چین کو گھیرنے کی تیاریاں
Different ـ 2 جون ، 2009
نصرت مرزا
یہ اگست 2003ء کی بات ہے کہ ریجنل اسٹڈیز انسٹیٹیوٹ نے ایک تین روزہ سیمینار جس کا عنوان تھا ’’جنوبی مشرقی ایشیا اور بڑی طاقتیں‘‘ کا اہتمام کیا اس سیمینار میں امریکہ‘ روس‘ برطانیہ‘ چین‘ فرانس‘ سری لنکا‘ بنگلہ دیش‘ انڈیا اور دیگر ممالک کے دانشوروں نے شرکت کی تھی۔ نوائے وقت نے اس سیمینار کی روداد دس قسطوں میں اور چین کی پالیسی سے متعلق 23 اور 26 اگست 2003ء کو شائع کی تھی۔ اس سیمینار میں چین کے ایک پروفیسر ہوشی شنگ نے چین کی پالیسی پر اپنا مقالہ پڑھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا چین عدم تصادم اور صنعتی ترقی کی پالیسی پر کاربند ہے جبکہ امریکہ اس کی ترقی کو روکنے کیلئے چین کو گھیرنے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کی سوچ رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا‘ امریکہ کی ٹوکری میں اچھل کر بیٹھنے کو تلے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے بارے میں تو یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی سارے موسموں کی دوستی ہے وہ کیسے امریکہ کا ساتھ دے سکتا ہے‘ ویسے بھی انڈیا بھی انکل سام کے زیادہ کام کا نہیں ہے کیونکہ انڈیا کی بحرہند میں روز بہ روز بڑھتی دلچسپی اور زیادہ سمند ری حدود کی طلب امریکہ اور انڈیا کے درمیان کشمکش کو بڑھا دیگی اسکے برعکس آج ہم دیکھتے ہیں کہ اب چین کو گھیرنے کی امریکی پالیسی روبہ عمل لائی جا رہی ہے۔
ہندوستان میں اب پاکستان کو دشمن نمبر ایک قرار دینے کی بجائے چین کو بڑا دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے پہلے دور حکومت میں نیکسلائٹ کو پاکستان سے بڑا دشمن قرار دیا تھا اسلئے کہ نیکسلائٹ نے ہندوستان کے تقریباً 8 صوبوں کو اپنی سرگرمیوں کی زد میں لیا ہوا ہے اب ہندوستان نے ان سے نمٹنے کیلئے ’’سلوا جدون‘‘ کے نام سے ایک دہشت گرد سرکاری تنظیم بنا ڈالی ہے۔ جو ان کیخلاف سرگرم عمل ہے اور جو سرکاری تنظیم ہونے کے باوجود ریاستی قاعدے قوانین کو نہیں مانتی‘ من موہن سنگھ کے بعد انڈین ایئر چیف مارشل نامی میجر نے کہا ہے کہ بھارت کیلئے چین پاکستان سے بڑا خطرہ ہے ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو چین کی فضائی صلاحیتوں کے بارے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور کچھ معلومات ہیں تو صرف یہ کہ چینی فضائیہ خود کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے‘ اس لئے بھارت چین کی سرحد پر 5 ایئر بیس کو توسیع دے رہا ہے جہاں روسی و امریکی طیارے رکھے جائیں گے اب ان دونوں بیانات میں چین ہی ہدف ہے کیونکہ نکسلائٹ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو چین سے امداد ملتی ہے۔
اسکے علاوہ بھارتی یہ اب اس لئے بھی کہنے لگے ہیں کہ انکی فضائیہ نے شاید پاکستان پر برتری حاصل کر لی ہے اور یہ کہ امریکی مدد سے پاکستان کو رام کر لیا ہے۔ پاکستان کے حکام سے بھی یہ بات کھلوائی جا رہی ہے کہ بھارت نہیں بلکہ پاکستان کو طالبان سے خطرہ ہے۔ یہ ہی نہیں بھارت کو افغانستان اور سینٹرل ایشیا تک زمینی رسائی دینے کی بات شاید جناب آصف علی زرداری کے دورہ امریکہ کے دوران منوا لی گئی ہے۔ اسکے بعد امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے سربراہان نے انڈیا کا دورہ کرکے بھارت کے رہنماؤں کو یہ خوشخبری سنائی۔
دوسرے امریکہ نے ہی افغانستان میں بھارتی فوج کی موجودگی کو حق کے طور پر پاکستان سے تسلیم کرا لیا ہے اور ساتھ پاکستان کو راضی کر لیا ہے کہ وہ ہندوستان کی سرحد سے فوج کی تعداد کم کرکے افغانستان کی سرحد پر لگا ڈالے۔ پاکستان نے اس امریکی حکم کی تعمیل میں سرعت سے کام لیا اور ایک خاصی بڑی تعداد کو اپنی مشرقی سرحد سے ہٹا لیا ہے۔ یوں پاکستان نے ہندوستان کی برتری کو اصولاً تسلیم کر لیا ہے۔
جبکہ امریکہ کا ایک مقصد ہندوستان کو چین کے گھیرنے کیلئے استعمال کرنا ہے۔ دونوں ممالک یعنی چین اور ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی آبادی کے ملک ہیں۔ چین صنعتی ترقی کر چکا ہے۔ ہندوستان اس کیلئے کوشاں ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اب سے دس سال بعد جب چین امریکہ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آئے تو اس وقت انڈیا اس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ امریکہ کی حمایت میں چین کو للکارے اس کیلئے امریکہ ہندوستان کی معیشت کو وسعت دے رہا ہے۔ اس کو تجارت کے مواقع فراہم کر رہا ہے اسکے راستے کی رکاوٹیں دور کرتا جا رہا ہے۔
1947ء میں ہندوستان کی معیشت دو حصوں میں بٹ گئی تھی اور دونوں حصے اپنے اندر کی طرف دیکھتے ہوئے بن گئے تھے ‘ ایک دوسرے کی مدد کی بجائے ان کی معیشتیں ایک دوسرے کیساتھ متصادم ہیں پھر 1971ء میں بنگلہ دیش کے بن جانے کے بعد یہ معیشت تین حصوں میں بٹ گئی تھی۔ اب اسکو یکجا کیا جا رہا ہے جسکے یہ بھی معنی لئے جا سکتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی معیشتوں کو مسمار کر دیا جائیگا۔
اگرچہ آصف علی زرداری نے یہ نعرہ لگایا ہے کہ اب پاکستان کے سامان کی انڈیا کی مارکیٹ ہو گا۔ ہم اسے خواب کی باتیں سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی سوچ پر ماتم کرتے ہیں اور یہ ہی کہیں گے کہ ’’فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ‘‘ امر واقعہ یہ ہے کہ انڈیا نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کی مارکیٹوں پر قبضہ جما لے گا بلکہ ان راستوں سے وہ سینٹرل ایشیا اور برما سے آگے مشرق بعد میں اپنا سامان زیادہ کم لاگت میں پہنچا سکے گا۔ یہ الگ بات ہے۔ انڈیا امریکہ کو اس کا ٹیکس بھی ادا کرتا رہے گا۔ سامان حرب خریدنے کی شکل میں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چین کی ہندوستان سے اچھے پڑوسی جیسی تعلق داری کامیاب نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس کی یہ کوشش کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں تو جنوبی ایشیا میں امریکہ کی مداخلت کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ امریکہ نے اپنی مداخلت کو یقینی بنا لیا ہے۔ پشتون بیلٹ کے جذبات سے کھیل کر اپنے اس علاقہ میں رہنے اور اپنی سازشوں کو جاری رکھنے کے اسباب پیدا کر لئے ہیں۔ پھر پاکستان کو زیر کرنے کی خواہش نے انڈیا کو بھی امریکہ کے جال میں پھنسا دیا ہے۔ انکا یہ لالچ کہ وہ علاقہ کی بڑی طاقت بن جائیگا اور یہ کہ اس کی معیشت ترقی کریگی وہ چین کو گھیرنے کی امریکی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے دستیاب ہو گیا ہے۔
پاکستان اس وقت بے بس پنچھی کی مانند ہے جو صیاد کی قید میں اپنے بال و پر کٹا بیٹھا ہے اور اس پر افسوس یہ ہے کہ ایسے لوگ حکمران ہیں جن کی سوچ کی وسعت گزوں میں ناپی جا سکتی ہے۔ اسکے بعد انڈیا کو سلامتی کونسل کی مستقبل ممبری مل جائیگی اور پاکستان کو بھیک ملتی رہے گی جب تک امریکہ کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ ہم تم تو زر کے ویسے بھی رسیا ہیں… یہ ہی ہماری پرواز کی معراج ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں