بھرپور قومی حمایت کے ساتھ متاثرین کی بحالی کی کوششیں جاری رکھیں گے : فوجی قیادت

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید کی صدارت میں جائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں اجلاس ہوا جس میں ملک میں سیلاب کی صورتحال‘ امدادی سرگرمیوں اور دوسرے امور پر غور کیا گیا۔ مسلح افواج کی قیادت کو ملک میں مسلح افواج کی طرف سے جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ مسلح افواج کی قیادت نے بدترین سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت و ہمدردی کرتے ہوئے فوج ، فضائیہ اور بحریہ کے فوری اور موثر رسپانس اور امدادی کارروائیوں پر مکمل اعتماد ظاہر کیا جبکہ مسلح افواج نے کوسٹل علاقوں کے مشترکہ کنٹرول کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی بات چیت کی اور فوج کی آپریشنل تیاریوں پر بھی مکمل اطمینان ظاہر کیا گیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف جنرل پرویزاشفاق کیانی، ائر چیف راو قمر سلمان اور نیول چیف ایڈمرل نعمان بشیر، سیکرٹری دفاع ، ڈی جی آئی یس آئی ، چیف آف جنرل سٹاف ، ڈی جی سٹرٹیجک پلان ڈویژن اور تینوں مسلح افواج کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ کمیٹی نے حالیہ سیلاب کی صورتحال پر تفصیلی غور کے ساتھ ساتھ اس میں ہونے والے مالی و جانی نقصان ، ریلیف اور ریسکیو کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اطمینا ن ظاہر کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں ابتدائی بحالی کا کام شروع کرچکی ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی اطمینان ظاہر کیا کہ تینوں مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے متاثرہ علاقوں کے عوام کی مدد اور بچاو میں کلیدی کردار ادا کیا اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون بھی فراہم کیا۔ اجلاس کے شرکاءکا اس بات پر اتفاق تھا کہ وہ بھرپور قومی حمایت کے ساتھ ریلیف اور بحالی کی کوششوں کو موثر انداز میں جاری رکھیں گے اور اس وقت تک مسلح افواج اپنا کام جاری رکھیں گی جب تک سیلاب کے حوالے سے آپریشنز مکمل نہیںہو جاتے۔ شرکاءنے قومی سلامتی کی صورتحال ، اندرونی و بیرونی چیلنجوں اور ان کے مقابلے کے لئے تیار کی گئی حکمت عملی پر بھی غور کیا۔ ملک کی داخلی سلامتی سے متعلق امور خصوصی طور پر زیر بحث آئے ۔ سوات اور فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیاگیا اس کے علاوہ افغانستان کی سکیورٹی کی صورتحال کے علاقے میں پڑنے والے اثرات اور مشرقی سرحدوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا۔ مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں اور دفاعی صنعت کی پیداوار پر بھی شرکاءنے مکمل اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لئے بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ اجلاس میں کوسٹل علاقوں کا مشترکہ کنٹرول کا نظام بھی زیر بحث آیا۔ جنرل کیانی نے فوجی قیادت کو اپنے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے بریفنگ دی۔ نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلح افواج آپریشن مکمل ہونے تک کارروائیوں میں حصہ لیں گی۔ اجلاس میں افغانستان میں تعمیر و ترقی اور سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ مشرقی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions