شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی خود نوشت میں جو Daughter of the East کے عنوان سے 1989 میں شائع ہوئی اور بعد میں جس کا اُردو ترجمہ مشرق کی بیٹی کے عنوان سے شائع ہوا جس میں اُنہوں نے اپنی زندگی میں پیش آنیوالے تمام اہم واقعات بالخصوص عوام کے مسائل کیساتھ اپنی ذہنی اور روحانی وابستگی کو نمایاں طور پر بیان کیا ہے ۔ عوام الناس کیساتھ اپنے اِسی نہ ختم ہونیوالے تعلق اور ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی سیاسی ورثہ کی حامل ہونے کے ناطے اُنہوں نے اپنی خودنوشت میں 18 دسمبر 1987 میں آصف علی زرداری کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے ، یعنی شادی کی صبح میڈیا کے ذریعے عوام الناس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
" آج اِس موقع پر جو میرے لئے ذاتی اور اہم ہے میں پاکستان کے عوام کیساتھ اِس عہد کی تصدیق کرتی ہوں اور آمریت سے اِس عظیم قوم کی آزادی اور ہر شہری کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی زندگی قربان کرنے کی دوبارہ قسم اُٹھاتی ہوں ۔ میں پاکستان کے عام لوگوں کے ہمراہ ایک مساویانہ معاشرے کی تشکیل کیلئے کوشاں رہونگی جو ظلم و تشدد ، رشوت ستانی اور ہر قسم کے تنائو سے پاک ہو ۔یہی میرا اور تمہارہ مشترکہ خواب ہے " ۔
اِسی مشترکہ خواب کی تعبیر کیلئے اُنہوں نے جنوری 2008 میں RECONCILIATION کے عنوان سے شائع ہونے والی اپنی آخری کتاب جس کے مکمل ڈرافٹ کی نوک پلک اُنہوں نے اپنی شہادت سے چند روز قبل ہی درست کی تھی میں بھی اُن کا یہی مقصدِ حیات نظر آتاہے ۔ اِس کتاب کی ابتدا میں ہی وہ فرماتی ہیں:
" I had departed three hours earlier from my home in exile, Dubai. My husband, Asif, was to stay behind in Dubai with our two daughters, Bukhtawar and Aseefa...Long ago I had made my choice. The people of Pakistan have always come first. The people of Pakistan will always come first. My children understood it and not only accepted it but encouraged me."
محترمہ بینظیر بھٹو کی عوام سے محبت اور اُنکے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی خواہش تو اُنکی سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ ہی نمایاں رہی ہے جس کی تائید مندرجہ بلا اقتباسات سے بھی ہوتی ہے‘ لہذا، اُنکی یہی سوچ پاکستان سے باہر جِلاوطنی کی زندگی گذارتے ہوئے بھی قائم رہی باوجود اِسکے کہ وہ اپنے شوہر آصف علی زرداری اور پارٹی کیلئے بیرون دنیا کام کرنیوالے کچھ ساتھیوں پر پاکستان میں مبینہ طور پرسیاسی اختلاف کی بنیاد پر قائم کردہ مقدمات کے حوالے سے دبائو بھی اُنکے پیش نظر رہا ۔ چنانچہ جہاں اُنہوں نے ملک میں جمہوری اداروں کی بحالی کیلئے مشرف حکومت سے گفتگو کے آپشن کو کبھی ختم نہیں کیا اور مشرف حکومت پر وردی اُتارنے ، جِلا وطن سیاسی لیڈرشپ کی پاکستان واپسی بلاک نہ کرنے ، ملک میں غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کرانے، تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے حق کو بحال کرنے کے مطالبہ کیا وہاں اُنہوں نے ملک میں سیاسی مفاہمت کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ایسے تمام مقدمات ختم کئے جانے کی بات بھی کی جو محض سیاسی انتقام کے حوالے سے بنائے گئے تھے اور جن میں بیشتر مقدمات کا فیصلہ مشرف حکومت کے آٹھ دس سالہ دور میں بھی نہیں ہو سکا تھا ۔ دریں اثنا ، اُنہوں نے ماضی کے تجربات سے سبق لیتے ہوئے ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے بھی گفت و شنید کی جس کے نتیجہ میں پاکستان کی دو ممتاز سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان میثاقِ جمہوریت کا حیران کن معاہدہ وجود میں آیا ۔ درحقیقت ، میثاقِ جمہوریت کا معاہدے اُنکی سیاسی بصیرت کا ایک بے مثال کارنامہ تھا جو ملک میں جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے کی بنیاد بن سکتا تھا ۔
اندریں حالات، مندرجہ بالا منظر نامے میں مشرف حکومت نے غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے قیام اور تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی شرائط کو تو تسلیم نہیں کیا کیونکہ پرویز مشرف پاکستان کی دونوں اہم سیاسی شخصیتوں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کو ایک ایسا حریف سمجھتے تھے جو اُن کی مستقبل کی حکمرانی کیلئے خطرے کا سگنل بن سکتے تھے لیکن NRO کی شکل میں ایک بدنام زمانہ قانون بنانے کا اعلان ضرور کر دیا گیا جس سے فیض یاب ہو کر اہم سیاسی شخصیتیں عوامی امیج کھو سکتی تھیں ۔ لہذا، محترمہ کی ملک واپسی کے موقع پر جب اُن کی توجہ اِن خبروں کی جانب دلوائی گئی کہ مشرف حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اُن کیخلاف تمام سیاسی مقدمات واپس لئے جانے کے باعث ہی اُنکی وطن واپسی ممکن ہوئی ہے تو اُنہوں نے اِس اَمر کی شدت سے تردید کی ۔ اُنہوں نے مفاہمت کے حوالے سے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے :
" The NRO was taken up by courts. They did not stay it but left it undecided for a future date... Following the Supreme Court intervention in admitting the NRO for hearing, none of the persecution against my party or others ended. It upset me to read in the press that I had returned to Pakistan after General Musharraf finished the politically motivated cases against me. None of them was finished. Of all the hearings against my husband and myself that had concluded in the previous eleven and a half years, we had won every one on merit and not on the basis of the NRO."
اِسی تناظر میں جو حقائق سامنے آتے ہیں اُن سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے موقف کی تائید ہوتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر نے گذشتہ دنوں جب یہ انکشاف کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے NRO مسترد کر دیا تھا اور پیپلز پارٹی کا NRO سے کوئی تعلق نہیں ہے تو دراصل وہ ریکارڈ کو درست کرنے کیلئے ہی اِس اَمر کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ چند ماہ قبل جب NRO کے حوالے سے سپریم کورٹ نے lapse ہو جانیوالے آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے پاس کرنے کی چھوٹ دی تو راقم نے محترمہ کی کتاب کے حوالے سے یہی سوال ایک سماجی تقریب میں سابق فیڈرل منسٹر ڈاکٹر شیر افگن کی موجودگی میں وزیر داخلہ رحمن ملک سے کیا تو اُنہوں نے بھی اِس اَمر کی یہ کہتے ہوئے تائید کی کہ NRO کا ڈرافٹ اُنہیں واپسی سے قبل لندن میں ملا تھا اور اِسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے مسترد کر دیا تھا َ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے NRO کو مسترد کرنے کے واضح اعلان کے باوجود ، ایسے کونسے حقائق پسِ پردہ چھپے ہیں کہ اُنکی شہادت کے بعد اِسی بدنامِ زمانہ سیاہ قانون کو گلے لگا لیا گا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ انتخابات میں عوام الناس نے مشرف کی باقیات کو مسترد کر دیا تھا ؟ (جاری ہے)
حقیقت یہی ہے کہNRO ہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل مشرف کے 3 نومبر 2007 کے غیر آئینی اقدامات کے بعد مشرف حکومت سے تمام روابط یہ کہتے ہوئے ختم کر دئیے تھے کہ 3 نومبر 2007 دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ 3 نومبر کے ماوراء آئین اقدامات جس کے تحت نہ صرف پارٹی کارکنوں ، انسانی حقوق کے علمبرداروں ، عدلیہ کے ججوں ، وکلاء اور صحافیوں کو گرفتار کیا گیا تھا بلکہ اِن مارشل لائی اقدامات کے باعث پرویز مشرف حکومت کے جمہوریت کی جانب گامزن ہونے کے اُس پردے کو بھی فاش کردیا جس کا اظہار ملک میں جمہوریت کے حوالے سے مشرف تواتر سے کرتے رہے تھے ۔ چنانچہ ، یہی وجہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اُس وقت معطل اور نظر بند چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر میگا فون پر واضح اعلان کیا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی پاکستان کے اصل چیف جسٹس ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محترمہ کی شہادت کے چند ماہ بعد تک پیپلز پارٹی کے کسی رہنما نے NRO سے فیض یاب ہونے کی کوشش نہیں کی تھی لیکن وقت گذرنے کیساتھ نہ جانے کیوں محترمہ بے نظیر بھٹو کے تمام آدرشوں کو یکے بعد دیگرے فراموش کر دیا گیا ۔ پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن آج بھی اِس اَمر پر حیرت زدہ ہیں کہ پارٹی میں ناپختہ سوچ رکھنے والی قیادت نے کن مقاصد کے حصول کیلئے نہ صرف عدلیہ کی بحالی میں غیر ضروری تاخیر اور میثاقِ جمہوریت کے معاہدے سے پہلوتہی اختیار کی بلکہ غیر ضروری عجلت میں خاموشی کیساتھ NRO سے فیضیاب ہونا بھی پسند کیا ؟ حیرت ہے کہ ناپختہ قیادت نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے اور سیاسی جانشین بلاول بھٹو زرداری کے اِس مطالبے کو بھی نظر انداز کر دیا جس کا اظہار اُنہوں نے اپنی والدہ کے شہادت کے بعد 6 جنوری 2008 میں اپنے ایک مضمون میں اِن الفاظ میں کیا تھا : " PAKISTAN'S TIPPING POINT " Our free and independent Supreme Court must be restored; the Justices jailed by Musharraf must be released and returned to their proper seats, replacing the cronies with which Musharraf has packed the current courts. Our other Judges, lawyers and civic dissidents must be freed. The intimidation campaign against the free media must be halted. And, finally, a credible international commission must be allowed to investigate the mysterious circumstances of my mother's assassination." ۔ بلاول بھٹو زرداری مشرف حکومت کی موجودگی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے بہیمانہ قتل کی تفتیش میں اگرچہ کسی پراگریس کی اُمید نہیں رکھتے تھے لہذا محترمہ کی شہادت کے پس پردہ پھیلی ہوئی دھند اور ممکنہ سیاسی سازش کے پیش نظر اُنہوں نے محترمہ کے قتل کی شفاف تفتیش کیلئے ایک بین الاقوامی کمیشن کی جانب سے قتل کی تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اِس مطالبے کا یہ مقصد قطعی نہیں تھا کہ محترمہ کی شہادت کے صدقے، اقتدار کے تمام منصبوں پر پیپلز پارٹی کی نئی قیادت کا عمل دخل ہوجانے کے بعد محترمہ کے قتل کی FIR بھی درج نہ کرائی جائے ؟
قومی سیاسی دانشوروں کی نگاہ میں یہ اَمر سمجھ سے بالا تر ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد اقتدار کی غلام گردشوں میں مخصوص مفادات کی حامل ایسی شخصیتوں کو سامنے لانے کے کیا مقاصد ہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ذولفقار علی بھٹو کی پارٹی کے امیج اور آدرشوں کی روشنی میں عوام الناس کی توقعات پر پورا اُترنے میں ناکام رہے ہیں ۔ عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ عدالت عالیہ کی جانب سے NRO کے غیر آئینی قرار دئیے جانے سے قبل اور بعد میں پارٹی موقف کو عوامی رائے سے ہم آہنگ کرنے میں کوتاہی برتی گئی ۔ اور پھر NRO مقدمات کی تفتیش اور سماعت کے حوالے سے نیب کی سربراہی ایک ایسے وزیر کے حوالے کیوں کردی گئی جس پر غیر مستند کاغذی ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے کے علاوہ پنجاب بنک میں اربوں کی خیانت کے مرتکب ملزموں سے کروڑوں کی رشوت قبول کرنے کے حوالے سے الزامات لگائے گئے ہیں جبکہ اِس کیس کی تفتیش بھی نیب ہی کے سپرد کی گئی ہے اور جو ملک سے رشوت ستانی ختم کرنے کے حوالے سے محترمہ کے آدرشوں کیمطابق نہیں ہے ۔ دریں اثنا ، اِس اَمر کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ نیب کی قیادت کیلئے منتخب کئے گئے اِس فیڈرل منسٹر کی سیاسی پوزیشن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے بھی متنازعہ بتائی جا رہی ہے کیونکہ محترمہ کے سابق پروٹوکول آفیسر اور ماضی میں پیپلز پارٹی کے مرکزی دفتر کے نگران اسلم چوہدری نے محترمہ کے قتل کی نئی FIR کے اندراج کے حوالے سے ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست میں مبینہ طور پر ڈاکٹر بابر اعوان کا نام بھی مشتبہ افراد کے طور پر لیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر محترمہ پر دہشت گردی کے حملے سے منٹوں قبل محترمہ کی سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کی دیکھ بھال کرنے کی بجائے سابق سیکیورٹی ایڈوائزر کے ہمراہ تیز رفتاری سے جلسہ گاہ سے رخصت ہوگئے تھے ؟ یہ درست ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود محترم ڈاکٹر بابر اعوان ایک متحرک اور قابل وکیل کی حیثیت سے محترم آصف علی زرداری کے مقدمات کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرتے رہے ہیں اور محترمہ کی وطن واپسی کے بعد عوامی جلسوں میں بھی محترمہ کے ہمراہ رہے ۔ اِسی حوالے سے ڈاکٹر بابر اعوان نے محترمہ کی شہادت کے بعد NRO کی حمایت میں ایک مضمون " یادیں " کے عنوان سے لکھا ہے جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے عام جلسوں سے خطاب کے حوالے سے اپنی ذاتی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے : " وہ (محترمہ بے نظیر بھٹو ) تقریر کیلئے اُٹھتی تھیں تو اپنی تسبیح مجھے پکڑا دیتی تھیں ، تقریر کے بعد وہ مجھ سے تسبیح ضرور لے لیتی تھیں ..... لیاقت باغ میں بھی اُنہوں نے ایسا ہی کیا تھا مگر نہ جانے کیوں 27 دسمبر کی شام اُنہوں نے یہ تسبیح مجھ سے واپس نہیں مانگی تھی " ۔ ڈاکٹر بابر اعوان شاید یہ لکھنا بھول گئے ہیں کہ شہید بی بی کس سے تسبیح واپس مانگتی کیونکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ بابر اعوان تو اُنکی تسبیح اپنے ہاتھ میں تھامے تیزی سے جائے وقوعہ سے نکل گئے تھے ؟
پاکستان کی ایک اہم سیاسی جماعت کی لیڈر اور ذولفقار علی بھٹو کے ورثہ کی وارث، محترمہ بے نظیر بھٹو اب اِس دنیا میں نہیں ہیں ۔ عوام کے سیاسی اور معاشی حقوق کی بحالی کیلئے اُنہوں نے آمریت کے خلاف ہمیشہ ہی جہاد کیا ۔ اُنہوں نے جب پاکستان واپس آنے کا قصد کیا تو نہ صرف مشرف حکومت کی جانب سے رکاوٹیں قائم کی گئیں اور اِس حد تک تاثر دیا گیا کہ اگر محترمہ کی جان کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھنے کی گارنٹی بھی نہیں دی جا سکتی ؟ یہ ایک حیران کن صورتحال تھی اور اِس کا مظاہرہ نومبر میں محترمہ کی کراچی واپسی کے موقع پر بھی دیکھنے میں آیا جب اُنکے استقبال کیلئے آنے والے لاکھوں افراد کے جلوس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور پارٹی کے جانبازوں نے اپنی وفا اور جان کے نذرانے پیش کرکے محترمہ کو اِس سازش سے محفوظ رکھا، لیکن بلاآخر 27 دسمبر 2007 کو اُنہیں لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسہ عام کے فوراً بعد دہشت گردی کی ایک المناک واردات میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ گو کہ پارٹی کی نئی قیادت نے اقتدار کی مسندوں پر فائز ہونے کے باوجود محترمہ کے قتل کی FIR درج کرانے میں تو دلچسپی نہیں لی لیکن اقوام متحدہ کی ایک ٹیم اِس قتل کی وجوہات کا تعین کرنے میں ضرور مصروف ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بلا شبہ عوام کے دلوں کی دھڑکن تھیں، وہ شہید ہیں اور تاریخ میں اُن کا مقام ایک جرأت مند عوامی شخصیت کے طور پر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا ۔ اُن کے قاتلوں کو قوم کبھی معاف نہیں کریگی لیکن بقول شاعر عوام الناس کو یہ قلق ضرور ہے ............ ؎
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے !