متاثرین سیلاب کو صحت کی سہولتیں جنگی بنیادوں پر فراہم کریں گے‘ مرکز اور صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیں گے : وزیراعظم گیلانی

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں کو یقینی بنانے کیلئے وفاق اور صوبوں میں کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور دو ہفتے تک متاثرہ علاقوں میں صحت کی تمام سہولیں فراہم کر دی جائیں گی‘ اس وقت چالیس اضلاع میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح بنایا گیا ہے‘ بیرونی ممالک سے بھی ادویات اور دیگر سامان بھجوایا جا رہا ہے‘ عالمی برادری کا حکومت پر مکمل اعتماد ہے‘ چار فیلڈ ہسپتال قائم کر دیئے گئے ہیں اور سولہ فیلڈ میڈیکل ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بات پمز میں نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی رسپانس سنٹر کے اچانک دورے کے موقع پر وزارت صحت کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس سنٹر کا دورہ کرنے سے قبل وہ پورے ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کر چکے ہیں اور وہاں سے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کی روشنی میں صحت کی سہولتیں جنگی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ایمرجنسی سنٹر کے قیام کا مقصد کوآرڈینیشن کے ذریعے صوبوں سے ضلع کی سطح پر ادویات فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ادویات کی تقسیم میں کسی قسم کی شکایت ملنے پر سخت ایکشن لیا جائے گا اور شفاف طریقے سے ادویات کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں فیلڈ پر جا کر کام کرنے کا عادی ہوں اب زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے نوشہرہ میں سہولتوں کی عدم فراہمی کا سخت نوٹس لیا ہے‘ انہوں نے ہدایت کی وہاں جلد موبائل میڈیکل یونٹ بھجوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرین کے کیمپوں میں 5 لاکھ حاملہ خواتین ہیں انہیں طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے وزارت صحت اور وزارت بہبود آبادی کو ہدایات دی گئی ہیں۔ صوبوں سے کہا ہے کہ ایک میڈیکل کالج کے ذمے ایک صوبہ لگا دیں تو ڈاکٹروں کی کمی دور ہو جائے گی‘ یہ کام جنگی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے ملنے والے فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ بیوروکریسی پر یقین نہیں کریں گے اور ادویات کی فراہمی کی نگرانی خود کریں گے۔ متاثرہ علاقوں میں دو ہفتوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ متاثرین کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے مسائل نہیں بڑھنے دیں گے۔ وزیراعظم نے وزارت صحت کو ہدایت کی کہ وہ ادویات کی فراہمی کی انہیں رپورٹ پیش کریں۔ وزیراعظم کو متاثرہ علاقوں میں ادویات کی ترسیل اور فراہمی پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے وزارت صحت کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کے لئے مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ متاثرین کی جلد بحالی کے لئے چاروں وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ انہیں متاثرہ علاقوں میں ادویات کی ضروریات سے روزانہ آگاہ کیا جائے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وبائی امراض کے خلاف چالیس متاثرہ اضلاع میں حفاظتی ٹیکے لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ زچہ و بچہ کی صحت کے لئے ایک سو اسی مراکز قائم کئے گئے ہیں‘ چار فیلڈ ہسپتال اور سولہ فیلڈ ٹیمیں کام کر رہی ہیں‘ اٹلی اور ڈنمارک سے فیلڈ ہسپتال جلد پاکستان پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پیر کو اچانک پمز ہسپتال گئے جہاں انہیں سیکرٹری صحت خوشنود اختر لاشاری اور دیگر حکام نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لئے تفصیلی بریفنگ دی اور قائم کئے گئے خصوصی سنٹر کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا تاہم بعض مواقع پر حکام وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ ان کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی اور صحافیوں کے سوالوں کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے جس پر وزیراعظم نے سیکرٹری صحت سے کہا کہ آپ سیاسی یا گول مول بات کرنے کی بجائے کلیئر بات کریں اخبار نویس میرا تو احترام کر لیں گے لیکن بیوروکریسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعظم گیلانی سے انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین علی حبیب نے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم کے فلڈ ریلیف فنڈ کے لئے ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔ وزیراعظم سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سید ممتاز عالم گیلانی نے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم کے فلڈ ریلیف فنڈ کے لئے اپنے حلقہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں فنڈز کی تقسیم مکمل طور پر شفاف ہو گی۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو سے ملاقات میں وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ متاثرین سیلاب کو متبادل پناہ گاہیں اور خیمے فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے حکومت متاثرہ اور تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کیلئے نقد امداد دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے لئے 3 ارب ڈالر درکار ہونگے عالمی برادری خصوصاً اسلامی ممالک اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے امداد کی فراہمی تیز کرے۔ سیکرٹری جنرل کا پاکستانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یہ دورہ قابل تحسین ہے اس سے اسلامی ممالک کو سیلاب زدگان کی امداد کیلئے متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے او آئی سی ممالک کی امدادی تنظیموں کا ہنگامی رابطہ اجلاس بلانے پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا یہ اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں ہوا جس میں ایک ارب ڈالر کا وعدہ کیا گیا۔ اس میں امداد کو پانچ سے بڑھا کر 7 ملین ڈالر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا وزیراعظم نے قبل ازیں جدہ میں او آئی سی ممالک کے مستقل نمائندوں کا ہنگامی اجلاس بلانے پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے او آئی سی کا ایمرجنسی ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ قائم کرنے کے بارے میں سیکرٹری جنرل کی تجویز کی مکمل حمایت کا یقین دلایا تاکہ مستقبل میں اس قسم کی قدرتی آفات پر متاثرہ ممالک کو مدد دی جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا او آئی سی سعودی ڈویلپمنٹ فنڈز، کویت ڈویلپمنٹ فنڈز اور دیگر خلیجی و اسلامی ممالک کے فنڈز پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ سیکرٹری جنرل نے اس آفت پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ او آئی سی اس مصیبت کے وقت میں پاکستان کی مدد کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرے دورہ راجن پور سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ حکومت پاکستان موثر اور منظم انداز میں متاثرین کی مدد کر رہی ہے اور سیلاب کی صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم ان تباہ کاریوں سے بحالی کیلئے فوری امداد ناگزیر ہے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ اسلامی ممالک کی امدادی تنظیموں پر زور دینگے کہ وہ پاکستانی بھائیوں کی مدد کریں کیونکہ سیلاب سے ہونیوالی تباہ کاریاں سونامی، 2005 میں آنیوالے زلزلہ اور گذشتہ سال ہیٹی میں ہونے والی تباہ کاری سے بھی زیادہ ہے۔ اوگلو نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان کے لئے ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے اور مزید امداد دی جائے گی۔وزیراعظم گیلانی نے مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لئے آگے آنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے جذبے کو سراہا ہے۔ وزیر نجکاری سینیٹر وقار احمد خان کی طرف سے نجکاری کمشن کے ملازمین کی جانب سے 20 کروڑ روپے کا چیک وزیراعظم ریلیف فنڈ کے لئے پیش کئے جانے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ہم وطنوں کے لئے پریشان ہے جس سے پاکستانی عوام کی حب الوطنی کی حقیقی عکاسی ہوتی ہے۔ نجکاری کمشن کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین نے رضاکارانہ طور پر اپنی ایک دن کی جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین نے دو دن کی تنخواہ جبکہ گریڈ 1 سے 3 کے کنسلٹنٹس نے 5 دن کی تنخواہ وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں بطور عطیہ دی ہے۔ خلیجی ممالک نے پاکستان کو سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کے ممکنہ منصوبے کی تکمیل کے لئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے خلیجی ممالک کے سفیروں نے ملاقات کی اور سیلاب کے حوالے سے پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ زبردست یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں بحرین کے سفر محمد ابراہیم محمد عبدالقدیر‘ کویت کے سفیر ناواف عبدالعزیز اے اے العنیزی‘ عمان کے سفیر محمد بن سعد بن محمد العوانی‘ متحدہ عرب امارات کے سفیر علی سیف سلطان اور قطر کے سفیر محمد عارب ماظر شامل تھے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions