ہم جمہوریت لاتے ہیں اور عدلیہ آمروں کی توثیق کرتی ہے: ایڈووکیٹ جنرل سندھ ۔۔ پارلیمنٹ بھی توثیق کرتی رہی ہے: جسٹس جواد

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے 18ویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت آج تک ملتوی کر دی ہے‘ ایڈووکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری آج بھی دلائل جاری رکھیں گے۔ پیر کو دلائل میں انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت لاتے ہیں اور عدلیہ فوجی آمروں کی ڈکٹیٹر شپ کی توثیق کرتی ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی توثیق دیتی رہی ہے‘ عدلیہ کو آئین پر نظرثانی سے روکنے کا آرٹیکل 239 بھی ایک آمر نے ہی آئین میں شامل کیا تھا جنرل ضیاءالحق نے اس میں لکھ دیا تھا کہ عدالت اس پر نظرثانی نہیں کر سکتی آج حکومتی وکلا اسی پر سب سے زیادہ زور دے رہے ہیں حالانکہ انہیں کہنا چاہئے تھا کہ جو شق آمر نے شامل کی اسے ختم کر دیں گے‘ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین میں ایسی کتنی شقیں ہیں جو آمروں نے آئین میں شامل کیں اور پارلیمنٹ نے ان کی توثیق کی‘ یوسف لغاری نے دلائل میں کہا کہ عدالت کو آئینی ترامیم پر نظرثانی کا اختیار نہیں‘ بنیادی ڈھانچہ صرف وفاقی اور اس کے تین ستونوں پر مشتمل ہے درخواست گذار دراصل بنیادی ڈھانچے کی آڑ میں نظریہ ضرورت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آپ کسی درخواست گذار پر اعتراض نہیں کر سکتے‘ ہر شہری کو عدالت سے رجوع کا اختیار ہے۔ یوسف لغاری کے تحریری دلائل میں متعدد غلطیوں کی جانب عدالت نے ان کی توجہ دلائی جس پر انہوں نے معذرت کی یوسف لغاری نے قرارداد مقاصد پر اعتراض کیا تو عدالت نے کہا کہ اگر آپ اسے غلط سمجھتے ہیں تو ختم کیوں نہیں کر دیا ان کے دلائل جاری تھے کہ سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions