دوسرا امتحان
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ـ 1 جون ، 2009
ایک زمانہ تھا کہ میاں نوازشریف خطاب کے لئے کھڑے ہوتے تو انہیں مناسب الفاظ کی تلاش میں دقت پیش آتی تھی اور اب وہ زمانہ ہے کہ میاں صاحب کی تقریر میں جذبات کی طغیانی اور موجوں کی روانی ہوتی ہے۔ دراصل جب دل پر چوٹ لگتی ہے تو پھر نہ صرف غیب سے جذبات کا نزول ہوتا ہے بلکہ یہ جذبات اپنے ساتھ الفاظ کا ذخیرہ بھی لے کر آتے ہیں۔ زخمی دل سے نکلنے والی دعا سیدھی عرش پر اور صدا خلق خدا کے دلوں میں جا بستی ہے۔ میاں صاحب نے عوامی جذبات کے احترام میں 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کئے۔ مگر اس عوامی پذیرائی کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان پر فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وار کیا اور بندوق کے زور پر انہیں اقتدار سے محروم کر دیا۔ اس چوٹ کے بعد میاں صاحب کی دعا اور صدا دونوں میں بے پناہ اثر انگیزی پیدا ہو گئی ہے۔
میاں صاحب نے دس برس بعد 28مئی 2009ء کو یوم تکبیر کے موقع پر بڑے پرجوش انداز میں کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کوئی پرچون کی دکان نہیں کہ کوئی آئے گا اور انہیں اٹھا کر لے جائے گا۔ میاں صاحب نے جو کچھ کہا اس کے برحق ہونے میں شک کا کوئی شائبہ نہیں۔ مگر گذشتہ نو برس کے دوران فوجی آمر (ر) جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کو پرچون کی ایسی دکان بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس دوکان سے جس کا جو جی چاہتا اٹھا کر لے جاتا اس دوران پاکستان کے ایک نہیں سینکڑوں شہریوں کو امریکہ اٹھا کر لے گیا اور آمر فخریہ کہتا رہا کہ ہم نے یہ مال اٹھائی گیروں کو مفت نہیں دیا اس کے بدلے ڈالر لئے ہیں۔ اس پرچون کی دوکان سے ہماری آزادی اٹھائی گئی، ہماری خود مختاری لوٹی گئی اور ہماری قومی یکجہتی کا سودا کیا گیا۔ اور یہ پرچون فروش یہ سارے سودے خوشی خوشی کرتا تھا کیونکہ اسے یہ ضمانت دی گئی تھی کہ تمہیں سیلزمینی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
دیکھئے تاریخ اپنے آپ کو کیسے دہراتی ہے۔ 28 مئی 1998ء کو جمعرات کا دن تھا اور آج 28 مئی 2009ء کو بھی جمعرات ہی کا دن تھا۔ 28مئی 1998ء کو جب پاکستان نے بھارت کے دھماکوں کے خلاف ایٹمی دھماکے کئے تو پاکستان میں ہی نہیں پورے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ادھر چاغی کے پہاڑوں کا رنگ بدلا اور ادھر عالم اسلام میں مسلمانوں کے چہرے خوشی سے گلنار ہوگئے۔ 29 مئی 1998ء کو جمعتہ المبارک کے روز سعید کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے خطیب نے بڑے ولولے، جوش اور اعتماد کے ساتھ خطبہ جمعہ کے موقع پر کہا کہ پاکستان کی جوہری قوت صرف پاکستان کی نہیں سارے عالم اسلام کی قوت ہے۔ یہی وہ بات تھی جو اسرائیل کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست ہوگئی۔ چند لاکھ کی آبادی پر مشتمل اسرائیل عالم اسلام کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔ اس نے خود ایٹمی صلاحیت حاصل کر رکھی ہے۔ اس نے ایٹم بم بھی تیار کر لئے ہیں۔ وہ عربوں کو بڑے قریب سے جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ عربوں کی اکثریت سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم سے محروم ہے۔ اسے اطمینان تھا کہ عرب حکمرانوں کی اکثریت تیل کی دولت سے مالا مال مگر علم کی دولت سے تہی دست ہے۔ اسے یقین تھا کہ عربوں کو اپنی عیش و عشرت سے فرصت نہیں۔ اسے معلوم تھا کہ عرب کبھی ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتے۔ 1967ء میں اسرائیل عربوں کے زور بازو کو آزما چکا تھا اور صرف چار روز میں انہیں شکست فاش دے چکا تھا اور بلند بانگ دعوے کرنے والے مصر کے جنگی جہازوں کو اڑنے سے پہلے ان کے ہوائی اڈوں پر تباہ کر چکا تھا۔ اسرائیل نے جب یہ دیکھا کہ عالم اسلام کا وہ ملک کہ جسے عرب اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں وہ ایٹمی صلاحتی کا مالک بھی بن گیا ہے تو اس کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے اور وہ اسی روز سے پاکستان کی جوہری صلاحیت کو گزند پہنچانے کے لئے بھارت کے ساتھ مل کر منصوبے بنانے لگا۔
پاکستان کے ایٹمی جوہری پروگرام کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان بلا کر ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو مکمل خود مختاری دی۔ بعد میں جنرل ضیاء الحق، غلام اسحاق خان اور میاں نوازشریف نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کے لئے تمام تر وسائل فراہم کئے ۔ ایٹمی صلاحیت کو 1984ء میں ہی حاصل ہوگئی تھی مگر اس صلاحیت کے حصول میں کامیابی کا اعلان شہد کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔ یہ جان جوکھوں کا کام قدرت نے میاں نوازشریف سے لیا۔ ایٹمی دھماکہ سے روکنے کے لئے میاں نوازشریف پر ہر طرح کا دباؤ ڈالا گیا۔ مگر میاں صاحب نے کوئی دباؤ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
آج امریکی پروپیگنڈہ مشینری پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں واویلا کر رہی ہے کہ یہ صلاحیت طالبانوں کے ہاتھ لگ سکتی ہے جو اسے امریکہ اور دوسری مغربی قوتوں کے خلاف استعمال کریں گے۔ آج یہ پروپیگنڈہ امریکی میڈیا، امریکی حکومتی مشینری اور امریکی سیاست دان کر رہے ہیں۔ خود امریکی صدر باراک اوباما کئی بار اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں۔
عوامی دانش کبھی خطرہ کی مرتکب نہیں ہوتی۔ جب بھارت نے مئی 1998ء میں جوہری دھماکے کئے تو پاکستانی عوام نے میاں نوازشریف سے پرزور مطالبہ کیا کہ پاکستان بھی ایٹمی صلاحیت کا اعلان کرے۔ اس وقت چند دانشور ایسے بھی تھے جو میاں صاحب کو امریکہ کے غیض و غضب سے ڈرا رہے تھے۔ جو انہیں بھارت کی طاقت سے خوفزدہ کر رہے تھے مگر میاں نوازشریف نے عوامی جذبات پڑھنے میں کوئی غلطی نہ کی اور انہوں نے ایٹمی دھماکے کئے اور اس راہ میں آنے والے پر دباؤ کو ٹھکرا دیا۔ گذشتہ نو برس کے دوران جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ انہوں نے قصر سعید کی ایک کال کے جواب میں ان کے سارے مطالبات مان لئے۔ ان سالوں میں پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے امریکہ کا ہر کہا مانا۔
آج پاکستانی عوام ایک بار پھر اسی طرح یکسو ہیں جیسے وہ مئی 1998ء میں تھے۔ پاکستان کے شہری اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرکے اس کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے پاکستانی عوام یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن پاکستان کا اپنا معاملہ ہے مگر دہشت گردوں کو اس وقت تک ٹھکانے نہیں لگوایا جاسکتا جب تک افغانستان کے راستے امداد جاری رہنے والی سپلائی لائن کو نہیں کاٹ دیا جاتا۔ پاکستانی عوام اب یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو آکسیجن ٹینٹ میں رکھ کر بھارت کو خطے کی قیادت سونپنا چاہتا ہے۔ پاکستانی عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ کئی ماہ سے میاں نوازشریف کا امریکہ کے بارے میں لب و لہجہ نرم ہے ۔
ایک بار پھر پاکستانی عوام کی متفقہ دانش یہ سمجھتی ہے کہ جس طرح میاں نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کے موقع پر امریکی دباؤ مسترد کر دیا تھا آج وہ ایٹمی ہتھیار بچانے کے لئے امریکی دباؤ رد کردیں۔ آج سے دس برس پہلے میاں نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کے مرحلے پر عوامی جذبات پڑھ لئے تھے قوم توقع کرتی ہے کہ میاں نوازشریف امریکی مداخلت کو مسترد کرنے کے بارے میں عوامی جذبات پڑھنے میں کوئی غلطی نہیں کریں گے۔ میاں صاحب کو آج دوسرا امتحان درپیش ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ دوسرے امتحان میں بھی سرخرو ہوں۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ غلطی کی گنجائش نہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں