لاہور (وقائع نگار خصوصی) چینی 80 روپے فی کلو فروخت ہونے لگی، پچھلے سال انہی دنوں چینی 50 روپے کلو فروخت ہونے پر پورے ملک مےں ہاہا کار مچ جانے پر اعلیٰ عدلیہ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے چینی کی قیمت 40روپے مقرر کی تھی مگر امسال قیمتوں مےں مسلسل اضافے کے باوجود اعلیٰ عدلیہ اور نہ خادم اعلیٰ کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی جس کے باعث چینی مافیا اربوں روپے سمیٹنے مےں مصروف ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز ماہ رمضان سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے اپنے ازخود نوٹس مےں قرار دیا تھا کہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس وقت ملک بھر مےں کتنی شوگر ملیں کام کر رہی ہےں، ان ملوں کی سالانہ پیداوار کتنی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح کریں کہ بالخصوص رمضان المبارک مےں چینی کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی۔ چیف جسٹس نے یہ ازخود نوٹس مقامی اخبار مےں شائع ہونے والی خبر پر لیا تھا جس مےں کہا گیا تھا کہ اہم ترین سرکاری شخصیات کی سرگرم حمایت کے ذریعے مارکیٹ کے کھلاڑیوں کی ظالمانہ نقل و حرکت کی وجہ سے پاکستان مےں چینی کی قیمتوں مےں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ بحران مےں سامنے آیا تھا کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی فیصلہ سازی مےں ہیر پھیر کی گئی، شوگر مل مالکان اور تاجروں جن مےں سے اکثر سیاستدانوں کے خاندان سے وابستہ ہےں۔ ملک مےں 83 شوگر ملز ہےں، پنجاب مےں 45، سندھ مےں 31 اور سرحد مےں 7 شوگر ملز ہےں۔ 2008-09ءمےں چینی کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم ہوئی جس کی وجہ سے چینی کا بحران پیدا ہوا۔ 3ستمبر 2009ءکو لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے صوبہ بھر مےں چینی کی قیمت 40روپے کے حساب سے فروخت کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ایک موقع پر قرار دیا تھا کہ مارچ تک اس کی قیمت 33روپے تھی تو اب کیا قیامت آگئی کہ قیمت اتنی اوپر چلی گئی لیکن رواں برس چینی کی قیمت 80 روپے فی کلو پہنچ گئی ہے اور ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر شوگر ملز مالکان یا ان کے قریبی عزیز اسمبلیوں مےں بیٹھے ہےں جنہیں عوام سے کچھ سروکار نہیں لیکن بدقسمتی سے اس مرتبہ اعلیٰ عدالتیں بھی سرمایہ داروں کی اس زیادتی پر خاموش ہےں۔
Post New Comment