پاکستان کی سیاست میں فوج کا کردار

پروفیسر نعیم قاسم ـ 2 ستمبر ، 2010
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے عوام کو جاگیردارانہ تسلط سے آزاد کرانے کیلئے آرمی کے محب وطن جرنیلوں کو اپنا کردار ادا کرنے کیلئے کہا ہے۔ پاکستان آرمی کے سپاہی سے لیکر جرنیل سب ملک سے وفاداری کا حلف اٹھا کر فوج کو جوائن کرتے ہیں مگر جب چند جرنیل ماورائے آئین اقدام کے ذریعے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا کر حکومت پر قبضہ کرتے ہیں تو وہ آئین توڑنے کے بعد یقیناً غیر محب وطن بن جاتے ہیں اور آئین کے آرٹیکل (6) کے تحت پاکستان کی ریاست سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا آج بھی آئین توڑنے کی پاداش میں ایوب خاں، یحییٰ خاں، ضیاء الحق اور مشرف میں ہمارے قومی مجرم ہیں اور سپریم کورٹ کو انکے متعلق علامتی سزائوں کا اعلان کرنا چاہئے تاہم ایم کیو ایم کے قائد کاکہنا ہے کہ آج جس حد تک کرپشن اور لاقانونیت پیدا ہو چکی ہے‘ جاگیرداروں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا رخ جس طرح غریبوں کی طرف منتقل کیا۔ ان حالات میں سپریم کورٹ کو آرٹیکل 190 کے تحت فوج کو یہ حکم دینا چاہئے کہ وہ جاگیرداروں کی زمینیں اور جائیدادیں قبضہ میں لیکر غریبوں کے حوالے کر دے‘ جن سرمایہ داروں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس نے ناجائز طریقوں سے پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار کرکے غیر ملکی بنکوں میں اربوں ڈالرز جمع کئے ہوئے ہیں اور مہنگی جائیدادیں خرید رکھی ہیں ان کا کڑا احتساب کیا جائے اور انکی ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت ضبط کرکے غریبوں کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال میں لائے جائے۔
الطاف حسین اور انکے ساتھی کسی جنرل ڈیگال کے متلاشی ہیں جو اپنی وژن کے ذریعے پاکستان کی تعمیرنو کرے اور ایسی اصلاحات متعارف کرائے جس کے ذریعے ایماندار اور قابل افراد قومی حکومت قائم ہو اور کرپٹ سیاستدانوں اور جاگیرداری نظام کے خاتمے کے بعد ایسے انداز کے انتخابی طریقے اختیار کئے جائیں جہاں طبقہ اشرافیہ اور خاندانی سیاست کا اثرورسوخ ختم ہو سکے اور ایسا ناممکن ہو کہ باپ کے بعد بیٹا اور پھر اس کا بیٹا یا خاندان کا کوئی دوسرا شخص اپنے شخصی اثر، روپے پیسے کے بل بوتے اور پارٹی کا خاندانی مالک ہونے کی بنا پر پاکستان میں اقتدار پر قبضہ جمائے رکھے۔
الطاف حسین کے خیال میں پاکستان کے عوام کی اکثریت ناخواندہ ہے لہٰذا موجودہ جمہوری نظام میں یہ ممکن نہیں ہے کہ عوام کے حقیقی نمائندے متوسط اور غریب گھرانوں سے منتخب ہو سکیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے عام کارکنوں کا بھی حق ہے کہ وہ بھی ایم کیو ایم کے عام کارکنوں کی طرح اسمبلیوں کے ممبر بنیں مگر الطاف حسین کو ان کی حالت زار پر ترس آتا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے جلسوں میں دریاں بچھا رہے ہیں مگر جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو اقتدار ملتا ہے تو ان بیچاروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے اگرچہ الطاف حسین کے تجزیے سے عام پاکستانی کسی حد تک متفق ہیں کہ اس ملک پر بدعنوان عناصر مافیا کی حکومت ہے مگر وہ جو حل تجویز کر رہے ہیں کیا اسکے نفاذ سے پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو جائیگا۔
اگرچہ ایم کیو ایم اور دوسری پارٹیوں کے بعض غریب کارکن سیاست میں کامیاب ہوئے اقتدار میں شامل ہو کر بااثر وزیر بنے مگر کیا اب بھی وہ غریب ہیں؟ اس کا اندازہ متحدہ مجلس عمل، جمعیت علمائے اسلام پیپلز پارٹی مسلم لیگ اور اے این پی کے ان کارکنوں کی جائیدادوں اور اثاثوں سے بھی ہو سکتا ہے جو پارٹی لیڈر کی کرم فرمائی سے راتوں رات غربت سے امارت کا سفر طے کر گئے ہیں لہٰذا کرپشن کا مسئلہ امیر یا غریب جاگیردار اور نان جاگیردار کا نہیں ہے۔ یہ تو لالچ اور خاندانوں کی نسل درنسل بھوک ہے جو لامتناہی ہوتی ہے جہاں تک پاکستان کی افواج میں محب وطن جرنیلوں کا تعلق ہے تو یقیناً ہر جرنیل ہی محب وطن ہے مگر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ محب وطن جرنیل کرپٹ نہیں ہو سکتا ہے کیا ایڈمرل منصور الحق اور جنرل مشرف محب وطن نہیں تھے مگر انکے پاس اربوں ڈالرز کے اثاثے کہاں سے آئے ہیں کیا ایڈمرل منصور نے نیب کو بارگیننگ کے تحت لاکھوں ڈالرز ادا کرکے رہائی حاصل نہیں کی۔
جناب کوئی جرنیل کتنا ہی بڑا محب وطن کیوں نہ ہو وہ صرف اپنا پروفیشنل کام ہی ایمانداری سے سرانجام دے سکتا ہے اس میں اسکی عزت اور شان ہے۔ قوم ایسے ہی نہیں جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل کیانی کی عزت کرتی اور ایوب خاں سے لیکر مشرف جیسے طالع آزما جرنیلوں سے نفرت کرتی ہے۔ جنہوں نے اقتدار پر قبضہ تو کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کیلئے کیا تھا مگر پھر کرپٹ اور نیب زدہ سیاستدانوں کی مدد سے ملک کے اقتدار پر قبضہ جمائے رکھا اور افواج پاکستان کے اکثر ذیلی اداروں میں اپنے کرپٹ ساتھیوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا۔
حبیب بنک اور پی ٹی سی ایل جیسے اداروں کو اونے پونے داموں بیچنے میں مشرف اور اسکے ساتھیوں نے کتنا کچھ کمایا ساری دنیا اس سے باخبر ہے سٹیل مل کو بیچنے کی کوشش میں رکاوٹ بننے پر ہی تو چیف جسٹس جناب افتخار چودھری کو مشرف کی مخالفت اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑا۔ لہٰذا کیسے ممکن ہے کہ کوئی بھی جرنیل ملکی حالات درست کرنے کا عزم لیکر اٹھے اور وہ کرپٹ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا ساتھی نہ بنے۔ یہ ایک تاریخی سچائی ہے۔
ایک غلط فہمی عمران خان کو بھی ہوئی تھی کہ شاید مشرف کرپٹ سیاستدانوں کا خاتمہ کرکے انہیں وزیراعظم بنائے گا اور خود اللہ اللہ کریگا۔ اقتدار کی جنگ میں کوئی بھی بالادست شخص اپنی گرفت کبھی نہیں چھوڑتا ہے چاہے سیاسی پارٹیاں ہی کیوں نہ ہوں تمام سیاسی پارٹیوں پر چاہے وہ ایم کیو ایم ہی کیوں نہ ہو‘ حکم اور کنٹرول چند اشخاص کا ہی ہوتا ہے پیپلز پارٹی مسلم لیگ(ن) اے این پی جمعیت علمائے اسلام خاندانی برانڈ پارٹیاں ہیں۔ جو ہر دور میں اس طرح رہتی ہیں کیا کوئی محبت وطن جرنیل کسی خاندانی سیاسی پارٹی کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنی اپنی پارٹیوں میں عام کارکنوں کو اعلیٰ عہدے دیں اور فیصلہ سازی میں ان کا حق تسلیم کریں‘ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ضیاء الحق غیر جماعتی الیکشنوں کے ذریعے پاکستان سے جماعتی سیاست کا مکمل خاتمہ کر چکا ہوتا ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ اور غیر جماعتی الیکشن الطاف حسین کے نظریے کے قریب تر نظریہ تھا ضیاء الحق پاکستان میں قرآن و سنت کے نظام کا داعی تھا اور یقیناً محب وطن تھا۔
روس کو شکست دیکر وہ مجاہد اسلام بن چکا تھا کیا اس نے سیاست سے کرپشن، منافقت، بدعنوانی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ نہیں یقیناً نہیں حالانکہ سپریم کورٹ بھی اسکے ساتھ تھی آج کسی طرح محب وطن جرنیلوں اور ججوں کے ملاپ سے پاکستان میں ایسی اصلاحات لائی جا سکتی ہیں جس سے عوام کی فلاح و بہبود اور سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ قارئین، ایوب خان اور یحییٰ خاں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر پاکستان کو امریکی مفادات کی جنگ میں دھکیل دیا اور جنرل مشرف نے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے پر مجبور کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی وہ آگ سلگائی ہے جو بجھنے کا نام ہی نہیںلے رہی ہے اب تک اس جنگ میں 15 ہزار سے زیادہ فوجی اور سویلین شہید ہو چکے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو 43 بلین ڈالرز کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ کیا پاکستان کی آرمی سے کوئی جنرل ڈیگال جیسا مدبر پیدا ہو سکتا ہے اور وہ پاکستانی قوم کا نجات دہندہ بن جائیگا۔
پاکستان کی سماجی، سیاسی اور علاقائی پوزیشن فرانس جیسی نہیں ہے جو جنگ عظیم دوم کے بعد تباہ ہوا تو جنرل ڈیگال نے ملکی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان آرمی کا بحیثیت ادارہ اپنی ترجیحات، کلچر، اخلاقیات، سوچ، اصول اور رول آف بزنس ہوتا ہے جسکے تحت وہ ریاست اور حکومت کے اکثر معاملات پر مکمل تسلط رکھنے کی آرزومند ہوتی ہے جیسا کہ خارجہ پالیسی اور نیوکلیئر معاملات اور سٹریٹجک ایشوز پر کوئی بھی سول حکومت پاکستان آرمی کی بطور ادارہ حیثیت کو چیلنج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔ لہٰذا محب وطن آرمی کے جرنیل حکومت کی داخلہ اور خارجی پالیسی میں فوج اور ریاست کے بنیادی مقاصد کے تحفظ کیلئے ہر وقت کردار ادا کرتے ہیں۔
مگر طالع آزما جرنیل جب یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے سول ادارے انتہائی غیر فعال ہو چکے ہیں ڈلیور کرنے سے عادی ہو چکے ہیں تو پھر اپنی خونخوار فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور ناکام سیاستدانوں کو پکار کر اصلاح احوال کیلئے اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں جبکہ جنرل کیانی جیسے دانشور پردے کے پیچھے رہ کر ریاست کے سیاسی سٹرکچر کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں تاریخ کے جدلیاتی عمل کا گہرا شعور اور ادارک ہے لہٰذا انکی بھرپور کوششوں سے حکومت، اپوزیشن، فوج، پارلیمنٹ اور عوام کے درمیان ایک ہم آہنگی اور توازن برقرار ہے۔
لہٰذا کسی بھی قسم کا ایڈونچر پاکستان کیلئے اس نازک موقع پر تباہی و بربادی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں آرمی کی مداخلت کی نوعیت کی وجہ سے آرمی کی ٹاپ براس ہمیشہ ایک نئے طبقہ اشرافیہ کے طور پر ابھرتی ہے اور یہ سماجی ایلیٹ بیورو کریٹس، فیوڈلز سرمایہ داروں اور ٹیکنو کریٹس سے ملکر اپنے ذاتی ایجنڈے اور خاندانی اور مالی تحفظ کیلئے کام کرتی ہے حتیٰ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایسے جرنیلوں کی اکثریت یا تو سیاسی پارٹیاں قائم کر لیتی ہے یا آرمی اور بڑے بڑے پرائیویٹ ٹھیکیداروں کی ملازمتیں حاصل کرکے زمین اور جائیدادوں کی فروخت پر لگ جاتے ہیں مگر دعوے یہ کرتے ہیں کہ وہ ملک و قوم کے ہمیشہ نجات دہندہ تھے۔
قوم پتہ نہیں کیوں ان کی قدر نہیں کر رہی ہے لہٰذا الطاف حسین سے اپیل ہے ایسے تمام محب وطن ریٹائرڈ جرنیل اپنی پارٹی میں شامل کر لیں تو انہیں اپنے نئے Thesis کی عملی حقیقت عیاں ہو جائیگی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں