راہنما نہیں… مگر راہنمائی
ـ 1 ستمبر ، 2010
جنرل (ر) حمید گل Generalhamidgul@gmail.com
ہر چیز آشکار ہوتی جا رہی ہے ۔فوج نے بڑی مشکل سے ایک دہائی کی رسوائی کے بعد خود کو استوار کیا تھا لیکن اب اسے بھی پاش پاش کرنے کی سازشوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ یقیناً حالات بہت خراب ہیں۔ تاریخی سیلاب بہت کچھ بہا کر لے گیا، لیکن اسکے بعد جو انسانی سیلاب امڈ آنے کو ہے اس کے سامنے کوئی بند، کوئی بیراج کوئی رکاوٹ نہیں ٹھہر سکے گی۔ ہر چند کہ انگریز نے غلام قوم کی سوچوں اور رویوں کو ریگولیٹ کرنے کی خاطر استعماری وانش سے غلامی کا جو بیراج تعمیر کیا تھا اس نے بہت سے طوفان دیکھے اور اپنی فرسودگی کے باوجود قائم رہا مگر اب دکھائی دیتا ہے کہ 18کروڑ کیوسک کا ریلا اس سے ٹکرائے گا تو یہ ٹھہر نہیں سکے گا۔ عالمی استعماری طاقتیں اپنی جگہ مضطرب ہیں کہ وہ کیا حربہ استعمال کریں کہ کہیں ایٹمی پاکستان کے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ابھرتے ہو ئے اس طوفان کا غضب انکے پسندیدہ اور لاڈلے بھارت کو بھی لے ڈوبے یہی وجہ ہے کہ آزمودہ حربہ کے طور پر فوج کو آواز پڑنا شروع ہو گئی ہے۔ بلاشبہ فوج نے گزشتہ دو برس میں بڑی عزت اور نیک نامی کمائی ہے مگر اس بار حالات کی شدت اور حدت کے سامنے اس کا ٹھہرنا بھی محال ہو گا بلکہ ناممکن کیونکہ ماضی میں جب بھی فوج میدان میں آئی تو اسے دائیں بازو نے سہارا دیا، جو اب پوری طرح سے اسکے ساتھ نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ مسلح مزاحمت پر کار بند ہے۔ چند پرانے حمایتی اور امریکہ کے پروردہ گروپس کی حمایت اس سلسلہ میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف قوم اپنی جگہ پریشان ہے کہ ’’نہ کوئی جادہ، نہ منزل، نہ روشنی کا نشان‘‘ اور ’’رہنمائی کیلئے خواب کے جگنو بھی نہیں‘‘ یہ وہی کیفیت ہے جس کا تذکرہ شیکسپیئر نے یوں کیا تھا:
"The question is to be or not to be------"
کیا حالات کے منہ زور گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دیا جائے یا اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسکی بے پناہ طاقت کو مثبت سمت موڑ دیا جائے؟ آج ملت پاکستان کے سامنے یہ مہیب سوال ایک بار پھر سے آن کھڑا ہوا ہے۔ قوم کو رہنمائی کی ضرورت ہے اور رہنمائی میسر نہیں۔ پاکستان میں صرف اندرونی حالات ہی دلخراش اور دگرگوں منظر پیش نہیں کر رہے بلکہ بیرونی طور پر بھی چاروں طرف تاریخی تبدیلیوں کا نیا سماں بندھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مغربی سرحد پر تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ رونما ہونے کو ہے۔ امریکی افغانستان میں شکست کھا چکے اور اگلے برس انکی واپسی شروع ہو جائیگی۔ اسکے اثرات پاکستان پر کیا ہونگے؟ اور انہیں کتنے عرصے میں، کس طرح سنبھالا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے دوسری طرف کشمیر کی تحریک آزادی زوروں پر ہے اور بھارت کی سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔ خود بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے اپنی حکومت سے التجا کی ہے کہ کشمیر کا کوئی سیاسی حل نکالا جائے۔ بھارت کو ایک اور طوفان کا بھی سامنا ہے۔ ایک ایسی سیاسی صورتحال جس میں قریباً 20 فیصد بھارت نیکسلائٹ اور مائو نواز باغیوں کے قبضہ میں ہے۔ ہم اپنے قبائلی علاقوں کا رونا روتے ہیں مگر بھارت میں ’’ریڈ کاریڈور‘‘(Red corridor) کے نام سے ایک وسیع علاقہ اتر کھنڈ سے اڑیسہ اور نکسل باڑی سے کیرالہ تک باغیوں کے قبضے میں ہے۔ گزشتہ برس ’’ریڈ کاریڈور‘‘(Red corridor) میں 12 سو سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ خود بھارتی میڈیا تسلیم کرتا ہے کہ بھارتی یونین کے 608 اضلاع میں سے 167 باغیوں کے قبضہ میں ہیں اور بعض رپورٹس کیمطابق اس سے بھی زیادہ کل14 ہزار تھانوں میں سے 2 ہزار سے زائد پر باغیوں کا کنٹرول ہے اور وہاں ان کا حکم چلتا ہے ۔ اس لئے شائننگ (shining)انڈیا اور فیل گڈ (Feel good)انڈیا کے نعروں سے متاثرہ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہاں بھی کیسے کیسے طوفان اٹھ رہے ہیں۔ بظاہر مستحکم دکھائی دیتا بھارت تاریخ کے گرداب کی لپیٹء میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ تیسری جانب امریکہ اور اسرائیل ایران پر نظریں جمائے اور دانت گاڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ایران کیخلاف مہم جوئی کے اثرات سے پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ تاریخ ایک بہت بڑی کروٹ لے رہی ہے۔ ان لمحات میں ہمیں موقع مل رہا ہے کہ خدشات کو امکانات میں بدل ڈالیں اور اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کیطرف سفر شروع کریں۔ پاکستان کے چہارطرف جو صورتحال جاری ہے یہ دراصل نظاموں کی کشمکش ہے۔ ایک نظام ڈوب رہا ہے، دوسرے نے طلوع ہونا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان کی تخلیق کے جوہر میں اس نئے نظام کی نوید پنہاں ہے۔ بشرطیکہ ہمیں کوئی قیادت میسر ہو، اور ہم حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنی انقلابی منزل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ گزشتہ 63 برس سے جس فرسودہ نظام کا بوجھ اٹھائے ہم اپنا قومی سفر جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ اس متعفن لاش کو اب دفن کر ہی دیا جائے۔ میں عرصہ دراز سے’’نرم انقلاب‘‘ کا داعی رہا ہوں اور باوجود معروضی حالات کے آج بھی کہتا ہوں کہ ایک ایسا انقلاب بپا کرنا نہ صرف یہ کہ ممکن ہے بلکہ ضروری ہو چکا ہے۔ اس کیلئے عوامی فکر بیدار ہے۔
"No body is wiser than the victim" پھر ہمارے عوام تو اس قدر متاثر شدہ ہیں کہ شاید و بائد البتہ وہ خونریزی جس کا خوف آہستہ آہستہ دماغوں پر غبار بن کر چھا رہا ہے اس سے اجتناب بہت ضروری ہے کیونکہ ایسے انقلاب کی صورت میں غریب عوام ہی سب سے زیادہ شکار ہوا کرتے ہیں اور معاشرہ طویل عرصہ تک سنبھل نہیں پاتا، جبکہ صاحب ثروت لوگ جنہوں نے اپنے ٹھکانے اور آشیانے پہلے ہی بیرون ملک بنا رکھے ہیں وہ قوم کو بلبلاتا چھوڑ کر اپنے آقائوں کے سایہ عاطفت میں چلے جائینگے۔ انقلاب کیا ہوتا ہے؟ ایک معاشرہ یا قوم کا حالات سے محض اظہار ناراضگی؟ نہیں بلکہ اس کیلئے نشان منزل کا ہونا بھی لازم ہے‘ وگرنہ بروئے کار آتی ہوئی حرارت خود اپنے ہی وجود کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔ خانہ جنگی اور انقلاب میں یہی ایک فرق ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ انقلاب اپنی قیادت خود پیدا کرتے ہیں مگر یہ تشویش بھی اپنی جگہ جائز ہے کہ پاکستان میں کسی قیادت کا ابھرنا فی الوقت قرین قیاس دکھائی نہیں دیتا، شکوک و شبہات کی فضا اس قدر دبیز ہے کہ انتہائی دگر گوں حالت میں بھی قوم کا کسی ایک فرد پر متفق ہو جانا ممکن نہیں رہا تو کیا راہنما کے انتظار میں ہماری آنکھیں پتھرا جائیں گی؟ اور ہم ایسے شہ سوار کا انتظار ہی کرتے رہ جائینگے جو گردوغبار میں سے اچانک نمودار ہو اور قوم کا محبوب قائد بن جائے؟ یہ ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کیوں نہ رہنمائی کیلئے کوئی اور انتظام یا طریقہ اختیار کیا جائے؟ کہ فی الحال راہنما نہ سہی‘ مگر راہنمائی تو میسر آ جائے۔سوال یہ ہے کہ فوری طور پر راہنمائی کیوں لازم ہے؟ اسلئے کہ ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں ہمالیہ پہاڑ جیسی بڑی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں اگر ہم نے سنبھل کر حالات کی ڈور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تو ترقی اور روشن مستقبل ہمارا منتظر ہو گا، بصورت دیگر ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم اس کیلئے تیار ہیں؟
موجودہ قیادتوں کا معاملہ بہت واضح ہے کہ انہیں کوئی ادراک ہی نہیں۔ یہ اپنے مفاد سے آگے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ بھیڑیا اپنی کھال بدل سکتا ہے مگر یہ اپنے اطوار نہیں بدل سکتے لہٰذا فیصلہ قوم کو کرنا ہے، زندگی اور موت کا سوال قوم کو درپیش ہے۔ موجودہ قیادت کا یہ ایشو ہی نہیں‘ اگر قوم بیدار ہے اور اس حالت سے نکلنے کی خواہش رکھتی ہے تو اسے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا امریکی اتحادی ہونے کے ناطے اسکی شکست ہماری بھی شکست ہو گی؟ یا ہم اس میں سے اپنے لئے فتح کشید کر سکتے ہیں‘ جو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں‘ اس سے رخ متعین ہو جائیگا کہ ہم اصلاح کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف جانا چاہتے ہیں یا یونہی ’’وادیٔ پرخار‘‘ میں بھٹکنا ہمارا مقدر ہے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں