قصۂ قدیم و جدید-(۱)
ـ 1 فروری ، 2010
عامرہ احسان (سابق رکن قومی اسمبلی) .................
دنیا کی ایک بے مثل سپر پاور سے مقابلہ درپیش ہے۔ دریا کا پاٹ وسیع‘ تیز و تند موجیں کف آگیں‘ پل توڑا جاچکا ہے‘ کشتیاں موجود نہیں‘ دریا کے اس پار عظمت و شوکت کا جلال آفریں مرقع شاندار سفید عمارت جو رات کی تاریکی میں بھی نکھری ہوئی ہے۔ مشرق کی عیش آرائیوں اور عشرت کوشیوں کا مسحور کن مسکن‘ بڑے بڑے خزانوں سے بھرے گنبد اسکی عظمت و جلال کو گویا تاج پہنا رہے تھے۔ قصرِ سفید (وہائٹ ہائوس) کے تخت میں جڑے بیش قیمت جواہر کی دھوم ایک دنیا میں تھی۔ مال و دولت کا مرکز یہ محل‘ اسکی شانداری اور قوت و شوکت دیومالائی سحر لئے ہوئے سامنے دریا کے اس پار ایستادہ تھا۔ دریا کے اس پار جو لشکر اس سپرپاور کا نشہ توڑنے نکلا ہے۔ یہ وہی ہے کہ جن کے پیٹ فاقہ زدوں کی طرح پٹخے ہوئے‘ پیشانیوں پر سیاہ گٹے‘ کھجور کی چپلیاں‘ کندھوں پر پڑی چادریں‘ چیتھڑوں میں لپٹی تلواریں لئے دریا کی موجوں سے نبرد آزما ہونے کو تیار ہے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیلکہہ کر شور انگیز موجوں میں بے جگری‘ بے خوفی سے لشکر اتار دینے والے سعدؓ بن ابی وقاص ہیں۔ 16 سال کی کم عمری میں نبی کریمؐ کے ہاتھ ’’برین واش‘‘ ہو کر اب وہ ناقابل شکست جرنیل بن چکے ہیں جن کے لشکر کے سامنے اپنے وقت کی سپرپاور کا حکمران‘ قصرِ سفید میں لرزاں و ترساں ہے۔’’دیکھتے ہی دیکھتے سقوطِ مدائن عمل میں آگیا۔ وہ بہت سے باغ‘ چشمے‘ کھیت‘ پاکیزہ مقام اور نعمتیں چھوڑ گئے جن میں وہ عیش و راحت کی زندگی بسر کرتے تھے اور اس طرح ہم نے ایک دوسری قوم کو ان کا وارث بنا دیا۔ پس نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین‘‘… یہ آیات پڑھ کر حضرت سعدؓ نے وہیں… قصرِ ابیض میں صلوٰۃ الفتح پڑھی۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ کسریٰ کے تخت کی جگہ منبر رکھا گیا۔ اسی قصر میں جمعہ ادا کیا گیا۔ یہ وہی موجِ دجلہ ہے جسے ازسرنو آزاد کروانے کیلئے ایک اور سپرپاور کا سرِ پُرغرور نیچا ہوا۔ انقلاب فرانس کے بار بار حوالے دئیے جاسکتے ہیں تو آخر پلٹ کر عزت و سربلندی کی یہ پرشکوہ داستان کیوں نہیں دہرائی جاسکتی؟ جبکہ یہ داستان ہم نے بھلا دی تھی لیکن ازسرنو وہ برسرِ زمین نئی زندگی پاکر سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ ہم حق کی طرف سے سکوت کرنے والے گونگے شیطان کیونکر بن جائیں کیونکہ جبکہ دنیا کے بدترین خوف (Worst Fears) سچے ثابت ہو کر ایک نئی تاریخ رقم ہونے کو ہے۔ 8 سال اس امت کا خون دہشت گردی کیخلاف جنگ کے جھوٹے نام پر پانی کی طرح بہانے والی خون آشام بلائیں اب ایک مرتبہ پھر خوبصورت الفاظ اور فلسفے تراش کر افغان کمبل سے جان چھڑانے کے حیلے بہانے گھڑ رہی ہیں۔ کیمروں کی روشنیوں کی چکاچوند میں‘ شاندار لباسوں اور عالیشان کانفرنسوں کے جلو میں نئی پالیسیاں جنم لینے کو ہیں جس کے پس منظر میں بے شمار جھنڈوں میں لپٹے تابوت‘ ڈوبتی سسکتی معیشتیں‘ دم توڑتے کھسکتے اتحاد مضمر ہیں۔
ایک رات وہ تھی جو امت پر جب طاری ہوئی تو دور دور روشنی کی کرن دکھائی نہ دیتی تھی۔ اکتوبر 2001ء کی وہ رات اور بعدازاں مارچ 2003ء کی وہ رات جو پہلے افغانستان اور پھر عراق پر چھائی‘ اپنی لپیٹ میں پاکستان کو بھی ہمراہ لئے ہوئے تھی۔ دنیا کے قوی ترین ممالک کی پوری فوجی قوت‘ ہیبت ناک بحری بیڑوں پر لدے جنگی ہوائی جہاز‘ میزائلوں‘ گن شپ ہیلی کاپٹروں‘ ہموویز‘ ٹینکوں‘ لدے پھندے رات کی تاریکیوں کو چیر کر دشمن پر نگاہ رکھنے والے فوجی‘ زمین پر رینگتی چیونٹی کو تاکنے والے سیٹلائٹ‘ غاروں کی آکسیجن سلب کرکے ’’دشمن‘‘ کو بے بس کردینے والے آلات… غرض کیا تھا جو اس جنگ میں پوری دنیا نے یک زبان‘ یک جان ہو کر نہیں جھانکا۔ اسکے ہمراہ اس جنگ کو جیتنے کا جو سب سے موثر اعصاب شکن ہتھیار تھا‘ وہ بھی کلیتاً انہی قوتوں کا غلام تھا… میڈیا… خواہ وہ مغربی تھا یا مشرقی… مقابل تو ایک مکمل خاموشی تھی! تمام مسلمان ممالک کے حکمران‘ بااثر جماعتیں‘ کسی کی دم مارنے کی مجال نہ تھی… رہے عوام… تو کالانعام سر نیہواڑائے کبھی کبھی نگاہ اٹھا کر ابابیلوں کیلئے آہِ سرد بھر کر رہ جاتے۔ اپنی شاندار تاریخ سے بے بہرہ رہ کر مستعار مغربی دانش سے رہنمائی لینے والوں نے سالہاسال اس امت کو اسکی بے بسی‘ کسمپرسی پر راضی رکھا‘ تمہارے بس میں کچھ نہیں ہے‘ تم سائنس اور ٹیکنالوجی سے محروم ہو (ٹیکنالوجی کی معراج ایٹم بم کے ہوتے ہوئے بھی) اصطلاحوں کی‘ لیبلوں کی اس جنگ کے یہ تین لیبل تھے… ’’دہشت گردی‘‘ ’’طالبان‘‘ ’’القاعدہ‘‘ دہشت گردی کا مطلب اسلام تھا… طالبان کا مطلب مدارس کی خالص قرآن و سنت پر مبنی تعلیمات اور شریعت کیلئے زبان ’’قلم‘‘ سر اٹھانیوالا مسلمان‘ ’’القاعدہ‘‘ کا مطلب دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہونے کے بعد بھی قرآن و سنت سے وابستگی رکھنے والا‘ امت کے غم میں مبتلا زبان‘ قلم یا سر اٹھانے والا مسلمان ٹھہرا‘ دہشت گرد صرف مسلمان ہوتا ہے۔ کنٹینروں‘ اجتماعی قبروں‘ قلعہ جنگی‘ دشتِ لیلیٰ‘ کابل‘ قندھار میں ذبح کئے جانیوالے مجاہدین‘ باراتوں‘ ہسپتالوں‘ کو نشانے پر رکھنے کی داستانیں‘ یہ سب دہشت گردی نہیں ہے۔ اس سے دہشت نہیں پھوٹتی‘ اس سے محبت و شفقت اور امن کے گہوارے جنم لیتے ہیں۔ دہشت آتی ہے تو ظلم کے وار سہتے‘ جبر کی چکی میں پستے داڑھی والے‘ قرآن پڑھنے والے سے‘ یہی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی دہشت گرد ہے۔ غزہ جو خود دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے‘ اسکے باسی بھی دہشت گرد ہیں۔ ان کے معصوم بچوں کی قطار اندر قطار لاشیں گرانے والے تو امن کی فاختائوں کا ایک جھنڈ ہے۔ مت کہئے یہ کہانیاں پرانی ہیں۔ اب جب یہ فیصلہ ہونے کو ہے کہ طالبان کو ایک ایک کرکے دہشت گردی کی فہرست سے نکال کر جان کی امان پائی جائے تو پچھلا ریکارڈ تو درست کرنا ہوگا…ع
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی!
یہی وہی طالبان ہیں جو خود دہشت گرد اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے تھے جو اجڈ‘ گنوار‘ ان گھڑ‘ اساطر الاولین (گنے وقتوں کے قدامت پرست راگ الاپنے والے!) تھے۔ اب یہ یکایک اچھے کیسے ہوگئے…؟ ذرا ایک نظر اور پیچھے پلٹ کر دیکھئے۔ ماضی کی عین یہی جھلک آپ کو حال میں نظر آئیگی لیکن اسے پڑھنے سے پہلے ذرا ماضی حال کے جھگڑوں سے نکل کر یہ سبق تازہ کرلیجئے…؎
زمانہ ایک حیات ایک کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری قصۂ قدیم و جدید
اللہ ہمیں کم نظری کی بیماری سے محفوظ و مامون رکھے (آمین!) (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں