تماشائی
عامرہ احسان ـ 1 ستمبر ، 2010
وحشت، خون، بربریت‘ سفاکی، درندگی‘ کتنے ہی الفاظ یکجا کر لیجئے۔ سیالکوٹ میں دو معصوم فرشتہ صورت بھائیوں کا بہیمانہ قتل ناقابل بیان ناقابل یقین ہے۔ رمضان میں جبکہ شیطان بندھا ہوا تھا۔ انسانی شیاطین ابلیسیت میں اُسے بھی مات دے گئے؟ لوٹے گا تو ایسی قائم مقامی پرانگشت بدندان ہو گا! وہ امت جس کا مقصد وجود ہی یہ تھا کہ اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو (آل عمران 110) تو کیا تماش بینوں میں ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ ہاتھ روکنے والا پکڑنے والا زبان سے ٹوکنے والا چیخ چلا دینے والا‘ رو پیٹ دینے والا‘ ظلم دیکھ کر بے ہوش ہی ہو جانے والا؟ مسلمان تو بہت اونچے پیمانے کی بات ہے۔ وہ بھی رمضان میں جب وہ فرشتوں جیسا بھوک پیاس، ضبط نفس کے بند باندھے۔ کیا وہاں کوئی انسان بھی نہیں تھا؟ وہ پاکستانی عوام کا ایک نمائندہ گروہ تھا جو ہمارے اخلاق و کردار کی گراوٹ اور ہولناک امراض کی نشاندہی کرتا ہے۔ مار ڈالنے والے بھی، تماشائی بھی‘ درمیان میں گھومتے پھرتے کم عمر بچے بھی جو شاید اپنے بڑوں کے ہمراہ کسی بندر کے تماشے کی مانند حظ اٹھا رہے تھے۔ ہم ایسے کیونکر ہو گئے؟ شرالدواب‘ بدترین قسم کے جانور‘ اللہ نے انسانوں کی یہ قسم بیان فرمائی ہے۔ اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (الانفال۔32) تماشائی بربریت کا یہ المیہ بہرے بنے دیکھتے رہے۔ معصوم جانوں کی فلک شگاف چیخیں اٹھتی رہیں لیکن انکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ وہ بت بنے رہے زبان سے ایک لفظ نہ بولے۔ گونگے بہرے عقل سے عاری اس مخلوق کا کوئی بھی DNA ٹیسٹ ہو کہ یہ کس سیارے سے اتری ۔ دواب۔ دابہ کی جمع ہے۔ چرنے چگنے والے بے شعور۔ جانوروں کی طرح بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے۔ یہ سفر ہم نے اچانک چشم زدن میں طے نہیں کر لیا یہ بہت عرصے سے شروع تھا‘ اس سفر کی اس منزل کیلئے شاید ہم ذہناً تیار نہ تھے۔ ایسا عین ممکن تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ویڈیو بن کر حقیقت چیختی چنگھاڑتی ہماری آنکھوں کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تو ہم خود کو تڑپنے پر مجبور پاتے ہیں‘ ورنہ یہ سفر کب سے شروع ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا دنیا میں بربریت کو حکمران پایا۔ زندہ مسلمانوں کو سربوں نے قیمہ بنانے کی مشینوں سے گزرا۔ اجتماعی قبروں کے منہ کھلے cocentration کیمپوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح مسلمان نوجوانوں کے ریوڑ فاقوں سے زندہ درگور کرنے کے بعد سر میں گولیاں مار کر قبروں میں اکٹھے پھینک دئیے گئے گلوبل ولیج کے چودھری امریکہ‘ یورپ اور اسکی لونڈی اقوام متحدہ کی ناک تلے مسلمانوں پر سربوں نے وہ قیامتیں ڈھائیں کہ اصطلاح بربریت کی جگہ سربریت بن گئی۔ فلسطین‘ کشمیر‘ عراق‘ افغانستان میں یہ تمام داستانیں دہرائی گئیں سربریت کی جگہ اریگیت نے لے لی۔ ہماری دوسری نسل یہ سب دیکھتے ہوئے جوان ہوئی ہے جہاں ضمیر زندہ تھا وہاں نوجوان تڑپ کر اٹھے اور ظلم کیخلاف قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ جہاں ’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘ کا سبق پڑھا کر منہ موڑ لینا سکھا دیا گیا وہاں ’تماشائی‘ وجود میں آئے‘ پھر ہم تماشا دیکھتے گئے۔
ہم نے افغانستان میں کنٹینروں میں پگھلتے وجود اجتماعی قبروں میں ایک مرتبہ پھر دھکیلے جاتے دیکھے۔ اب یہ مناظر بوسنیا‘ کوسوو کی نسبت ہم سے قریب تر تھے بلکہ انکے بیج ہم نے اپنے ہاتھوں بوئے تھے اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر امریکی بھیڑیے ہم نے چھوڑے تھے۔ ان کو راستہ دیا‘ دکھایا تھا۔ ہر پاکستانی کے دامن پر لاکھوں افغانوں کے خون کے چھینٹوں میں سے کچھ نہ کچھ دھبے ضرور پڑے ہیں۔ سیالکوٹ کے دو نوجوانوں پر ظلم پر چلانے سے پہلے… پشت پناہی‘ مدد‘ اڈے‘ راہداری دیکر جب حکمران قاتل اور پوری قوم تماشائی بنی رہی تو آج ان تماشائیوں پر فرد جرم کیا عائد کرنی! پھر یہ تماشا اور قریب آگیا۔ اس نے ہمیں اپنی شہ رگ اسلام آباد کے وسط میں یہی تماشا دکھا دیا۔ ہم نے کم عمر طالبات اور حافظ قرآن نوجوانوں پر آپریشن کر ڈالا۔ مسجد کو شہید ہوتے دیکھا۔ ہم بہتے نالے میں قرآن حدیث کے اوراق‘ کی انگلیوں‘ بالوں کے گچھوںکے تماشائی بھی بنے۔ ہم پھر بھی زندہ رہے‘ مہذب ہی رہے۔ مہذب بھی رہے‘ کلچرڈ امن پسند شائستہ پاکستانی شہری! ہمارے سامنے گوانتاناموبے‘ ابو غریب کے مناظر لائے گئے‘ گوانتاناموبے تو آباد بھی ہمارے ہی ہاتھوں سے ہوا۔ کیا کچھ نہ ہوا‘ ہم تماشائی بنے رہے‘ توہین قرآن، توہین رسالت کے بدترین مظاہر ہم نے دیکھے۔ فیس بُک پر نبی کریمؐ کی شان مبارک میں وہ کچھ ہو گزرا کہ اگر ہم زندہ انسان ہوتے تو پاکستان سے اس رذیل مخلوق کیلئے رسد کا ایک ٹرک بھی گزرنے نہ دیتے۔ ڈاکٹر عافیہ کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بیچا۔ پھر اسکی وہ لہولہان صورت لٹی پٹی اجڑی بکھری حالت ہم نے دیکھی لیکن ظلم کا ہاتھ ہم روک نہ پائے حالانکہ وہ ظالم سب سے بڑھ کر ہماری دسترس میں تھا! ہم من حیث القوم تماشائی ہیں۔ ہمارے ہاضمے لکڑ ہضم پتھر ہضم ہیں۔ ہم پر سے زلزلے ہو گزرے ہم نے آفت زدہ لوگوں کیلئے آنیوالی مدد میں سے خوردبرد کا حوصلہ پایا۔ اللہ کے غضب کا تھپیڑا کھا کر بھی چند روزہ زندگی کے کیڑے‘ چرنے چگنے والے‘ امداد کے خیمے‘ کمبل‘ پیسہ حسب توفیق غبن کرتے رہے۔ مال حرام جب خون‘ ہڈی‘ رگ‘ پٹھوں میں ڈھلتا ہے تو اس سے وحشی جنم لیتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ڈوبتے پاکستان نے کچھ لوگوں کیلئے مال بنانے کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ ہمیں اس منظر پر جو سیالکوٹ میں بنا‘ غم‘ دکھ اور اذیت تو ہو گی تاہم حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ این آر او پر ہم حیران نہیں ہوئے‘ ملکی سیاست پر نیرنگیوں، الٹ پھیرنے ہمیں حیران نہیں ہونے دیا۔ اپنے ہی ملک پر بمباریوں پر ہم نے دانتوں تلے انگلی نہ دبائی تو اب حیرت کا کیا مقام باقی ہے!
بہت جلد یہ واقعہ بھی دب جائیگا نئے نئے واقعات کی تہوں تلے۔ پولیس کے کردار پر واویلا کیوں ہے۔ قانون کے محافظ تماش بین ہو گئے اس پر بہت شور ہے! ماورائے عدالت قتل قرار دیکر سب غضب ناک ہیں لیکن کیا صرف اسلئے کہ یہ آپکے سامنے میڈیا نے لا رکھا؟ ان گنت نوجوان جابجا اسی طرح دہشت گرد قرار دیکر ماورائے عدالت اغوا ہوئے‘ قتل کر دئیے گئے۔ یہاں تو پوری قوم نے بحمداللہ والدین کا ساتھ دیا‘ انکے غم میں شریک ہو کر اپنی زندگی کا ثبوت دیا لیکن لاپتہ ہو جانا‘ اولاد‘ شوہر‘ بھائی کے مر جانے سے بھی بڑا حادثہ ہے‘ کہاں ہے‘ کس عقوبت خانے میں ہے‘ کس حال میں ہے‘ زندہ ہے‘ مردہ ہے؟ پورے پورے خاندان زندہ درگور پڑے ہیں۔ یہ قوم اب جاگی ہے تو ذرا انکی خبر بھی تولے جو گھٹ گھٹ کر جی رہے ہیں! اگر امریکہ کے خوف سے سٹی گم نہ ہوجائے تو! اب حسب دستور ان دو بچوں پر طرح طرح کے الزامات چسپاں کرنے کی سرتوڑ کوشش ہے۔ طرح طرح کے شواہد گھڑے جائینگے۔ یہی وہ بلا ہے جس کی بھینٹ بلوچستان چڑھ رہا ہے لاپتہ‘ ماورائے عدالت قتل کی بلا۔ ہم کفر کی چوکھٹ پر سجدہ ریز اپنے ہاں جو کچھ بو چکے وہ اب فصل کٹ رہی ہے۔ کہیں سیلاب‘ عذاب کی صورت اور کہیں اخلاق و کردار کے دیوالیہ پن کے ہاتھوں یہ واقعہ sos پکار ہے۔ اخلاق‘ کردار‘ اقدار کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا نوجوان نسل کو راہ دکھائیے۔ اپنی شناخت پر لوٹیے۔ گھگھیانا بند کرکے کوثر و تسنیم سے دھلی عالی شان تہذیب کو زندہ کیجئے۔ ہنس کو ہم نے بہت سال کوے کی چال چلا چلا کر کالا سیاہ کر ڈالا۔ ہماری قوت‘ ہمارے کردار کی اصل طاقت ایمان باللہ اور ایمان بالآخرہ میں ہے۔ قرآن کھولئے‘ حدیث کھولئے‘ اقبال پڑھائیے۔ تاریخ پڑھائیے‘ یہ سارا شاخسانہ اپنی شناخت کھو کر دیوانے‘ پاگل‘ جنونی ہو جانے کا ہے اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر۔ دنیا کی تقدیر بدلنے کو ہے۔ سورج مغرب میں ڈوب کر مشرق سے طلوع ہونے کو ہے۔ ہم نے من حیث القوم اگر وقت کے تقاضوں کو نہ پہچانا‘ ایک نئی صبح کی تیاری نہ کی‘ تو خاکم بدہن‘ نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے پاکستان والو‘سیالکوٹ کا سانحہ ٹیسٹ کیس ہے۔ بے لاگ انصاف کی مضبوط بنیاد فراہم کیجئے۔ شفاف تفتیش۔ کوئی سیاسی دباؤ دھونس دھمکی جھوٹ فریب قبول نہ کیا جائے۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ آئندہ کیلئے ہمہ نوع ماورائے عدالت اغوا‘ قتل کے دروازے سیل کئے جائیں‘ نہتے کو گولیاں مار دیں اور فرد جرم کی فہرست عائد کر دی۔ کوئی پوچھنے والا مائی کا لال نہیں‘ اب بولے ہیں تو بولتے رہئے۔ حق کی آواز کو توانا کیجئے‘ اسی میں پاکستان کی بقا مضمر ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں