں میں کشاکش شروع ہو جاتی ہے، اس کھینچا تانی میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ باقی سب ادارے بھی اپنا کام چھوڑ کر اس کشاکش کو دیکھنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
کیا قوم کا یہ حق نہیں کہ اسے بتایا جائے کہ ملک کے اہم ترین اداروں کے درمیان کشاکش کیوں شروع ہوئی، منصور اعجاز کے حسین حقانی کےخلاف الزامات کا پہلے تو نہایت سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا اور پھر اچانک یہ تاثر دیا گیا کہ آپس میں کوئی سمجھوتہ ہو گیا ہے، تاہم قوم جاننا چاہتی ہے کہ اختلاف کن بنیادوں پر تھا اور اب سمجھوتہ کن بنیادوں پر ہوا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں