واشنگٹن (نمائندہ خصوصی+ اے این این) پاکستا ن میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کوئٹہ میں افغان طالبان کی شوریٰ کی مبینہ موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے ایجنڈے پر پہلے القاعدہ سرفہرست تھی مگر اب طالبان بھی اس کےلئے پریشانی کاباعث بن رہے ہیں۔ امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ “سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں افغان طالبان کی شوریٰ کاسرگرم ہونا ہمارے لئے شدید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمار ے فوجی افغان سرحد کی دوسری جانب موجود ہیں اور کوئٹہ میں طالبان شوریٰ واشنگٹن کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ شمال مغربی قبائلی علاقوں کی نسبت بلوچستان کے صحرائی خطے سے کم واقف ہے قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ القاعدہ اور طالبان رہنماو¿ں کی تلاش کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کرتا رہا ہے اس کے علاوہ وہاں جاسوس طیاروں کے حملوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کو مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ قبائلی علاقوں کی طرح ڈرون میزائل حملے کوئٹہ پر نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے القاعدہ کے خاتمے پر توجہ مرکوز رکھی کیونکہ وہ ہمارے لئے خطرہ تھی مگر اب کوئٹہ میں افغان طالبان کی شوریٰ واشنگٹن کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین کے اس خطے پرکنٹرول حاصل کرنے کے حوالے سے بھی ہمیں تشویش ہے جہاں پر لوگ پاکستان کےلئے خطرہ نہیں ہیں لیکن ہمارے لئے وہ نہایت اہم ہیں انہوں نے کہاکہ کوئی بھی اپنے پہلو میں زہریلے سانپوں کوبرداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں پاکستان نے بھارت اور دوسری جگہوں پر کارروائی کیلئے جنگجو تیار کئے تھے جوکہ اب پاکستان کیخلاف کام کر رہے ہیں جبکہ فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ بلوچستان میں طالبان موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کے پاس طالبان کے حوالے سے معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کرے لیکن ہم امریکی فوج کو اپنی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی و افغان حکام کی دی گئی فہرست میں سے طالبان کی مبینہ کوئٹہ شوریٰ کے دس میں سے چھ ارکان جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انہیں کوئٹہ پر امریکی حملے کا علم نہیں۔ دریں اثناءآرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ بلوچستان پر ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
این ڈبلیو پیٹرسن
Post New Comment