اور اب وزیرستان؟…(۱)
عامرہ احسان ـ 1 جون ، 2009
سواتآپریشن کی خون فشانی ابھی تھمی نہیں کہ وزیرستان آپریشن کیلئے میڈیا پر ذہنوں کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ عوام میں فیلرز (Feelers) چھوڑ ے جا رہے ہیںردعمل جانچنے کیلئے فوج داخل کر دی گئی ہے۔ امریکہ کی یہ جنگ وہ تمام حربے لئے ہوئے ہے جو عراق افغانستان میں آزمائے جا چکے ہیں۔ یعنی تھنک ٹینک اخبارات‘ ٹی وی چینلوں کے ذریعے پہلے ذہن سازی کی جاتی ہے۔ مذاکرے‘ مضامین‘ سروے‘ عوامی رائے کی آڑ میں طے شدہ جملے‘ پیغامات کی پٹی کی شکل میں چلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ جسے نشانہ بنانا مقصود ہوتا ہے وہ ڈریکولا بھوت بنا کر دکھایا جاتا ہے۔ پاکستان کیلئے پاکستانی نفسیات کے مطابق لیبل تراشے جاتے ہیں۔ انڈین ایجنٹ‘ ملک دشمن‘ سی آئی اے کے ایجنٹ‘ انتہا پسند‘ متشدد نظریات کے حامل‘ جب یہ لیبل پکے ہو جائیں عوام کے ذہن ہر طرف سے یہی سنیں تو اگلا مرحلہ آسان تر ہو جاتا ہے۔ آپریشن کیلئے راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ توپوں کی گھن گرج میں گرتی لاشیں اور اجڑتے لوگ ملک کی سلامتی کیلئے گوارا کر لئے جاتے ہیں۔ لال مسجد کا کامیاب تجربہ‘ اس میں چھپتے ہوئے دیئے گئے تمغے ستارہ جرات نے اب جرات بڑھا دی ہے۔ سوات آپریشن میں جہادی روح پھونکنے کیلئے جنگی ترانے بجا کر شہادتیں وصول کی جانے لگیں۔ سورہ الانفال کے تو ہم عادی بھی نہیں ۔ ہمارے ہاں جہاد‘ میرے نغمے تمہارے لئے ہیں۔ کی لے پر ہوا کرتا ہے ۔ سو وہ ہو رہا ہے۔ سورج سوا نیزے پر ہے‘ خیموں میں آگ برس رہی ہے بے گھر بے در لوگ عوام کے جذبہ خدمت کے رحم و کرم پر ہیں پولیو کے قطرے پلانے کیلئے پہاڑوں وادیوں کی خاک چھاننے والے بہبود آبادی کے بریف کیس لئے مردوں عورتوں میں بانجھ پن تقسیم کرنے والے غمگسار پیاسوں کیلئے بلکتے لمحات میں پانی کے قطرے پلانے کی درد مندی سے عاری ہیں۔ اپنے علاقوں میں محصور عوام کے دکھوں کا انہیں کیسے احساس ہوسکتا ہے جو 24 گھنٹے اے سی کی یخ بستہ فضائوں میں رہتے ہیں اور گھڑی دو گھڑی کیمروں کی چکا چوند میں تصویریں بنوا کر اپنے عشر ت کدوں میں لوٹ جاتے ہیں اور امریکہ کے حکم کی تعمیل میں اگلے آپریشن کا اعلان اور تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ نکلنے والے جھلستی گرمی میں بنوں‘ ڈیرہ میں ڈیرے ڈالیں یا مردان پشاور میں‘ یہ ان کی سردردی ہے۔ پاکستان کی زمین خیمہ بستیوں کیلئے بہت وسیع ہے۔ وزیرستان پر تو امریکہ پاکستان کی ملی بھگت سے آپیرشن پہلے سے ڈرون کی شکل میں جاری ہے۔ وہاں کی سرزمین وقتاً فوقتاً خون مسلم سے سینچی جاتی رہی ہے۔ بیت اللہ محسود جو اصلاً امریکہ نیٹو کی نیندیں اڑانے کو کافی تھا میڈیا نے جنگی بنیادوں پر دن رات ایک کر کے اسے بھارتی ایجنٹ سی آئی اے کا وظیفہ خوار ثابت کر دکھایا ہے۔ لہٰذا قوم کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر اسے تلاش کرنے کیلئے آپریشن وزیرستان کے نام پر سوات والی داستان وہاں دہرا دی جائے۔ اصل کہانیاں سب بھول چکے ہیں۔ اب کسے یاد ہے کہ طالبان‘ مجاہدین کی پاکستان سے دشمنی تو کبھی بھی نہ تھی۔ وہ افغانستان پر امریکی حملے سے لیکر آپریشن در آپریشن تک سرحد پار افواج کفر سے نبرد آزما تھے۔ امریکہ کیلئے جب یہ لوہے کے چنے ثابت ہوئے تو یہ خدمت پاکستان کے سپرد کر دی گئی۔ اس جنگ کا ناجائز دجالی بچہ ہماری گود میں ڈال کر اسے پروان چڑھانے کی ذمہ داری ڈالروں کے عوض ہماری ٹھہری۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ شرح خواندگی قرآن‘ حدیث اور اپنی شناخت کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک ایسی نسل کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے جو انگریزی میں اردو اور اردو میں انگریزی لکھتی پڑھتی ہے۔ اصلاً دونوں زبانوں سے فارغ‘ تہذیبی شناخت سے بے بہرہ تاریخ سے نابلد ہے۔ جدھر چاہو ہانک لو۔ جس کا دین سے رشتہ مرزا غالب کے بیان کردہ فلسفے کے عین مطابق ہے۔
لاتقربو الصلوٰۃ زینھم بخا طر است
و از امر باد ماندہ کلوا واشربو مرا۔
(نماز کے نزدیک بھی نہ جائو ‘ جب تک نشہ کی حالت میں ہو‘ کو حذف کر کے ) یہ نواہی میں سے پسندیدہ ہے اور اوامر (احکام) میں سے کھائو پیو( اور حد سے مت گزرو‘ فضول خرچی مت کرو‘ خذف کر کے) مجھے یاد رہ گیا ہے لہٰذا ایک ایسی قوم جس میں نماز سے دوری اور فوڈ سٹریٹ کا قرب حاصل ہے۔ کھانے پینے کے بہانے بے شمار ہیں۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں