کوئٹہ (بیورو رپورٹ+ مانیٹرنگ نیوز) بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دو لاپتہ وکلاءکی عدم بازیابی کیخلاف وکلاءکا صوبہ بھر میں عدالتی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ کیا گیا جبکہ این جی اوز نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے۔ کوئٹہ میں ہائیکورٹ، کچہری اور صوبے کی دیگر ماتحت عدالتوں میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاءتنظیموں کی اپیل پر منیر میروانی ایڈووکیٹ اور زمان مری ایڈووکیٹ کے اغوا کےخلاف ٹوکن بائیکاٹ کیا گیا۔ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے مبینہ طور پر گرفتار کئے جانے والے ذاکر مجید بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف لگایا گیا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ 10ویں روز بھی جاری رہا۔ ذاکر مجید کی ہمشیرہ نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انتہائی بے حس ادارے ہیں ان کے ہاں بچے، رشتے اور وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے او انتہائی غیرمناسب سلوک روا رکھا ہوا ہے۔ لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے پیر کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ لاپتہ میر عبدالودود رئیسانی، جلیل ریکی، ڈاکٹر دین محمد، غفار لانگو، سنگت ثنائ، علی اصغر بنگلزئی، مقبول ظر اور ماسٹر یحییٰ بلوچ کے اہل خانہ کی جانب سے لگایا گیا۔ احتجاجی کیمپ 34ویں روز بھی جاری رہا جبکہ آغا عابد شاہ، سفیر بلوچ اور ستار بلوچ کے اہل خانہ کو 13روز ہو گئے ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، بھوک ہڑتالی کیمپ میں طلبہ وکلا، ڈاکٹرز اور دوسرے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے آکر اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ فرزندوں کو اغوا نما گرفتاریاں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے سوالیہ نشان ہیں ہم اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنسٹی اور یورپی یونین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف نوٹس لیں۔
Post New Comment