نئے صوبے… انتظامی ضرورت یا لسانی بنیاد

ـ 2 فروری ، 2010
محمد طارق چودھری ۔۔۔
ہمارا ملک ڈھیروں مصائب‘ ان گنت مسائل اور بے شمار مشکلات میں گھرا ہوا ہے‘ اس کی سلامتی اور اتحاد کو سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔ افغانستان میں جارحیت کرنیوالے امریکہ کی امداد و اعانت کا نتیجہ ہے کہ قومی فوج اپنے ہی جنگجو قبائلیوں کے ساتھ نبرد آزما ہے‘ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ہمسایہ دشمن نے ملک بھر میں تخریب کاری کا جال بن رکھا ہے۔ باقی ملک سیاسی افراتفری اور امن و امان کو لاحق بدترین خطرات کی زد میں ہے۔ کسی بھی مسئلے پر سنجیدہ توجہ اور اسکے حل میں پیش رفت کے بغیر نئے نئے مسائل پیدا کرنے اور مشکلات ایجاد کرنے میں ہمارے سیاستدانوں کا کوئی ثانی نہیں۔ وقتی فائدے کیلئے زمانہ جاہلیت کے تعصبات کو ابھار کے ووٹ ہتھیانے کیلئے ذات‘ برادری سے زبان اور علاقے تک‘ فرقہ واریت سے مذہبی تقسیم تک قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میںتیسری مرتبہ پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے مگر اس کے سیاسی اور آئینی مضمرات پر کسی کی توجہ نہیں‘ ووٹ چرانے کیلئے یہ نعرہ خوش کن ہو سکتا ہے لیکن اس پر عمل ناممکن رکاوٹوں اور دشواریوں سے اٹا ہوا ہے۔ پنجاب کی تقسیم پر سندھ کے سیاستدان سب سے زیادہ پرجوش ہیں لیکن اس سے اثرات اور نتائج کا وہ کبھی سامنا نہیں کر پائیں گے۔
’’شمالی مغربی سرحدی صوبہ‘ جو ایک نام سے زیادہ جغرافیائی سمت ظاہر کرتا ہے‘ اس نام کو مقامی اور غیرمقامی سب ہی ایک ناموزوں قرار دیتے ہوئے اس کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن اس تبدیلی کیلئے عوام کی مجموعی رضامندی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ صوبہ سرحد کے عوام 63 برس میں نام کے ناموزوں ہونے پر اتفاق رائے کے باوجود نئے نام پر اتفاق نہیں کر سکے‘ 1973ء میں نئے آئین کی تشکیل کے وقت ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ صوبائی اسمبلی جس نام پر اتفاق رائے سے قرارداد منظور کر دے وہی نام رکھ دیا جائیگا لیکن آج تک ایسا نہیں ہو پایا۔ عوامی نیشنل پارٹی جو قوم پرست نظریات کی حامل ہے‘ اسکے دیئے نام سے مانسہرہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگ اتفاق نہیں کرتے اس طرح یہ مسئلہ آج تک حل طلب چلا آرہا ہے۔ فوجی جرنیلوں کی جاہ طلبی‘ سیاستدانوں کی خودغرضی اور انتظامیہ کی بے حسی کے باوجود پاکستان کے جمہوری مستقبل کیلئے یہ چیز خوش آئند ہے کہ اس ملک کے عام آدمی نے انتہا پسندی اور علاقائی قوم پرستی کے بلند آہنگ اور خوش کن نعروں پر کبھی توجہ نہیں دی‘ قوم پرست جماعتیں عام انتخابات میں کبھی معمولی کامیابی بھی حاصل نہیں کر سکیں۔
سندھو دیش‘ پختونستان‘ آزاد بلوچستان یا سرائیکستان کے نام پر شور تو سنائی دیتا رہتا ہے لیکن انتخابی نتائج پر نگاہ ڈالیں تو یہ لوگ قومی جماعتوں کے مقابلے میں کبھی دو فیصد ووٹ بھی حاصل نہیں کر پائے۔ علاقے کے مقبول انتخابی امیدواروں اور بڑے لیڈروں نے ان نعروں کو اختیار کرنے سے احتراز کیا اور جن لوگوں نے ان نعروں کو اختیار کیا ذرائع ابلاغ میں پذیرائی کے باوجود انتخابات میں عبرت ہی بنے رہے۔
مخدوم زادہ حسن محمود‘ علامہ رحمت اللہ ارشد بلند پایہ پارلیمینٹرین تھے‘ ملک کی سیاست میں بڑا اور معتبر نام‘ 1970ء کے انتخابات میں الگ صوبے کو اپنی سیاست کی بنیاد بناکر انتخابی میدان میں اترے۔ حسن محمود تین قومی اور دو صوبائی اسمبلیوں میں انتخاب لڑ رہے تھے‘ ساری سیٹیں بہت ہی بری طرح ہار گئے‘ آخر میں ’’پندار کا صنم کدہ ویران کئے‘‘ صادق آباد کے گلی کوچوں میں آباد کاروں کی بدبو دار گلیوں میں بنام ’’سادات‘‘ ووٹ مانگ کر ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ حاصل کر پائے‘ علامہ ارشد ڈھونڈے نہ مل سکے۔ حال ہی میں تاج محمد لنگاہ دو دہائیوں سے یہ جھنڈا لہراتے رہے لیکن انتخابی بکس میں تین سو ووٹ ہی مقدر رہے‘ یہ اتنے ہی ووٹ ہیں کہ لوکل کونسل میں بھی ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔ پنڈارا بکس سب لوگوں نے سن رکھا ہے لیکن کبھی کسی نے کھلتے نہیں دیکھا‘ لسانی بنیادوں پر اس کو کھول دیکھیں تو بکس کے اندر سے ہی نہیں آسمانوں سے بھی وہ بلائیں نازل ہونگی کہ آج کی دہشت گردی کو سکون آور زمانہ خیال کیا جائیگا۔
(1) پنجاب کی تقسیم کے شوق میں سرائیکی مرکزی اور ہند کوہ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے تو مانسہرہ صوبہ سرحد میں ہونے کے باوجود وہاں ہندکو بولی جاتی ہے اور وہ اپنے طرز زندگی میں پختونوں سے مختلف ہیں‘ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خاں اور ملحقہ آبادیوں میں سرائیکی زبان بولی جاتی ہے وہ ڈیرہ غازی خاں اور لیہ سے قریب تر ہیں اس کا کیا ہوگا۔
(2)لسانی بنیادوں پر پنجاب کی تقسیم ہوگی تو پھر سندھی اور اردو لسانیات کی بنیاد پر سندھ کی تقسیم کو کون روک پائے گا‘ پاکستان میں یہ واحد صوبہ ہے جہاں لسانی بنیادوں پر فساد ہوئے اب بھی ان میں تنائو پایا جاتا ہے۔
(3)بلوچستان واضح طور پر پختون اور بلوچ قبائل میں تقسیم ہے۔ تقریباً نصف بلوچستان میں پختون آباد ہیں اور ان علاقوں میں بلوچ بالکل نہیں جاتے‘ دوسرے نصف بلوچستان میں بلوچ قبائل آباد ہیں‘ انکے درمیان بھی مزید قبائلی اور لسانی تقسیم ہے۔ بلوچوں اور پختونوں کے درمیان مردم شماری اور وسائل کی تقسیم بارے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ کیا آپ بلوچستان کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے ایک ختم نہ ہونیوالی خانہ جنگی میں نہیں دھکیل دیں گے؟
یہ تقسیم صوبوں کے انتظام اور نام کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ آئین میں ترامیم کیساتھ پارلیمنٹ کی ہیئت کو تبدیل کرنا پڑے گا‘ پنجاب کے لوگ ان تین حصوں میں تقسیم سے زیادہ مزاحمت نہیں کرینگے لیکن دوسرے صوبے سینٹ میں ہر صوبے کی برابر نمائندگی کے اصول کیمطابق موجودہ پنجاب کی تقسیم کے بعد سینٹ میں اسکی نمائندگی باقی تین صوبوں کے مساوی ہو جائیگی یعنی تین گنا ‘ کیا یہ صورتحال دوسرے صوبے قبول کرنے کو تیار ہوں گے۔
بہاولپور کسی صورت سرائیکی صوبے میں جانے کیلئے تیار نہیں وہ اپنی پرانی ریاستی حیثیت کی بحالی چاہتا ہے‘ ڈیرہ غازی خاں ملتان کی اجارہ داری کیخلاف صف بستہ ہے‘ یہ تقسیم سیاسی اور قانونی بنیادوں پر ناقابل عمل ہی نہیں ایک ختم نہ ہونیوالے فساد کا پیشہ خیمہ بھی ہے۔
جب بھی سیاسی قائدین سنجیدگی اختیار کر کے خالص ترقیاتی اور انتظامی ضرورتوں کیلئے مزید تقسیم چاہیں گے تو انہیں ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا پڑیگا‘ مکمل صوبہ یا موجودہ گورنر کو علامتی سربراہ ر کھتے ہوئے وزراء اعلیٰ اپنے صوبوں کا نظام چلائیں گے۔ یہاں بھی پہلے آئین میں ترامیم درکار ہوں گی اور صوبائی خود مختاری کو مکمل آئینی اور قانونی تحفظ دینا پڑے گا‘ آئین میں دی گئی مشترکہ فہرست کو ختم کر کے یہ سب اختیارات اور محکمے صوبوں کے سپرد ہوں گے۔ چھوٹے صوبوں کا قیام بہتر نتائج فراہم کریگا کہ انکے درمیان ترقی کیلئے باہمی مقابلہ ہوگا‘ موجودہ بڑے صوبوں میں وزیر اعلیٰ سارے وسائل اپنے ضلع کی طرف لے جاتا ہے کہ اپنا حلقہ انتخاب اس کیلئے اولیت لئے ہوتا ہے۔ چھوٹے صوبوں میں چیف منسٹر وسائل کو زیادہ سے زیادہ منصفانہ تقسیم کریگا‘ اگر وہ کچھ حصہ لے جائے تب بھی ترقی ایک ہی ضلع کی بجائے 20 اضلاع میں ہو رہی ہوگی۔مکمل آئینی تحفظ اور قانونی ضمانت فراہم کرنا ہوگی ورنہ مرکز کی ان چھوٹے صوبوں میں مداخلت بہت بڑھ جائے گی۔ یہ بہت سنجیدہ اور غور طلب انتظامی مسئلہ ہے‘ سیاسی نعرہ بازی کا میدان نہیں؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں