پاکستان میں پیسے کی کوئی کمی نہیں‘ متاثرین سیلاب خود کو تنہا نہ سمجھیں : صدر آصف علی زرداری

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد/ ٹھٹھہ (ریڈیو مانیٹرنگ+ نیوز ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیسے کی کوئی کمی نہیں، متاثرین سیلاب خود کو تنہا محسوس نہ کریں، حکومت نے اپنے تمام وسائل متاثرین کیلئے مختص کر دئیے ہیں، متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونیوالے انفراسٹرکچر اور املاک کی تعمیرنو اور بحالی کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونیوالے اینٹوں کے کارخانوں کو قدرتی گیس کی مفت فراہمی یقینی بنائی جائے، کچے کے علاقے میں سیلاب سے بے گھر ہونیوالوں کو اینٹوں سے گھر بناکر دئیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سندھ کے سیلاب متاثرہ ٹھٹھہ، سجاول، کچے کے علاقے کا فضائی جائزہ، کوٹری بیراج پر بریفنگ اور کئی مقامات پر متاثرین سے گفتگو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، وفاقی وزیر پٹرولیم سید نوید قمر اور صوبائی وزراءبھی ان کے ہمراہ تھے۔ کوٹری میں سیکرٹری صوبائی آبپاشی نے صدر کو سیلاب کی صورتحال اور اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ ریڈیو نیوز کے مطابق صدر کی جانب سے کچے کے علاقے میں اینٹوں کے گھر بنا کر دئیے جانے کی ہدایت پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں پختہ مکان نہیں بنائے جا سکتے۔ صدر نے مزید کہاکہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے بند ماڈرن ٹیکنالوجی کے استعمال سے مضبوط کئے جاتے تو شاید اتنی زیادہ تباہی نہ آتی۔ ان کو ماڈرن ٹیکنالوجی سے مضبوط بنایا جائے۔ این این آئی کے مطابق صدر آصف علی زرداری کو بتایا گیا کہ ٹھٹھہ کو مزید نقصانات سے بچانے کیلئے انتظامات کر لئے گئے ہیں جبکہ کوٹری میں بریفنگ کے دوران انتظامیہ نے بتایا سندھ میں سیلاب سے تقریباً 2لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 480 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے ہدایت کی کہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے متاثرین کے کیمپوں کے قریب موبائل فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں جبکہ دریا کے اردگرد حفاظتی پشتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے اور ان کی اونچائی سیلاب کی سطح سے چھ فٹ اونچی رکھی جائے۔ کوٹری بیراج پر بریفنگ لینے کے بعد صدر قریب واقع ایک چھوٹے سے گاﺅں رائلو میان گئے اور وہاں قائم کیمپ میں مقیم متاثرین کو بتایا ان کی مشکلات مصائب کے بارے میں اعلیٰ ترین سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور وہ غم کی اس گھڑی میں خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ دریں اثناءصدر آصف علی زرداری یکم ستمبر کو بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے نصیر آباد اور جعفر آباد کا دورہ کرینگے اور متاثرہ خاندانوں میں پانچ پانچ ہزار فی کس امداد تقسیم بھی کریں گے۔اے این این کے مطابق صدر زرداری نے صوبائی حکام پر زور دیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونیوالے اور کیمپوں میں رہنے والوں کی امداد اور بحالی کیلئے مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے، حکومت متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ آن لائن کے مطابق صدر نے کہاکہ متاثرین کے گھروں کی تعمیر کیلئے اینٹیں فراہم کرنیوالے بھٹوں کو حکومت مفت قدرتی گیس فراہم کرے گی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions