جنرل (ر) حمید گل Generalhamidgul@gmail.com
قیادتوں کے حوالے سے کسی کو خوش فہمی نہیں مگر کیا قوم بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے خود کو حالات کے دھارے کے حوالے کرکے اسی خون آشام زندگی کی اسیر بنی رہے؟ میرے خیال میں قوم کے پاس آپشن ہے کہ وہ قومی زندگی کا رخ تبدیل کر سکے۔ قوم کا بروئے کار آنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ موجودہ قیادت کے سبب ہمارے ادارے بھی قوم کو ریسکیو کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ پارلیمنٹ نے قوم کی آواز کو ایک حد تک اپنی متفقہ قرارداد میں آگے بڑھایا مگر نفاذ چونکہ اسی قیادت کے ہاتھ میں تھا، کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ میں خود 30 اکتوبر 2006ء باجوڑ میں امریکی ڈرون حملہ کے بعد سپریم کورٹ گیا مگر نظام آڑے آیا اور عدالت اس مقدمہ میں اپنی محدود عملداری کے وجوہ بے بس نظر آئی۔
اگر غور کریں تو قیادت کے بحران کی یہ صورتحال پہلی بار سامنے نہیں آئی اس سے پہلے بھی کم از کم دوبار ایسی ہی کیفیت کو شکست دے کر ہم اندھیرے سے اجالے کی طرف آ چکے ہیں۔ 20 کی دہائی میں تحریک خلافت کے بعد بھی ایسی ہی بے بسی کی کیفیت تھی۔ جب اقبالؒ نے تصور پاکستان پیش کیا اور قوم کا اجتماعی ضمیر اس پر جم گیا۔ قیادت تو اس کے سات برس بعد نصیب ہوئی۔ جس نے اس ہدف کو حاصل کیا جو قوم پہلے ہی متعین کر چکی تھی۔ عدلیہ بحالی کی تحریک تو ابھی کل کی بات ہے جب پاپولر سیاسی قیادت فاصلے پر رہی کیونکہ یہ نہ کل آزاد عدلیہ چاہتے تھے نہ آج انکی خواہش ہے مگر قوم نے ایک فیصلہ کیا راہنمائوں کا ایک گروپ سامنے آیا اور تحریک چل پڑی، جو کامیاب رہی۔
آج پھر وقت کا تقاضا ہے کہ قیادت کا انتظار چھوڑ کر قوم خود اپنی راہنما بنے۔ اس مقصد کی خاطر ایک ’’مجلس اکابرین‘‘ بنائی جائے۔ جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے ان لوگوں کو چنا جائے جو صاحب بصیرت ہوں جن کے دامن نسبتاً آلودہ نہ ہوں اور جو اقتدار کی دوڑ میں شریک نہ ہوں۔ جن کی دانش پر قوم کو اعتبار ہو۔ ایک گلدستہ قیادت کی شکل میں یہ قومی فورم راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے تاکہ…
(1) قوم کو مایوسی سے نکال کر امید کی طرف لائے اور قومی سطح پر کنفیوژن دور کرے۔
(2)قوم کو اس حال تک پہنچانے والے تضادات کے خاتمہ کا راستہ تلاش کرے۔
(3)نوجوانوں کو لائحہ عمل دے کہ نشان منزل کا پتہ دے۔
(4)ایک نئے اسلامی، جمہوری، فلاحی نظام کا خاکہ پیش کرے۔ اور یہ آئین کے اندر رہتے ہوئے ممکن ہے، مگر کیسے؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔
(5)اور اگر ضرورت پڑے تو قوم کو غیر مسلح اور پرامن طور پر سڑکوں پہ آنے کی کال دے کہ:
"Come out into the streets and vote with your feet"
قوم کا یہ اجتماعی گلدستہ (Bouquet) قیادت جب اپنا ہوم ورک مکمل کر لے گا تو انشاء اللہ رب کریم قیادت بھی عطا کر دینگے کیونکہ قیادت تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہو تی ہے اور اللہ انعام اسی وقت عطا کرتا ہے جب وہ کسی قوم پر مہربان ہو۔ قوم جب آزادی کیلئے تیار ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے قائداعظمؒ کی قیادت عطا کر دی۔ ایرانی قوم انقلاب پر آمادہ ہوئی تو انہیں خمینی کی قیادت مل گئی۔ آج ترک قوم تبدیلی پر آمادہ ہوئی تو اسے طیب اردگان جیسا لیڈر مل گیا جس نے صدیوں کا سفر مہینوں میں طے کیا اور قوم کو نرم انقلاب کی جانب رواں کر دیا۔ اسی طرح اگر ہم ایک راستہ کا تعین کر لیں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قیادت سے نواز دیگا۔
حالات اتنی سرعت سے بدل رہے ہیں کہ عالمی استعمار کے پاس بھی کوئی روڈ میپ موجود نہیں جس سے وہ حالات کو اپنے کنٹرول میں رکھ سکے تو دوسری طرف وہ اس بات سے بھی خائف ہے کہ پاکستان میں انقلاب آنے کو ہے۔ وہ انقلاب اسلامی بھی ہو گا اور اینٹی امریکہ بھی۔ یوں حقیقت موجود اور حقیقت منتظر کے امتزاج سے ایسا چیلنج سامنے آ رہا ہے جس سے ہماری قیادتیں عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیں‘ اس لئے ضروری ہے کہ قوم اس کیلئے سبیل نکالے،ورنہ استعماری قوتیں ہمیں دو بارہ جال میں پھنسا کر Status quo کو برقرار رکھنے کیلئے تگ و دو کریں گی۔ اقبال نے شاید ایسے ہی کسی لمحہ کے بارے میں کہا تھا…؎
نیند سے بیدار ہوتا ہے کبھی محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری
البتہ ان کا یہ پرانا سحر اس بار استعمال نہیں ہو سکتا۔ فوج کو بھی یاد رکھنا ہو گا کہ اگر خدانخواستہ فوج اور عوام میں آمنا سامنا ہو گیا تو بہت نقصان ہو گا کیونکہ فوج کے Rank and File کا تعلق بھی انہی متاثرہ اور محروم طبقات سے ہوتا ہے جن کو دبانے کیلئے استعمار فوج کو ٹریپ کر رہا ہے۔ یاد رہنا چاہئے کہ فوج اور عوام کا آخری بار آمنا سامنا جولائی1977ء میں لاہور میں ہوا تھا، جب فوج نے 556 گولیاں چلائیں اور صرف پانچ افراد زخمی ہوئے یعنی فوج نے عملاً حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ فوج کو شوٹ ٹوکل کا حکم ہوتا ہے۔ اسی دن چار بریگیڈیئر حضرات نے استعفے پیش کر دیئے تھے اس لئے فوج کو آزمائش میں نہ ڈالا جائے فوج کی مداخلت کا جو فارمولا پیش کر رہے ہیں، اس میں ٹکرائو کا امکان موجود ہے جو تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ارباب دانش آگے بڑھیں اور راہنما کی لاحاصل تلاش چھوڑ کر اجتماعی دانش سے راہنمائی حاصل کرنے کی تدبیر کریں کہ یہی وقت کی ضرورت ہے۔
وہ لوگ جو چور دروازوں سے اقتدار کی مسند پر براجمان ہونا چاہتے ہیں اور ٹیکنوکریٹ حکومت کی باتیں کی جا رہی ہیں، ان سے سوال ہے کہ کیا یہ فیصلہ ہو چکا کہ قوم کو ووٹ کی طاقت سے محروم (Disenfranchise)کرنا ضروری ہو گیا ہے اور یہ فیصلہ کس نے کیا؟