میچ فکسنگ سکینڈل : بکی مظہرمجید ضمانت پر رہا‘ آئی سی سی کا انٹی کرپشن یونٹ تحقیقات کیلئے لندن پہنچ گیا

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (مانیٹرنگ نیوز/ ثنا نیوز) پاکستانی کرکٹروں کے میچ فکسنگ سیکنڈل کی تقحیقات کے لئے آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ دبئی سے لندن پہنچ گیا جبکہ بکی مظہر مجید کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار نے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان نے جو 82 میچز کھیلے ہیں ان تمام میچز کی تقحیقات کی جائے گی کیونکہ جس طرح پاکستان کے کھلاڑی ملوث نظر آ رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میچ فکسنگ پاکستان کی کچھ طاقتور قوتوں کے ساتھ مل کر بڑے عرصے سے کی جا رہی ہے۔ ٹیلی گراف اخبار کے مطابق اس کیس کی تحقیقات میں پاکستان کھلاڑیوں اور مظہر مجید کے اکاونٹس بھی چیک کئے جائیں گے۔ آئی سی سی یونٹ کے مطابق 82 میچوں کے حوالے سے مظہر مجید نے بتایا ہے کہ یہ تمام میچز فکس تھے اور ان پر کروڑوں کا جوا لگا ہوا تھا۔ میچ فکسنگ سکینڈل میں گرفتار مظہر مجید کو برطانوی پولیس نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ مظہر مجےد پر پاکستانی کرکٹ ٹےم کے کھلاڑےوں کو مےچ فکسنگ پر اکسانے کے الزامات عائد کئے گئے ہےں۔ مظہر مجےد کا تعلق فےصل آباد سے ہے۔ سکاٹ لےنڈ ےارڈ پولےس نے تحقےقاتی رپورٹ مےں کہا ہے کہ مظہر مجےد اور اس کے بھائی ماضی مےں سڈنی ٹےسٹ اور اوول ٹےسٹ کے علاوہ بے شمار سےرےز مےں سٹہ لگاتے رہے ہےں۔ برطانوی اخبار نےوز آف دی ورلڈ نے مظہر مجےد سے حاصل ہونے و الے تمام شواہد سکاٹ لےنڈ ےارڈ پولےس کے حوالے کر دئےے ہےں۔ پولےس نے رپورٹ کو چھپانے کا اشارہ دے دےا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑےوں کا مستقبل خطرے مےں ہے۔ مظہر مجید کو ہفتے کے روز برطانوی پولیس نے لارڈز ٹیسٹ فِکس کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی پولیس کو پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے۔ پولیس نے جس شخط کو پکڑا تھا اس کو بھی ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ پاکستان کے کسی کھلاڑی سے ابھی تک کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔ پاکستانی ہائی کمیشن مکمل تعاون کر رہا ہے۔ گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تفضل رضوی نے کہا کہ انگلینڈ میں ہتک عزت کا قانون بہت مضبوط ہے پاکستانی کھلاڑیوں پر جھوٹے الزام لگانے پر پی سی بی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions