18 ویں ترمیم کیس کے فیصلے تک ایڈہاک ججز کو کام جاری رکھنے کی اجازت

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز+ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے 18ویں ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کے دوران بلوچستان ہائیکورٹ میں متعین ججوں کے حوالے سے فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں ہائیکورٹس کے 32 ایڈہاک ججز کی مدت ملازمت میں عبوری توسیع کردی۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے فیصلے تک ایڈہاک ججز کام کرتے رہیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں 18 ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ججوں نے ریمارکس میں بلوچستان ہائیکورٹ میں متعین ججوں کی ختم ہوتی مدت کے باوجود حکومت کی طرف سے اقدام نہ کئے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ججوں نے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی ہدایات پر عمل میں حکومت بہت وقت لیتی رہی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 175 اے معطل کرکے اس پر حکم امتناعی جاری کیا جائے، یا حکومت کو ہدایت کی جائے کہ ہائیکورٹ کے ایڈہاک ججز کی ختم ہوتی مدت کو توسیع دی جائے۔ رشید اے رضوی نے اس بارے میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا خط پڑھ کر سنایا۔ اسکے مطابق ٹارگٹ کلنگ سمیت سنگین جرائم کے مقدمات بلوچستان ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں اور ایسے موقع پر ہائیکورٹ کا غیرفعال ہوجانا، صوبے کے عوام کے حقوق کےخلاف ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ یہ خط دو ہفتے قبل لکھ دیا جاتا۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالت نے اس بات کی بہت پہلے نشاندہی کردی تھی۔ 19 اگست کو بھی خصوصی ہدایت دی تھی اور سب جانتے ہیں کہ کیوں بحران پیدا کیا جا رہا ہے؟ جسٹس ثائر علی نے کہا کہ بلوچستان کے ججز کا ایشو، گورننس کا ایشو ہے۔ حکومت ایسے مسائل کو بہت پہلے دیکھتی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ کا ایک عضو غیرفعال ہورہا ہے اور حکومت کو اسکی پرواہ ہی نہیں۔ بعد میں عدالت نے اس ایشو پر اٹارنی جنرل کو آج ہی وفاق سے ہدایات لیکر جواب عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ ایک موقع پر جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کے پاس دو راستے ہیں، 18 ویں ترمیم معطل کردیں یا ایگزیکٹو ہدایت دی جائے کہ وہ ججوں کو توسیع دے، لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ عدالتی ہدایات پر حکومت عمل کرنے میں بہت وقت لیتی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے آئین میں 18 ویں ترمیم کیخلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران بلوچستان ہائیکورٹ میں متعین ایڈہاک ججز کی ختم ہوتی ہوئی مدت کے معاملے پر خصوصی توجہ دی۔ سماعت کے دوران ججوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوری اور اہم نوعیت کے اس معاملے پر حکومت نے توجہ کیوں نہیں دی؟ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے پٹیشن عدالت میں دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 18 ویں ترمیم کیخلاف عبوری ریلیف دیتے ہوئے عملدرآمد روکنے کیلئے حکم امتناعی جاری کیا جائے اور ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ چاروں چیف جسٹسز کی طرف سے عدالت کو یہ کہا گیا ہے کہ ان ججز کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔ اس حوالے سے عدالت نے جب اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تو اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ اس حوالے سے کوئی موقف اختیار کرسکیں۔ اس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کا خط عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا۔ اس خط میں کہا گیا کہ بلوچستان کی ہائیکورٹ کے معطل ہونے سے بلوچستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق معطل ہوجائینگے۔ اسکے علاوہ بلوچستان میں جو بڑے پیمانے پر ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس حوالے سے جو مقدمات زیرسماعت ہیں وہ مقدمات بھی متاثر ہوں گے۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو یہ خط دو ہفتے پہلے تحریر کرنا چاہئے تھا۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے کہنا تھا کہ 26 جولائی اور پھر 9 اگست کو عدالت نے اس اہم ایشو پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کئے تھے اور اس پر وفاق کی طرف سے ہدایت لینے کو کہا تھا لیکن وفاق نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا۔ اس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس دوران مسلم لیگ (ن) کی ایک تجویز آئی تھی کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے لیکن حکومت نے اس پر بھی انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ عدالت نے اس حوالے سے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ وزیراعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کریں بصورت دیگر عدالتی مثالیں موجود ہیں کہ پھر ایسی صورتحال میں عبوری ریلیف دیا جاسکتا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions