اور اب وزیرستان؟…(آخری قسط)
عامرہ احسان ـ 2 جون ، 2009
خوش ہو کر تو کھاتے ہی ہیں غمگین ہوں تو بھی کھا کر ہی غم غلط کرتے ہیں۔ کھانا شادی بیاہ کا ہو سوئم‘ جمعراتوں‘ چالیسویں کا۔ ہمیں فرصت نہیں اعلیٰ ارفع مقاصد کی طرف متوجہ ہونے یا مغز کھپانے کی۔ قوم سمجھ ہی نہیں پا رہی کہ وہ کس دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اسکے تقاضے کیا ہیں۔ اس دور میں قرآنی علم‘ احادیث‘ تاریخ اسلامی کا علم‘ اسوۂ صحابہ‘ کس درجہ لازم ہے۔ اس سے گزرنے کیلئے مانگے تانگے کی دانشوری کام نہ دیگی جو چیلنج درپیش ہیں اس میں صرف اللہ کے نور سے دیکھنے والی آنکھ کام دے سکے گی ورنہ گھپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہ جائیں گے۔ اللہ کی صفت الحکم (دانا) ہے۔ اس کا قرآن حکمت و دانائی کا سرچشمہ القرآن الحکیم ہے۔ آنیوالے وقتوں کی رہنمائی اللہ کے نور سے منور نبی کریمﷺ کی نگاہ ہی سے ملے گی۔
اسے فسق و فجور میں ڈوبے منبع ہائے معلومات (Sources of information) سے تلاش کرنا عبث ہے۔ یہاں جو چیز بٹتی ہے وہ ژولیدہ فکری (Confusion) ذہنی انتشار اور تشکیک کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نفاق میں سب سے بڑا عنصر شک اور ایمان میں سب سے بڑا عنصر یقینی ہے۔ اللہ کی ذات مبارکہ میں شک توحید میں شک‘ رسالت میں شک ‘ آخرت میں شک‘ قرآن کی حقانیت اور اسکے قابل عمل (Practical) ہونے میں شک اہل ایمان پر شک‘ بہترین قیادتوں میں شک کا کیڑا ڈال کر انہیں بے وقعت کر دینا تاکہ امت بے سروسامان ماری ماری حیران و سرگرداں پھرتی رہے۔ شک ڈالنے کیلئے بظاہر بہت فیئر اور Objectiveبننے والے اینکر پرسن وڈیو سوات جیسی ناقص بھونڈی ڈرامہ نما آفتاب پر تھوکنے کی کوشش کو ثبوت کے طور پر پوری ڈھٹائی کیساتھ پیش کرتے ہیں حالانکہ اس کا جھوٹا ہونا اظہر من الشمس ہے۔ مقصد پروپیگنڈا اور نفرتیں بھڑکانا ہے۔ یہ سب اس دور میں ہو رہا ہے جو صفیں درست کر لینے کا دور ہے۔ باب الفتن کی احادیث اور سورہ کہف کی روشنی میں تیاری کا دور ہے اور ہمارے لکھاری ابھی اس غم سے نہیں نکل پائے کہ سوات تو فلمیں بنانے کا بہترین رومانٹک سپاٹ تھا۔ کوئی محرومی سی محرومی ہے اس قوم کی! اللہ نے چھانٹی کیلئے چھلنیاں لگا دی ہیں وارننگ دے رکھی ہے کہ ’’تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور تم میں سے شہدا جھانٹ لینا چاہتا تھا کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں اور وہ اس آزمائش کے ذریعے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کر دینا چاہتا تھا۔ (آل عمران140-150)
’’کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسکی راہ میں جاں فشانی کی اور اللہ اور رسولﷺ اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے( التوبہ16)
مگر اس قوم کا جہل اور بے خبری تو یہ ہے کہ سمجھا یہی جاتا ہے کہ دنیا‘ اسکے احوال اور اپنی بے پناہ ذمہ داریوں سے نابلد ہم یونہی ناچتے‘ گاتے بجاتے‘ کھاتے پیتے عشق و راحت میں مگن فلمیں دیکھتے گانوں پر سر دھنتے محافل عیش و طرب میں سے اٹھ کر چپلیاں گھسیٹتے جنت جا پہنچیں گے۔ آہ فما ظنکم برب العالمین۔ تم نے اس کائنات کے پروردگار کو کیا سمجھ رکھا ہے؟ کس ظن و گمان پر بہکے چلے جا رہے ہو؟ مالکم لاترجون اللہ وقاراً :’’ تمہیں کیا ہو گیا تم اللہ کیلئے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟‘‘
امریکہ کے وقار کے خوف سے لرزتے کانپتے ہو۔ اس بت پر قوم مسلم کی جوان لاشوں کے چڑھاوے چڑھاتے اور بیٹیاں بیچتے ہو۔ ایک عافیہ ہی نہیں بے شمار لاپتہ ہیں۔ باقی خیموں میں دربدر ہیں حالانکہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑے اور بھاری فیصلوں کا دور ہے۔ جس کی پیشگوئیاں ان دو ہزار اشعار میں بھی حرف بحرف ملتی ہیں احادیث کے اتباع میں جو سید نعمت اللہ شاہ بخاریؒ کے حوالے سے مذکور ہیں۔ جس کا بہت بڑا حصہ تکمیل پا چکا ہے۔ جس کی لارڈ کرزن وائسرائے ہند اس کی اشاعت ممنوع قرار دی تھی۔548ھ میں تصنیف کردہ اس قصیدے نے اب تک کی برصغیر کی تاریخ حرف بہ حرف پوری کی ہے۔ اور احادیث ہی میں خراساں سے اٹھنے والے لشکروں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
از غازیاں سرحد لرزد زمیں جوں مرقد
بہر حصول مقصد آئند و الہانہ
صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات کے بہادر غازیوں کے جذبہ جہاد سے زمین ہلنے لگے گی۔ یہ غازی اعانت و حمایت دین حق کی خاطر والہانہ لپکتے ہوئے آئینگے۔ ( ایک عظیم خوشخبری از سیدہ حمیرا مودودی ماہنامہ خطیب ماہ مئی2009) تاہم ان والہانہ لپکنے والوں کو شکار کرنے کا تذکرہ یہاں نہیں ہے۔ آگے کے اشعار اس میں عرب مجاہدین کی شمولیت‘ کفر کے خلاف جہاد کی صف بندی‘ مقبوضہ کشمیر کی فتح تا غزوہ ہند کی فتوحات کی بشارتیں لئے ہوئے ہے۔
یہودونصاریٰ و ہنود کی بربادی کی اس تسلسل میں پیش گوئی پر اس قصیدے کوپڑھنے‘ پاس رکھنے کو تاج برطانیہ کیخلاف بغاوت کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔ لکھنے والے نے اسے مسلمانوں کی فتح و نصرت کیلئے تائید غیبی اور ہمت بندھانے کا موجب قرار دے کر اشعار کی لڑی میں پرویا تھا۔ ایسے میں کون ہے جو قرآن حدیث‘ تاریخ اور ان اشعار پر کان دھرتے ہوئے آنیوالے وقتوں کی تیاری نہ چاہے گا ماسوائے دنیا سے چمٹ کر ڈھائی ہزار سال جینے کی امید رکھنے والوں کے … اور ایسے میں مجاہدین کیلئے ایسی دور کی کوڑیاں لانا اور درفنطنیاں چھوڑنا ایک تسلسل کیساتھ کہ طالبان بھارتی ایجنٹ ہیں۔ اس کیلئے ان کا بسا اوقات غیر پختون ہونا سب سے بڑا ثبوت ہے حالانکہ یہ بیچارے امریکہ نیٹو کیخلاف صف آراء ازبک چیچن ہیں جنہیں پاکستان سے جنگ میں الجھا دیا گیا ہے ورنہ یہ پاکستان سے محبت رکھنے والے اسے اپنے اسلام دشمن علاقہ جات سے نکل کر دارالہجرت بنانے والے مجاہدین تھے۔ روسی تسلط کے باعث ان علاقوں میں یہ غیر پختون رہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کل اسلام کا دار و مدار اسی ایک سنت پر ہے۔ اس ایک سنت پر مجاہد بھارتی ایجنٹ بن جاتا ہے اور پاکستانی امریکی صف میں لڑتے ہوئے بھی مومن صالح۔
دوسرا الزام جو جگالی کیا جا رہا ہے امریکی اسلحے سے لیس ہونے کا ہے کہ طالبان کے پاس یہ کہاں سے آیا؟ امریکہ انہیں مسلح کر کے بھیج رہا ہے حالانکہ روسی جنگ میں بھی روسی ہتھیار چھین کر‘ مال غنیمت کی شکل میں یا چرس‘ ہیروئن خریدنے کی خاطر اسلحہ بیچ ڈالنے والے روسیوں سے ہتھیار ہتھیا کر ہی مجاہدین لڑتے رہے۔ یعینہ یہی خبر اب امریکی میڈیا نے بھی دے دی ہے کہ طالبان کے پاس بہترین امریکی اسلحہ پہنچ چکا ہے اس میں مذکورہ بالا وجوہات کے علاوہ کنٹینروں سے قابو کیا گیا اسلحہ شامل ہے۔ اس اسلحے کی بدولت طالبان تو قرار پائے امریکی ایجنٹ اور ہم جن کیساتھ امریکی موجودگی‘ عملی مدد کے شواہد سامنے آ رہے ہیں اور دن رات امریکی اہلکار اسلام آباد براجمان رہتے ہیں۔ اس سب کے باوصف ہم جہاد ہی فرما رہے ہیں…؎
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں