سوات میں جاری فوجی آپریشن اور ہماری ذمہ داریاں
ڈاکٹر اسرار احمد ـ 1 جون ، 2009
ڈاکٹر اسرار احمد
ادھر ایک طرف حکومت سرحد اور مولانا صوفی محمد صاحب کے مابین مذاکرات ہوتے رہے تاکہ معاہدہ امن کی تفاصیل طے کی جائیں… اور اس سلسلے میں دو اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ایک طالبان کا یہ موقف کہ ہم عسکریت کو تو فوری طور پر ختم کر دیتے ہیں لیکن بار بار کے تجربے کے باعث ہم ہتھیار اسی وقت رکھیں گے جب نظام عدل بالفعل قائم ہو جائے گا۔ اور گزشتہ تجربات کی بنا پر ان نے اس موقف کو ہر گز غیرمعقول نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اور دوسری طرف مولوی صوفی محمد کا موقف بالکل بجا طور پر یہ تھا کہ عام قاضی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل دارالقضا عالیہ اور دارالقضا عظمیٰ دونوں مالا کنڈ ہی میں ہوں گے اور ان میں علمائے کرام ہی جج ہوں گے۔ نہ کہ مغربی تعلیم یافتہ سکالر یا بیورو کریٹ جبکہ صوبائی حکومت کے ذمہ دار لوگ اس مطالبے کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے تھے۔
دوسری طرف معاہدہ امن کی توثیق میں صدر پاکستان زرداری صاحب نے تاخیر تعویق میں دو ماہ گزار دیے۔ نتیجتاً طالبان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ 12اپریل کو سوات سے پیش قدمی کرتے ہوئے بونیر میں داخل ہو گئے۔ اس پر صوبائی حکومت کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور اس نے مرکزی حکومت کو دھمکی دے دی کہ اگر اس معاہدے پر فوراً صدر صاحب کے دستخط نہ ہوئے تو ہم حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجہ میں بجلی کی سی سرعت کے ساتھ ایک ہی دن میں پارلیمنٹ نے بھی معاہدے کی توثیق کر دی اور صدر صاحب نے بھی۔ چنانچہ مولوی صوفی محمد صاحب کے کہنے پر طالبان کی اکثریت 23‘ 24اپریل کو بونیر سے واپس چلی گئی۔ البتہ بہت تھوڑی تعداد میں طالبان بونیر میں مقیم رہے!! اس کے فوراً بعد یعنی 26اپریل کو بھرپور آرمی ایکشن لوئر دیر میں شروع کر دیا گیا۔ پھر 28اپریل کو بونیر میں اقدام ہوا۔ اور بالآخر 5‘ 6مئی کو سوات میں پوری قوت کے ساتھ آرمی ایکشن کا آغاز ہو گیا۔ اس معاملے میں قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ معاہدہ امن کے خاتمے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ چنانچہ اگرچہ صوبائی حکومت مرکزی حکومت اور میڈیا کی فوج ظفر موج نے زبردست پروپیگنڈہ کے ذریعے پورا ملبہ مولانا صوفی محمد اور طالبان پر ڈال دیا ہے حالانکہ جو تفصیل اوپر عرض کی گئی ہے اس کی رو سے اصل ذمہ داری حکومت کی ہے کہ اس نے مولانا صوفی محمد کے معقول اور منطقی مطالبے کو ماننے سے انکار کیا… اور کچھ بیورو کریٹس کو مسند قضا پر فائز کر دیا ورنہ صوفی محمد صاحب نے تو ایک بڑے جلوس کے ساتھ اعلان کیا کہ پورے مالا کنڈ میں حکومت کی رٹ سرکاری محکموں اور پولیس کے ذریعے ہی نافذ کی جائے گی اور ہم ان کے معاون بنیں گے۔ یہاں تک کہ جوشیلے اور جنگجو مولوی فضل اللہ نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ شرعی نظام عدل کے قیام کے بعد حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لئے ہم حکومت کے بلاتنخواہ ملازم بن جائیں گے۔ اس مسئلے میں صاف نظر آتا ہے کہ اصل معاملہ روئے ارضی کے ’’شیطان بزرگ‘‘ امریکہ کی ناخوشی اور ناراضگی کا تھا جس کی غلامی کا پٹہ ویسے تو ہماری گردن میں بالکل آغاز ہی سے ہے لیکن 9/11 کے بعد صدر مشرف تو اس کے سامنے باقاعدہ سجدہ ریز ہو گیا تھا۔ اور اب صدر زرداری جو امریکہ ہی سے NOC اور NRO حاصل کر کے آئے تھے مشرف کی جانشینی کا حق بتمام و کمال ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جب 23‘24اپریل کو طالبان نے بونیر تقریباً خالی کر دیا تھا تو ایک دم مذاکرات کا سلسلہ ختم کر کے فوری طور پر یعنی اس کے دو ہی دن بعد آرمی ایکشن میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا گیا۔ اس کے جواب میں ایک جانب سول سپریم پاور آن ارتھ کے صدر اوباما کا بیان بہت معنی خیز ہے جس میں اس نے ایک طرف پاکستان کی سول حکومت کو کمزوری کا طعنہ دے کر Provoke کیا اور دوسری طرف پاکستان کی فوجی قیادت کی تعریف کی کہ اب اس پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی ہے کہ ہمارا یہ ساٹھ سالہ خیال کہ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے بالکل غلط اور نرا وہم تھا اور اب ہم نے جان لیا ہے کہ ہمارا اصل دشمن تو ہمارے ملک کے اندر ہے۔ اور اس طرح پاکستان کی سول حکومت اور فوج کے مابین خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جس سے سیاسی حکومت سراسیمہ اور بدحواس ہو گئی اور دوسری جانب صدر پاکستان چند ہی دنوں بعد فرعون وقت کے دربار میں حاضری دینے جا رہے تھے تو اوباما کے اس تبصرے کے پیش نظر کیا منہ لے کر ان سے ملتے؟ انہیں ضرورت تھی کہ اس طرح اسلام آباد کی لال مسجد کے خونچکاں اقدام پر انہیں امریکہ‘ برطانیہ‘ نیٹو‘ یورپی یونین‘ روس اور چین سب کی جانب شاباش ملی تھی اسی طرح اب مالا کنڈ میں آگ اور آہن کی بارش کر کے مغربی آقائوں کی خوشنودی حاصل کی جائے۔ تاکہ وہاں منہ دکھانے کے قابل ہو جائیں! اس معاملے میں جس طرح سابق صدر مشرف ایک ہی دھمکی میں پتاشے کی طرح بیٹھ گئے تھے۔ بلکہ صحیح تر الفاظ میں امریکہ کے سامنے سربسجود ہو گئے تھے۔ اسی طرح ان کے معنوی جانشین نے امریکہ اور بھارت کے دونوں مطالبات تسلیم کر کے یعنی (i)ایک یہ کہ بھارت کو افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت دے دی جائے گی اور دوسرے (ii)پاکستانی افواج کا کچھ حصہ بھارت کے بارڈر سے ہٹا کر شمال مغربی سرحد پر لگا دیا جائے گا۔ گویا بھارت کے سامنے ’’رکوع‘‘ تو کر ہی لیا ہے۔ اب سجدہ تعظیمی بھی زیادہ دور نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں ہمارے مطالبات یہ ہیں i۔ مالاکنڈ میں فوجی آپریشن فوراً بند کیا جائے اور شرعی نظام عدل کو معاہدے کی روح کے مطابق بتمام و کمال نافذ کیا جائے اور اس اعتبار سے مالاکنڈ ڈویژن کو ضلع کوہستان سمیت اسی طرح کا سپیشل اسٹیٹس دے کر جیسا کہ بھارت نے کشمیر کو دے رکھا ہے وہاں کے نظام عدل کو بقیہ پاکستان سے بالکل آزاد autonomous کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ صوفی محمد اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اگر شرعی نظام عدل مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے میں ازسرنو امن ک قیام کی کوشش کر سکتا ہوں۔ 2۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کی غلامی سے نجات حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کیا جائے۔ اس وقت زمین پر سب سے بڑی طاقت خواہ امریکہ ہی ہو اگرچہ سب جانتے ہیں کہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔ لیکن کائنات کی عظیم ترین طاقت تو اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے صاف کہا ہے کہ ’’(اے مسلمانو!) اگر تم اللہ کی مدد کرو گے (یعنی اس کے دین اور شریعت کو قائم کرو گے) تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکے گا اور اگر اللہ ہی تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کر سکے؟‘‘ (سورہ آل عمران‘ آیت 160) اس سلسلہ میں بڑی طاقتوں کی مخالفت ‘ قسم قسم کے sanctions سے ہر گز ڈرنا نہیں چاہئے۔ انشااللہ اگر ہمارا ایک قدم بھی اس کی جانب اٹھ گیا جس کا موقع اس وقت ہمیں مالاکنڈ ڈویژن میں حاصل ہو گیا ہے تو اللہ کی مدد لازماً شامل ہو گی اور کیا عجب کہ پاکستان کے مایوس اور دل شکستہ عوام میں ایک نئی امنگ پیدا ہو جائے گی اور پوری قوم 1946-47ء کے سے عزم اور ولولے کے ساتھ ساتھ اٹھ کھڑی ہو اور مالا کنڈ سے(جو قدیم ملک خراسان کا تھا) اس نور خداوندی کا ظہور شروع ہو جائے جو پہلے پورے صوبے سرحد پھر پورے پاکستان اور بالآخر پورے کرہ ارضی کو منور کر دے … بقول اقبال ؎
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے
اور اگر اس کے برعکس ہم نے یہ آرمی ایکشن پورے زور شور سے جاری رکھا اور کوئی پرواہ نہ کی کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ عام شہریوں کا خون کس مقدار میں بہہ رہا ہے تو اس صورت میں بالآخر حسب ذیل میں سے کوئی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔ 1۔ ایک بار پورے مالا کنڈ ڈویژن سے عسکریت پسندوں باغیوں کا کامل صفایا کر دیا جائے لیکن اس صورت میں تھوڑے سے وقفے کے بعد ہی طالبان افغانستان کے مانند یہاں بھی گوریلا جدوجہد شروع ہو جائے گی اور اس سے عہدہ براء ہونے کے لئے ہمیں فوج کی بڑی تعداد وہاں طویل عرصے تک رکھنی ہو گی… اور اس طرح ہماری حالت وہی ہو جائے گی جو امریکہ کی عراق اور اس سے بڑھ کر افغانستان میں ہے کہ ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ 2۔ اور اس کے لئے ہمیں جو اخراجات برداشت کرنے ہوں گے ان کے لئے ہمیں مستقبل طور پر امریکہ کے در کا سوالی بھی بنا رہنا ہو گا… اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی وساطت سے امریکہ کے مطالبات ہر دم تسلیم کرنے ہوں گے… اور اس کی ڈکٹیشن قبول کرنی ہو گی۔ 3۔ اور اگر ہماری فوج امریکہ کے لئے اطمینان بخش حد تک کامیاب نہ ہو سکی جس کے امکان کو ہر گز رد نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستانی فوج کے جوانوں اور افسروں کی معتدبہ تعداد بھی اس جنگ میں بوجھل دل اور زخمی ضمیر کے ساتھ محض اعلیٰ قیادت کی فرمانبرداری میں مصروف پیکار ہے۔ تو لازماً مشرق سے بھارت اور مغرب سے نیٹو کی افواج پاکستان میں داخل ہوں گی اور کم از کم اس کے ایٹمی دانت توڑ ہی دیں گی۔ ورنہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے لیں گی اور اس صورت میں بھی پاکستان کا عملی نہیں تو معنوی خاتمہ ہو جائے گا۔ 4۔ اور آخری لیکن فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہماری تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ آرمی ایکشن کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکلے… مشرقی پاکستان بھی آرمی ایکشن ہی کے نتیجے میں علیحدہ ہوا تھا اور بلوچستان میں بھی بار بار کے فوجی اقدامات سے ہمیشہ منفی نتائج ہی برآمد ہوتے رہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے حقیقی خطرہ موجود ہے کہ موجودہ آپریشن کا ردعمل بھی پاکستان کے مذہبی مزاج کے حامل لوگوں کی اکثریت میں منفی صورت میں پیدا ہو اور اس صورت میں بھی پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس اہم مرحلہ پر صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں