تعلیم دینا جرم بھی بن سکتا ہے!

سکندر خان بلوچ ـ 1 ستمبر ، 2010
ایک دفعہ شاہِ ایران (مرحوم) کی گھڑی چند منٹ پیچھے ہو گئی۔ بادشاہ سلامت نے جب گھڑی کا وقت درست کرنے کا کہا تو وزیر اعظم نے دست بستہ عرض کی: ’’عالیجاہ آپ تکلیف نہ کریں ہم پورے ملک کی گھڑیاں پانچ منٹ پیچھے کر دیتے ہیں‘‘ یہ واقعہ تو بادشاہ سلامت کا تھا لیکن یہی کچھ حکومت پنجاب نے کر دکھایاہے۔ مسئلہ صرف سرکاری سکولوں کا تھا لیکن پڑھائی صوبے کے تمام سکولوں میںموسم گرما کی تعطیلات کے نام پرجبراً ممنوع کر دی گئی ۔
حکومت پنجاب کی نیک نیتی پر تو شک نہیں کیا جاسکتا لیکن اس فیصلے کے تین اہم اور دلچسپ پہلو ہیں جن پر شاید غور نہیں کیا گیا۔ پہلا پہلو تو چھٹیوں کا طویل دورانیہ ہے۔ یعنی یکم جون سے 13ستمبر تک جو تقریباًساڑھے تین ماہ بن جاتاہے۔ اتنا طویل دورانیہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔پہلے سکول ہمیشہ وسط اگست تک کھل جاتے تھے تاکہ طلبا 14اگست کو یوم آزادی منا سکیں۔ اس دفعہ وہ بھی نا ممکن بنادیا گیا۔ دوسرا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے میں پڑھائی پر مکمل پابندی ۔اگر کوئی سکول اس دوران پڑھانے کی کوشش کریگا چاہے سمر کیمپس کے نام پر ہی کیوں نہ ہو ایسے سکول کو تالے لگا دئیے جائینگے اور رجسٹریشن منسوخ کر دی جائیگی۔ اس مقصد کیلئے کمشنرز۔ ڈی سی اوز اور تمام متعلقہ محکمہ تعلیم کے افسران چھاپے ماریں گے اور حکم عدولی کرنے والے سکولوں کیخلاف فوری طور پر انضباطی کارروائی ہوگی۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اس دوران پڑھانا قانوناً جرم ہوگا۔لہٰذا اتنا عرصہ بچے تعلیم سے مکمل طور پر دور رہیں گے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پابندی صرف رجسٹرڈ سکولوں پر ہے جب کہ پرائیویٹ ٹیوشن سنٹرزاس سے مستثنیٰ ہیںجو صبح شام کلاسز چلا کر والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ان کیلئے اتنا شاندار فیصلہ ’’گولڈ مائن‘‘سے کم نہیں۔ایک طرف تو حکومت خواندگی میں اضافے کیلئے بجٹ میں اربوں روپے خرچ کر رہی ہے اور دوسری طرف اتنے طویل عرصے کیلئے پڑھائی پر سخت پابندی۔ واقعی دلچسپ فیصلہ ہے۔
اس سلسلے کا تیسرا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پانچویں، آٹھویں، نویں اور دسویں بورڈ کلاسز کو سمر کیمپس کے نام پر پڑھایا جاسکتا ہے لیکن انکے بہن بھائی جو اسی سکول میں کسی دوسری کلاس میں پڑھتے ہوں تو انہیں یا سکول کے دیگر بچوں کو سکول میں پڑھاناقانوناً جرم ہے۔ مزید دلچسپ یہ کہ 10:30بجے کے بعد کسی بچے کو سکول میں نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور ظاہر ہے حکومتی مجرم ہونا شریف آدمی کیلئے کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ میٹرک کلاس کا بچہ نوجوان ہوتا ہے۔ اس عمر کے بچے کیلئے 10:30 بجے کے بعد گھر میں آرام کرنا قانونی طور پر ضروری سمجھا گیا ہے جو یقینا بڑی گہری سوچ کا فیصلہ ہے ۔گھر میں بیشک وہ سارا دن ٹی وی پر فحش فلمیں یا کارٹون دیکھے۔ کمپیوٹر پر ہر قسم کے اخلاق سوز پروگرام دیکھے۔ سارا دن محلے میں کرکٹ کھیلے اور لوگوں کے مکانوں کے شیشے توڑے۔ بلیئرڈ کلب آباد کرے‘ وہاں چرسیوں‘نشہ بازوں اور بدمعاشوں کا ساتھی بنے‘ سب جائز ہے۔ کچھ بھی تو غیر قانونی نہیں۔ لیکن اگر سکول میں پڑھے گا تو پڑھانے والے مجرم ہونگے۔ اس سے بھلا بہتر نوجوانوں کی تربیت کیا ہو سکتی ہے۔ ایسی نسل عملی زندگی میں کیا گل کھلائے گی سوچا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں شاید ہمیں فوجی بھی کسی اور ملک سے بھرتی کرنے پڑیں گے کیونکہ ایسے نازک مزاج نوجوان یقینا سیاچن یا صحرائے تھر میں تو نہیں لڑ سکتے۔ اس فیصلے کے پیچھے تین وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ اول رمضان المبارک‘ دوم بجلی کی بچت اور تیسرا سیلاب۔ جہاں تک رمضان المبارک کا تعلق ہے یاد رہے کہ مسلمان سخت موسم گرما میں روزہ رکھ کر جنگوں میں شامل ہوتے رہے ہیں۔اسی لیے تو روزہ جسمانی تربیت سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے فوجی اداروں میں بھی رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں روزمرہ کی سخت تربیت جاری رہتی ہے۔یہی اسلامی احکامات ہیں اور یہی تربیت لیکن اب حکومت ایسا نہیں چاہتی۔ شاید علماء کرام اس مسئلہ پر روشنی ڈال سکیں۔ رہا سوال بجلی کی بچت کا تو ہفتے میں دو چھٹیاں تو پہلے ہی اسی وجہ سے کی جارہی ہیں۔ تیسری اہم وجہ حالیہ سیلاب ہیں اور بہت سے سکول سیلاب متاثرین کے زیر استعمال ہیں۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ حقیقتاً صرف 30فیصد سکولوں کی عمارات سیلاب متاثرین کے زیر استعمال ہیں اور پرائیویٹ سکولوںکی عمارات تو بالکل ہی زیر استعمال نہیں‘ اس لیے جہاں پر پڑھائی ممکن ہے وہاں تو کرائیں۔ سب والدین اور طلبا کو سزا کیوں دی جارہی ہے؟
اس فیصلے کا ایک انسانی پہلو بھی ہے جسے قطعاً نظر انداز کر دیا گیا۔ مثلاً مئی میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ گرمی کی تعطیلات 10جون کے بعد شروع ہونگی غالباً13جون کی تاریخ دی گئی تھی۔تمام پرائیویٹ سکولوں نے اسکے مطابق منصوبہ بندی کی۔ حکومت کو یہاں یہ سمجھنا چاہے کہ سرکاری سکولوں اور پرائیویٹ سکولوں کے مسائل مختلف ہیں۔ سرکاری سکول ایک گھنٹے کے نوٹس پر بند ہو سکتے ہیںلیکن پرائیویٹ سکولوں نے سرکاری ٹیکسز دینے ہیں۔ عمارات کے کرائے بھی ادا کرنے ہیں اور سٹاف کو تنخواہیں بھی دینی ہیں جس کیلئے فیسوں کا حصول ضروری ہے جو ہمیشہ ہر ماہ کی یکم کے بعد ممکن ہوتا ہے‘ اگر پرائیویٹ سکولوں کے مسائل کا اندازہ لگائے بغیر اچانک موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا جائے اور ساتھ دھمکی کہ حکم عدولی کی صورت میں سخت انضباطی کاروائی کی جائے گی تو ایسا پرائیویٹ سکولوں پر جان بوجھ کر کلہاڑا چلانے کے مترادف ہے۔ ’’چھٹی ‘‘کا تو نام ہی ایسا ہے کہ بچے بندوق کی نوک پر بھی سکول کی طرف آنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر والدین بھی بغیر فیس ادا کئے غائب ہو جاتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کے پاس تو ایسا کوئی قانون نہیں کہ وہ جبراً فیسیں وصول کر لیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ تمام پرائیویٹ سکول چھٹیوں کی فیسیں پہلے ہی وصول کر لیتے ہیں۔ ایلیٹ سکول تو یقینا ایسا کرتے ہیں لیکن عام سکولوں میں ہرگز ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ اب اگر بچے سکول نہیں آئیں گے تو فیسیں کہاں سے آئیں گی اور اگر فیسیں نہیں ہونگی تو اساتذہ کی تنخواہوں کا کیا بنے گا؟
اب رہا سوال پڑھائی کا۔اپریل میں سیشن شروع ہوا تو بازار میں مکمل کتابیں نہ تھیں۔یہاں بھی حکومت کی ناقص ٹیکسٹ بورڈ پالیسی آڑے آتی ہے۔ بچے اور والدین کتابوں کی تلاش میں سر گرداں رہے۔ اتنی دیر میں ہفتے میں دو چھٹیوں کا اعلان ہو گیا۔ پڑھائی مکمل طور پر شروع بھی نہ ہو پائی تھی کہ اچانک موسم گرما کی تعطیلات کااعلان کر دیاگیا ۔گھروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے وہاں بھی دلجمعی سے پڑھائی نا ممکن۔ ان حالات میں پرائیویٹ اکیڈیمیوں کی چاندی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اکیڈیمی مافیا کے زیر اثر یا پھر غیر دانستہ طورپر تعلیمی نظام کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔ یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ حکومت اپنے ادارے تو ٹھیک کر نہیں سکتی نہ ہی وہاں معیارِ تعلیم بہتر کر سکتی ہے۔ پرائیویٹ سکول محنت کرکے معیارِ تعلیم کا علم بلند کیے ہوئے ہیںاب ان پر بھی مختلف قسم کی پابندیاں لگا کر معیارِ تعلیم سرکاری سکولوں جیسا کیاجا رہا ہے تاکہ لوگ سرکاری سکولوں کے نتائج پر اعتراض نہ کر سکیں۔ یا پھر دانستہ طور پر عوام کے بچوں پر معیاری تعلیم کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ ویسے بھی اگر چھٹیوں کا موجوہ حساب سے تجزیہ کیا جائے تو وہ کچھ یوں بنتا ہے۔ تعطیلات موسم گرما3/2ماہ۔ ہفتہ میں دو چھٹیاں سالانہ 2ماہ(موسم گرما کی تعطیلات نکال کر)۔ سالانہ سرکاری و مقامی چھٹیاں15یوم۔ تعطیلات موسم سرما اور موسم بہار15یوم ۔طلبا اور اساتذہ کی خوشی غمی یا بیماری کی رخصت15یوم۔ کل 7ماہ بقیہ پڑھائی 5ماہ اور وہ بھی وقفے وقفے سے تو پھر معیار کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے کسی ملک میں اتنی تعطیلات نہیں ہوتیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں