میلاد کانفرنس .... قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

رانا عبدالباقی ـ 2 فروری ، 2012
بلاشبہ تمام تعریفیں اللہ سبحان ہو تعالیٰ کےلئے ہی ہیں جو خالق کائنات ہے اور درود و سلام نبیءکریم حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کےلئے جنہوں نے خالق کائنات کی ہدایات پر مبنی دین اسلام کی تعلیمات سے دنیا کو منور کیا یا پھر وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے رسول مقبول سے فیض حاصل کرتے ہوئے دین اسلام کو عام کرنے کے مشن کو اپنا مطمع نظر بنایا اور اسلامی نظریات کو اطراف عالم میں پھیلا دیا ۔ یہی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمان حضور نبیءکریم کی تعلیمات سے جذب و کیف کےساتھ جُڑے رہے تو دنیا میں اللہ کی خطیر نعمتوں سے بھی فیض یاب ہوتے رہے ۔
اسلامی دنیا کے عروج و زوال کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب تک اسلامی طریق حیات اور سنت نبوی کے شعائر اخلاق و عدل پر عمل پیرا رہے وہ دنیا کے چاروں اَور اپنی کامرانیوں اور شادمانیوں کا چرچا کرتے رہے اور جس سمت بھی گئے فتحیاب ہوتے رہے لیکن جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کے روحانی مقصد حیات کو بھلایا تو شکست و زوال ہی اُن کا مقدربن گیا ۔ آج بھی اسلامی دنیا اور بالخصوص مملکت خداداد پاکستان جن معاشرتی ، اقتصادی اور سیاسی مسائل کا شکار ہے اُس کا ایک بڑا سبب اسلامی طریق حیات اور بالخصوص اسلامی اخلاق و عدل سے انحراف ہی ہے ۔ علامہ اقبال نے اِس کیفیت کو اپنے چند شعار میں بڑی خوبی سے بیان کیا ہے .......
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم
خکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
علامہ اقبال انسانی قلندرانہ وجدان کے حوالے سے پیغام خداوندی اور نبی کریم کی تعلیمات سے حاصل ہونے والی قوتِ عشق کو ہی اسلامی فکر و نظر کی اساس سمجھتے ہیں جس سے دائمی روشنی حاصل کرتے ہوئے اِس پیغام الہی کو جرا¿ت رندانہ سے علماءمشائخ اور صوفیاءکرام نے دور دراز علاقوں اور خطوں تک پھیلانے کےلئے بےخوف و خطر بے محابا کام کیا ۔ جناب شورش کاشمیری نے حرمین شریفین کی زیارت کے بعد اِسی قوت عشق کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ، شب جائے کہ من بودم،میں لکھا تھا:
" عشق بڑی نازک چیز ہے ، میں خاطی و عاصی انسان ہوں خدا جانے میرے قلم نے کہاں تک میرا ساتھ دیا ہے ، بہرحال وہ مشاہدات اور تجلیات کون لکھ سکتا ہے جو کعبة اللہ اور مدینة النبی کی حاضری سے ملتی ہیں۔ جس طرح زم زم صدیوں سے اُبل رہا ہے اور اُس کا پانی ختم نہیں ہوتا ، اِسی طرح بیت اللہ کی عظمت اور حرم نبوی کی نزاکت کے تذکرہ کی حد یا کنارہ نہیں ، اللہ اور رسول کے گھروں کو ہمارے قلم کی احتیاج نہیں، حاجت مند تو ہم ہیں کہ اُنکے ذکر سے اپنی دنیا سنوارتے اور آخرت کا توشہ پاتے ہیں " ۔
قارئین کرام ! یہی وہ فکر ہے جو دین اسلام کو پھیلانے میں علماءمشائخ اور صوفیا اکرام کی زندگیوں میں انقلاب بپا کرنے کا موجب بنی جس نے حضور اکرم کی تعلیمات کو چاروں عالمِ اطراف زبان زد عام کردیا ۔ اور یہی وہ فکر تھی جو چند روز قبل اسلام آباد کنونشن سنٹر کے وسیع و عریض ہال میں اصلاحی جماعت عالمی تنظیم العارفین کی منعقد کردہ میلاد مصطفےٰ کانفرنس میں جوق در جوق خواتین و حضرات کی شرکت کی صورت میں نظر آئی ۔ فکر مصطفےٰ سے یہ والہانہ وابستگی ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے عوام الناس سیاسی رہنماﺅں کی زبانی کلامی موشگافیوں سے مایوس ہیں اور تعلیمات نبوی سے ہی مستفید ہو کر اپنی دنیاوی زندگیوں اور آخرت کو سنوارنا چاہتے ہیں ۔
دربار عالیہ حضرت سلطان باھوؒ سے وابستہ یہ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ، حضرت سلطان باھو کے خانوادوں سلطان محمد علی اور سلطان احمد علی کی قیادت میں نبی کریم کی تعلیمات کو عام کرنے کےلئے گذشتہ چند برسوں سے اپنی کاوشوں میں مصروف نظر آتی ہے ۔ چنانچہ اِس میلادِ مصطفےٰ کانفرنس میں اسلامی جذبوں سے سرشار بڑی تعداد میں نوجوانوں ، بزرگوں اور حجاب سے معمور لڑکیوں و خواتین کی شرکت یہی پیغام دیتی نظر آتی تھی کہ ملکی اشرافیہ کے برعکس ہمارے عوام الناس پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو ہی اپنا اُوڑھنا اور بچھونا بنانا چاہتے ہیں ۔تنظیم العارفین کی یہ کاوشیں اِس لئے بھی قابل تحسین ہیں کہ حضرت سلطان باھو کے یہ دونوں خانوادے نوجوان نسل سے تعلق رکھنے کے باوجود ملک میں مادیّت پرستی سے پیدا ہونےوالے عدم استحکام کے خلاءکو پُر کرنے کےلئے پاکستانی معاشرے بالخصوص نوجوان نسل کو روحانی بیداری کی جانب گامزن کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ میلادِ مصطفےٰ کے حوالے سے اِس کانفرنس کی صدارت اعلیٰ حضرت سلطان محمد علی صاحب نے فرمائی جن کی جذب و کیف میں ڈوبی ہوئی دعا نے بھی حاضرین کو فکر مصطفےٰ سے گرما دیا ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی مطیع اللہ قادری نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ اسوہ حسنہ کو اپنایا جائے جو مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ ہے جبکہ سیرت النبی سے انسانی ہمدردی کا پہلو ہمارے معاشرے مےں پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کرنے کےلئے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جذبہ محبت بیدار ہو۔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ سلطان احمد علی نے اپنے تفصیلی خطاب میں نبی کریم کی تعلیمات کی جانب لوٹ جانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مادیّت پرستی اور ملکی اشرافیہ کی دولت کی ہوس و طمع نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کو اخلاقی و روحانی زبوں حالی کی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے جس کے سبب اغیار کی قوتیں مسلمانوں پر بالادست ہوتی جارہی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک اس دنیا میں حساب گاہ کے عمل کومکمل طور پر بھول چکے ہےں اور نہ صرف دنیاوی حساب سے غافل ہیں بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے حوالے سے جس کی تاریخ گواہ ہے لیکن اُنکے دلوں سے جہنم کا بھی خوف جاتا رہا ہے جس کا اگر ہم نے بروقت تدارک نہیں کیا تو اغیار کی سازشوں کے باعث ایک مدت کےلئے تباہی و بربادی مسلمانوں کا مقدر بن جائیگی۔ سلطان احمد علی کا کہنا تھا کہ دراصل شعائر اسلامیہ سے دوری اور لادینی نظریات کو اپنانا ہماری نظریاتی سرحدوں کے استحکام کےلئے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ نظریاتی اساس پر ہی قوموں کی تعمیر ہوتی ہے ، جبکہ نظریاتی اساس سے دوری ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کیونکہ روحانی طور پر کمزور افراد پر مشتمل معاشرہ کبھی مضبوط و مستحکم نہےں ہوسکتا ۔ چنانچہ مستحکم معاشرے کےلئے فرد کا باطنی استحکام ضروری ہے اور اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین اسی روحانی ، نظریاتی و فکری خلاءکو پر کرنے کےلئے میدان عمل مےں آئی ہے ۔
میلاد مصطفےٰ کانفرنس اِسی عزم عمل کا تقاضا کرتی ہے اور ملکی آئین میں نفاذ دین کے حوالے سے دی گئی آئینی کلاز بھی اِسی اَمر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی اخلاق ، اقتصادیات اور عدل و انصاف کے اصولوں کو فروغ دیا جائے ۔قارئین کرام ، سلطان احمد علی کی سعی اپنی جگہ سمندر میں ایک قطرے کی مانند ہی کیوں نہ ہو ہمیں اِس فکر کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ماضی میں انبیاءکرام کی کوششوں سے انسانیت کو ذات خداوندی کی ہدایات سے بار بار روشناس کرایا گیا اور چونکہ دنیاوی خداﺅںنے اِن ہدایاتِ کو اپنی مرضی کے رنگوں میں ہی رنگنے کی کوشش کی چنانچہ متعدد مواقع پر عذاب خداوندی ہی اِن بداعتدال قوموں کا مقدر بنا جس کی بے شمار مثالیں قرآن مجید میں بخوبی بیان کی گئی ہیں ۔
قارئین کرام ، پیغمبر اسلام کی دنیا میں آمد دین اسلام کی تکمیل کے حوالے سے ایک ناقابل فراموش روحانی حقیقت ہے ۔ دین اسلام ، انسانی فلاح و بہبود ، عدل و انصاف اور اخلاقی عمل و صالح کردار کا تقاضا کرتا ہے۔ اخلاقیات سے محروم مغربی علوم اِن اوصاف حمیدہ کی نفی کرتے ہیں اور اِن گہرے اسلام دشمن مغربی اثرات سے بخوبی نبرد آزما نہ ہونے اور مسلمانوں میں دنیاوی آلائشوں کے در آنے سے وصف کی کمزوری کے سبب نہ صرف بیشتر اسلامی دنیا بلکہ پاکستانی حکمران بھی اخلاقی ، اقتصادی اور سیاسی بے راہ روی کا شکار نظر آتے ہیں جس کے تدارک کےلئے مسلمانوں کو بحیثیت قوم اصلاح احوال کی ضرورت ہے اور اِس کا ایک ہی راستہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات کی جانب واپسی کا سفر اختیار کیا جائے بقول اقبال .......
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اِسم محمد سے اُجالا کر دے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں