بدین + کوئٹہ + پاکپتن (ایجنسیاں + نامہ نگار) سیلاب سے ٹھٹھہ کے مزید 1000 دیہات زیر آب آ گئے اور سینکڑوں افراد پھنس گئے۔ بند ٹوٹنے سے پانی گاجی کھاڑو میں بھی داخل ہو گیا۔ ٹھٹھہ اور لاڑکانہ کو خطرہ ٹل گیا۔ کلاچی اور سجاول کے درمیان 10 کلو میٹر شاہراہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ شہداد کوٹ سے آنیوالا ریلا تحصیل خیرپور ناتھن میں داخل ہو گیا۔ فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ جیکب آباد میں کشتی الٹنے سے 10 افراد ڈوب گئے۔ مظفر گڑھ میں گیسٹرو سے ایک ہی خاندان کی تین بچیوں سمیت 4 افراد‘ ڈیرہ مراد جمالی‘ صحبت پور‘ گنداخہ‘ شہداد کوٹ‘ سانگھڑ میں 8 بچے اور خواتین جاں بحق ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ میں فقیر جو گوٹھ بند میں شگاف پڑنے سے کچے اور پکے کے مزید ایک ہزار دیہات زیر آب آ گئے آبی ریلا جاتی میں داخل ہو گیا دادو کی تین تحصیلوں کے نوے دیہات ڈوب گئے۔ کوٹ عالمو بند میں شگاف سے نکلنے والا ریلا جاتی روڈ پر شوگر مل تک پہنچ گیا۔ ادھر سجاول میں اب بھی پانچ ہزار سے زائد افراد سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے حیسکو حکام کے مطابق سجاول گرڈ سٹیشن میں آٹھ فٹ پانی ہے۔ شہداد کوٹ سے آنے والا آبی ریلا تحصیل میہڑ‘ خیرپور ناتھن شاہ اور جوہی میں داخل ہو گیا ہے جس سے ان شہروں کے نوے سے زیادہ دیہات پانی میں ڈوب گئے۔ بدین کے علاقے بڈھا تالپور سے لوگوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔ ضلع ٹھٹھہ میں بھریا شیدی موری کے مقام پر پڑنے والا شگاف 80 فیصد پُر کر لیا گیا ہے جس کے بعد ٹھٹھہ شہر میں حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد اپنے گھروں کو لوٹ رہی ہے۔ قبو سعید خان اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو پاک فوج اور بحریہ کی کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ریسکیو کرنے کا کام جاری ہے۔ لاڑکانہ شہر کو درپیش سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں جعفرآباد، ڈیرہ الہ یار، روجھان جمالی اور صحبت پور میں پانی کی سطح آٹھ انچ مزید کم ہو گئی۔ ڈیرہ الہ یار اور بلوچستان کے دیگر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ملک بھر سے اٹھارویں روز بھی زمینی رابطہ منقطع رہا‘ دوسری جانب سیلاب زدہ علاقوں میں موجود متاثرین میں بڑے پیمانے پر ہیضے، گیسٹرو اور جلدی امراض کا تیزی سے حملہ ہو رہا ہے۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق کوٹری کے مقام پر پانی کی آمد 8 لاکھ 66 ہزار کیوسک گدو کے مقام پر پانی کی آمد 5 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 14.3 فٹ ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 68 ہزار کیوسک اور منگلا میں پانی کی آمد اور اخراج 43 ہزار 44 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ مانیٹرنگ نیوز کے مطابق ڈیرہ الہ یار سے جیکب آباد آنے والی کشتی سیلابی پانی میں الٹنے سے 20 افراد ڈوب گئے۔ ریسکیو ہیلی کاپٹر کی مدد سے 8 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مظفر گڑھ کے نواحی علاقہ شاہ جمال میں ایک ہی خاندان کی تین بچیاں پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر مناسب وقت پر طبی امداد نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہو گئیں۔ بچیوں کے والدین کے مطابق تینوں بچیوں کو تکلیف میں مبتلا ہونے کے بعد رورل ہیلتھ سنٹر شاہ جمال منتقل کیا تاہم وہاں فوری طبی امداد دینے کیلئے عملہ موجود نہ تھا جس کے باعث تینوں بچیاں جاں بحق ہو گئیں جبکہ بستی جڑھ کا رہائشی اور سیلاب سے متاثرہ ایک اور 18 سالہ نوجوان کی بھی موت واقع ہو گئی۔ کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق جمالی بائی پاس میں سیلاب زدگان کا رش زیادہ ہونے کے باعث سینکڑوں افراد سخت گرمی میں انتظار میں بیٹھے ہیں 3خواتین اور 5 بچوں سمیت 12 افراد بے ہوش ہو گئے جبکہ صحبت پور‘ گنداخہ میں 5 بچے اور 2 خواتین گیسٹرو سے جاں بحق ہو گئیں۔ نصیر آباد میں دو ہفتوں سے ڈپٹی کمشنر سمیت ضلع کے ذمہ دار افسران اپنے دفتروں سے غائب ہیں حکومت کی جانب سے متاثرین کی بحالی اور امدادی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ بصیرپور سے نامہ نگار کے مطابق دریائے ستلج سے یہاں سیلابی پانی کے 60 ہزار کیوسک کا ریلا بحفاظت گزر گیا ہے۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کا بہاﺅ ڈاون 39221 کیوسک ہے جبکہ اپ 51821 کیوسک ہے ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کے 41 دیہات کے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے نقل مکانی کرنے والوں کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ٹرانسپورٹ سمیت کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم نہ کی گئی ہے دریائے کے پانی سے منقسم مامونکا‘ آمیر آہلو کا سمیت دیگر دیہات کی اراضی زیر آب آ گئی۔
Post New Comment