سیلاب کی کوکھ سے انقلاب کی اُمید

ـ 2 ستمبر ، 2010
ڈاکٹر علی اکبر الازہری .....
رمضان المبارک کا آغاز ہوا تو سیلِ بلا شمالی علاقہ جات کی بلندیوں سے پھنکارتا ہوا نشیبی بستیوں کی طرف اتر رہا تھا۔ اب اسکی طوفانی لہریں خیبر پی کے، جنوبی پنجاب ، بلوچستان اور سندھ کے ہزاروں قصبات کو صفحہ ہستی سے مٹاتے ہوئے سمندر سے ٹکرانے جار رہی ہیں تو رمضان بھی آخری عشرہ اعتکاف کی رونقیں سمیٹے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہزاروں افراد پر مشتمل منہاج القرآن کا ’’شہر اعتکاف‘‘ جو گذشتہ ربع صدی سے زندہ دلانِ لاہور کے دینی جذبات کا مظہر ہوا کرتا تھا اس مرتبہ اسے بھی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے سیلاب زدگان کیساتھ اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے منسوخ کردیا ہے۔ گویا انسانی بستیاں اجاڑنے والا سیلاب عبادت گاہوں کی رونقیں بھی نگل گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری سمیت ہمارے جملہ مذہبی رہنماؤں نے اس مرتبہ بہ یک زبان عمرہ اور اعتکاف جیسی عبادت کو سیلاب زدگان کی مدد کی خاطر منسوخ کر کے عوام کے دل و دماغ میں خدمت خلق کے فریضہ کی اہمیت اجاگر کی ہے جو مصیبت کی اس مشکل گھڑی میں ایک اچھا پیغام ہے۔ جملہ دینی قیادت نے زبانی جمع خرچ کی بجائے دیگر فلاحی اداروں کے شانہ بشانہ اپنے ہزاروں کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج کر مواخاتِ مدینہ کی سنت تازہ کردی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ حالیہ سیلاب کی بد ترین تباہ کاریوں سے ۲ کروڑ ہم وطن متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان سیلاب زدہ علاقوں سے متعلق ہیں جن کے گھر بار کھیتی باڑی جانور، اور کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ دیکھا جائے تو حقائق اس سے خاصے مختلف ہیں۔ ۲ کروڑ تو وہ ہیں جو براہِ راست تباہی کا شکار ہوئے ہیں مگر کیا اس بد ترین تباہی کے اثرات کا دائرہ صرف انہی لوگوں تک رہے گا ہرگز نہیں، مہنگائی کی شرح میں کم از کم ۲۵ فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ خوردنی اشیاء ابھی سے مفقود ہونا شروع ہو گئی ہیں کیونکہ بڑے مگرمچھوں نے چاول گندم دالیں چینی اور ان علاقوں میں استعمال ہونیوالی ادویات کا سٹاک کرنا شروع کردیا ہے۔ تاکہ قیمتیں بڑھیں اور بہتی گنگا میں وہ بھی خوب ہاتھ دھو سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مہینہ بھر جم کر برسنے والی بارشیں اور انکے نتیجے میں بپھرنے والی طوفانی لہروں نے گلگت سکردو سے لے کر ٹھٹھہ اور کراچی تک پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس رفتار سے اجتماعی جرائم اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ نوشتہ دیوار ہے۔ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی امدادی رقوم اور سامان میں اگرچہ اضافہ ہو رہا ہے لیکن گذشتہ ایک ماہ کی کارکردگی بڑی حد تک مایوس کن ہے۔ مرکز اور صوبائی حکومتی مشنری اس امداد کو منظم اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں بلکہ ہمارے سیاستدان اور بالخصوص وفاقی کابینہ کے ذمہ داران اس وقت بھی مال بنانے اور سمیٹنے کی فکر میں ہیں۔ کئی ممالک کی طرف سے ملنے والا قیمتی سامان مستحقین میں تقسیم ہونے کی بجائے بازار میں فروخت ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس افسوسناک امر کا انکشاف کسی اپوزیشن جماعت نے نہیں بلکہ US ایڈ کے اعلیٰ عہدیدار اور سعودی سفیر نے برملا اپنے اپنے سامان کے بارے میں کیا ہے۔ اس بات سے عالمی خدشات کو تقویت پہنچتی ہے کہ پاکستانی حکومت کی ساکھ اندرونِ وبیرون ملک سے متوقع امداد کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی لئے گذشتہ کالم میں ہم نے غیر جانبدارانہ ’’قومی کمیشن برائے بحالی‘‘ کی تجویز دی تھی جو بدنام حکومتی ساکھ کا واحد حل تھا۔ اس میں حکومتی اداروں کی عزت بھی رہ جانی تھی اور بحالی کا کام بھی خوش اسلوبی سے تکمیل پذیر ہو جانا تھا مگر ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ یہ خواہش بھی دیگر ہزاروں خواہشات کی طرح محض خواب ہی ثابت ہوئی۔
صورتحال یہ ہے کہ بااثر لوگوں کے ڈیروں پر ٹرکوں کے ٹرک خالی ہوتے ہیں اور یہ خبریں میڈیا میں عام ہو چکی ہیں کہ یہاں بھی عام آدمی کی بجائے اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں کو تلاش کر کے نوازا جارہا ہے اور یہ صورتِ حال بالخصوص PP اور ن لیگ کے درمیان موجودہ سیاسی مقابلہ بازی کے دوران دیکھنے میں آرہی ہے۔ ابھی تو خیموں، کھانوں اور ضروری اشیاء کے پیکٹوں کی تقسیم کا ہنگامی مرحلہ ہے۔ اصل دنگل اور کرپشن کا سیلاب تو اس وقت متوقع ہے جب ان بے گھر لوگوں کو اپنے اپنے علاقوں اور گھروں میں واپس آباد کرنے کی کوشش ہو گی اور معاوضوں کی لسٹیں تیار ہوں گی۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ معاوضہ تقسیم کرنیوالی کمیٹیوں میں شامل ہونے والے بڑے بڑے ہاتھ ’’بھاری انوسٹمنٹ‘‘ کے ساتھ متحرک ہو چکے ہیں۔ غریب کسان بیوہ عورتوں اور لٹے پٹے ہاریوں کے برعکس ایسے بااثر لوگ تباہ شدہ املاک کے بھاری گوشوارے بنانے میں مصروف ہوچکے ہیں جو خود اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔
ہماری قوم میں جعلی استحقاق جتلانے کی عادت تو پاکستان بننے کے فوری بعد پختہ ہو گئی تھی جب یار لوگوں نے ’’پودینے کے باغات‘‘ کا رونا رو کر سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی اور بڑی بڑی حویلیاں اپنے نام کروالیں۔ جبکہ حویلیوں میں رہنے والے خاندان پاک سر زمین میں آکر اپنی عزت بچانے کی فکر میں سرگرداں رہے۔ انہیں جہاں بھی سر چھپانے کی جگہ مل گئی اسے غنیمت سمجھتے ہوئے صبر شکر کیساتھ از سرِ نو محنت شروع کردی۔
قومی سطح پر اس وقت لوٹ مار مچانے والے نوسرباز انہی جعلی جاگیرداروں اور کاغذی رئیسوں کے چشم و چراغ بتائے جاتے ہیں۔ جو لوگ عام حالات میں ذخیرہ اندوزی کرکے غریب عوام کے کروڑوں اربوں روپے جمع کرنے سے نہیں شرماتے اور پنجاب بنک سکینڈل کے ہمیش خان سے کروڑوں روپے وصول کر کے جھوٹ بد دیانتی اور کرپشن کی وکالت کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچا کر بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں ایسے دیدہ دلیر لوگوں کیلئے امدادی رقوم ہڑپ کرنا کون سا مسئلہ ہے۔ جبکہ ان کے سامنے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف اور اسکی کابینہ کی ’’حسنِ کارکردگی‘‘ بھی موجودہے‘ اسلئے تباہ شدہ پاکستانی معیشت اور نڈھال قوم پر مزید ظلم کے پہاڑ گرانے والے ’’معماروں‘‘ کی خدمت میں درخواست ہے کہ خدارا اﷲ تعالیٰ کے عذاب کو مزید دعوت نہ دیں۔
زخم خوردہ قوم کے صبر کو مزید آزمانے سے احتراز برتیں اور کرپشن سے آلودہ ہاتھوں کو اس بار اپنی حدوں میں رہنے دیں۔ ایسا نہ ہو کہ دو کروڑ بے بس انسانوں کا ریوڑ انتقام کے سفر پر گامزن ہو جائے اور کاخِ امراء کے درو دیوار بھی اسی طرح بہہ جائیں جس طرح بے رحم پانی انکی کچی جھونپڑیاں بہا کر لے گیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں