سینٹ : سیلابی علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے‘ امدادی سرگرمیاں ناکافی ہیں : ارکان

ـ 31 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلاآباد (ریڈیو نیوز+ وقت نیوز+ ایجنسیاں) سینٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزراءکی عدم موجودگی پر ارکان نے شدید احتجاج کیا، چیئرمین فاروق نائیک نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قائد ایوان نیئر بخاری اور وزیر محنت خورشید شاہ کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم کے نوٹس میں لائیں کہ وزراءایوان میں نہیں آتے۔ اجلاس پر عوام اور حکومت کا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ یہ ایوان اور قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ پروفیسر ابراہیم اور عبدالرحیم مندوخیل نے کہاکہ سیلاب اور بارشوں سے خیبر پی کے اور بلوچستان میں زبردست تباہی ہوئی ہے، امدادی سرگرمیاں ناکافی ہیں، متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور بحالی کے لئے ٹھوس ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق وقفہ سوالات میں کابینہ ڈویژن، فنانس، کامرس، نجکاری، بہبود آبادی اور عملہ ڈویژن کی وزارتوں سے متعلق سوالات تھے اور ایوان میں کسی بھی وزیر کی موجودگی نہ ہونے پر ارکان نے احتجاج کیا۔ صفدر عباسی نے کہاکہ وزراءکی عدم موجودگی معمول بن گئی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ اگر کوئی وزیر اپنے سوالات موخر کرانا چاہتا ہے تو رولز کے مطابق وہ 48گھنٹے پہلے نوٹس دینے کا پابند ہے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ چیئرمین سینٹ کا پیغام وزیراعظم تک پہنچاﺅں گا۔ رضا ربانی نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد وزراءاور وزرائے مملکت کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ سینٹ اور قومی اسمبلی کو جواب دیں، وزراءکا ایوان میں نہ آنا 18ویں ترمیم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پروفیسر ابراہیم نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ بارشوں اور سیلابوں سے خیبر پی کے میں 230افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جی ٹی روڈ کے بعد موٹر وے بھی بند ہو چکی، اہم مسئہل انسانی جانیں بچانا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں میں موبائل فون بھی بند ہیں، سکیورٹی ادارے اس موقع پر تو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ دیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ بنکنگ کمپنیز آرڈیننس کی شق 27بی جیسے کالے قوانین کے خاتمے کا وعدہ ہماری شہید قائد محترمہ بے نظیر بھٹو نے کیا تھا، ان قوانین کو ختم کیا جائے گا، حکومت اس حوالے سے بل لائے گی، پی آئی اے کے ایم ڈی کو دوسرے معاملات کی بجائے کمپنی کے خسارے میں کمی لانے پر توجہ دینی چائے۔ رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ پی آئی اے کے کپتانوں کو تمام تر سہولیات دی جا رہی ہیں لیکن چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا اس کا بھی نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ 60سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہونے والے پائلٹس کو ملازمت میں دو سال کی توسیع دینے کا بھی نوٹس لیا جانا چاہئے۔ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں اب تک آئی ایم ایف سے 8ارب 70کروڑ ڈالر کا قرضہ حاصل کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو 11ارب 32کروڑ ڈالر سے زائد قرضے دے گا۔ نیئر حسین بخاری نے بتایا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ابھی نہیں ہوا صرف مذاکرات ہوئے ہیں اس معاہدے میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہو گا۔ پارلیمنٹرینز کی علاج معالجہ کے لئے سرکاری سہولت کی بندش کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے متعلقہ وزارتوں کو سابقہ سہولت کی بحالی کے لئے چند گھنٹوں کی مہلت دینے سے جواب کے لئے وزیر خزانہ اور وزیر صحت کو طلب کر لیا۔ سینٹ میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے متعلق بل 2010ءپیش کر دیا گیا، چیئرمین نے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ غیرملکی ثالثی ایوارڈ کی تسلیم و نفاذ بل 2004ءاور قومی جمہوری کمیشن کے قیام کے بارے بل 2010ءسے متعلق دو رپورٹس بھی ایوان میں پیش کی گئیں۔ اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions