سیالکوٹ + گوجرانوالہ (نامہ نگار + نمائندہ خصوصی + مانیٹرنگ نیوز) دو سگھے بھائیوں کو پولیس کی موجودگی میں وحشےانہ تشدد کر کے ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار 17 ملزمان کا پولیس نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ سے تفتےش کیلئے سات روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے ملزمان کو تھانہ کینٹ سےالکوٹ منتقل کر دیا ہے جہاں ملزمان سے باقاعدہ تفتےش شروع کر دی ہے۔ تھانہ صدر سےالکوٹ میں درج دونوں بھائیوں کی ہلاکت کے مقدمہ کے تفتےشی آفےسر سب انسپکٹر شہنشاہ بخاری نے ہتھکڑیاں لگے 17 گرفتار ملزمان علی عرف پیٹر، امین، قیصر عرف مودا، جمیل عرف جیلا فقیر، حسن، جمشید عرف چھیدا، شمس، اصغر، عطیب عرف نوشا، اصغر، اکرم، ندیم، راشد مہر، وارث علی مٹھو، سرفراز اور اویس کے چہروں پر نقاب ڈال کر انہیں پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں گوجرانوالہ انسدا د دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور قتل کے واقعہ میں استعمال ہونے والے ڈنڈے، سرئےے اور رسیوں کی برآمدگی کیلئے ملزمان کے سات روز کیلئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمان کو تفتےش کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں ہتھکڑےاں لگے ملزمان کو تھانہ کینٹ سےالکوٹ منتقل کر دیا گےا جہاں خواتےن ملزمہ کیلئے مخصوص خصوصی حوالات میں بند کر دیا گےا اور ان کی ملاقات پر پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس کے مسلح اہلکار حوالات کے باہر تعےنات کر دیئے گئے۔ قبل ازیں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا بختیار کا کہنا تھا کہ سانحہ سیالکوٹ کے گرفتار ملزمان سے آلہ قتل ڈنڈے، لاٹھےاں اور سرئےے برآمد کرنے ہیں اور اس وجہ فاضل عدالت نے ملزمان کا سات سات روز کا جسمانی ریمانڈ دیدیا ہے اور آلہ قتل کی برآمدگی کے بعد ان ملزمان کو دوبارہ چھ ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا بختیار نے کہا کہ تفتےش مکمل ہوتے ہی مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد اس کے ٹرائل کا آغاز ہو گا اور یہ ملزمان سزا سے نہ بچ پائیں گے۔ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار احمد چوہان سمیت گرفتار چھ اہلکاروں کو (آج) 31 اگست کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہی پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ ملزمان کو عدالت نمبر 1 میں پیش کیا جانا تھا مگر انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 1 کے جج سید افتخار حسین شاہ کے عمرہ پر ہونے کے بعد کیس کو ڈیوٹی جج رانا نثار احمد کی عدالت میں ریفر کیا گیا۔ فاضل جج نے جب ملزمان سے پوچھا کہ تمام نے واقعی یہ جرم کیا ہے تو تمام ملزمان خاموش رہے جبکہ ایک ملزم سرفراز نے کہا کہ عالی جاہ وہ بے قصور ہے‘ تمام ملزمان نے فاضل جج کو بتایا کہ ان پر کسی قسم کا پریشر یا تشدد نہیں کیا جا رہا۔ جی این آئی کے مطابق سانحہ سیالکوٹ میں پولیس کا پےٹی بھائیوں کے ساتھ نرم سلوک روا رکھا گیا‘ 13 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا‘ 5 تاحال مفرور ہیں‘ سابق ڈی پی او وقار چوہان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ 8 پولیس اہلکار گرفتار‘ ہوئے‘ ایف آئی آر میں معمولی دفعات لگائی گئی ہیں۔دریں اثناءسانحہ سیالکوٹ کے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر شہنشاہ بخاری کو پولیس حکام کے حکم پر گرفتار کرلیاگیا ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق سپریم کورٹ 2 بھائیوں کے بہیمانہ قتل کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کل بدھ کو کریگی ۔آئی این پی کے مطابق پنجاب کے ڈی جی انٹی کرپشن جسٹس (ر) کاظم علی ملک نے سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے تحقیقاتی رپورٹ میں 101 افراد کے بیانات لئے گئے ہیں۔ آن لائن کے مطابق حقائق عوام کے سامنے آشکار کرنے والے نجی ٹی وی کے رپورٹر محمد عمران پر سیالکوٹ پولیس نے تشدد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے حقائق پر سے پردہ اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسے نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔ سانحہ سیالکوٹ میں درندگی سے قتل کئے جانے والے دو سگے بھائیوں کو مجرم قرار دلانے کے لئے وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور اعلیٰ پولیس افسران نے 3 پروفیشنل مجرموں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ جو منصوبے کے مطابق تفتیش کے دوران ان دو بھائیوں کو اپنے ساتھی قرار دے گا۔ یہ انکشافات محمد عمران نے گزشتہ روز پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ سانحہ پولیس افسران اور پولیس اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت کے باعث پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق جوڈیشل تحقیقاتی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ پولیس کو وقوعہ کی اطلاع صبح تقریباً پونے سات بجے مل گئی تھی اور وہ مقتولےن کی موت سے قبل جائے وقوعہ پر پہنچ بھی گئی لیکن وہ محض خاموش تماشائی ہی بنی رہی۔ وقار چوہان فوری اطلاع ملنے کے باوجود تقریباً ساڑھے سات بجے واقعہ کی جگہ پر پہنچے۔ رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے بیانات بھی متضاد ہیں‘ انکوائری رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث پولیس افسران اہلکاروں اور دیگر تمام افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔
Post New Comment