اسلام آباد (جاوید صدیق) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ حل ہونے تک بھارت کو ٹرانزٹ ٹریڈ سہولت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ سمجھوتے کے صرف منٹس پر دستخط ہوئے ہیں ابھی سمجھوتہ نہیں ہوا‘ سمجھوتے کی منظوری کابینہ دے گی۔ جمعرات کی رات نوائے وقت‘ نیشن اور وقت نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت امریکہ سے ڈکٹیشن نہیں لے رہی۔ پیپلز پارٹی امریکہ کے ساتھ تعلقات کی جو تاریخ ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ موجودہ حکومت نے امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں کی‘ امریکہ نے ایران گیس پائپ لائن سمجھوتے اور چین کے ساتھ ایٹمی تعاون کے سمجھوتے پر دبا¶ ڈالا جسے مسترد کر دیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ہم نے امریکہ کا دبا¶ قبول نہیں کیا۔ جنرل مشرف کی پالیسیوں کے تسلسل کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے یہ مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن جب دوسرے فریق نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی تو پھر حکومت کو مجبوراً آپریشن کرنا پڑا۔ ڈرون حملوں سے متعلق انوہں نے کہا کہ یہ پالیسی ہمیں ورثے میں ملی ہے‘ ہم نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ڈرون ٹیکنیک ہمیں دے‘ ہم امریکی ڈرون گرا سکتے ہی لیکن ڈرونز گرانے کا مطلب ہو گا کہ امریکہ کے ساتھ کھلی جنگ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کائرہ نے کہا کہ ہم میڈیا یا عدلیہ میں سے کسی کو چیلنج نہیں سمجھتے‘ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے‘ عدلیہ ریاست کا ایک اہم ستون ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنے آئینی دائرے میں کام کریں۔ عدلیہ کے ساتھ حکومت کی کوئی مچاذ آرائی نہیں‘ این آر او کے فیصلے پر نوے فیصد عمل ہو چکا ہے‘ 10 فیصد فیصلے پر عمل نہیں ہوا اس کے لئے بھی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے‘ اس کا فیصلہ آئے گا تو اس پر بھی عملدرآمد ہو گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ صن) اور میاں نوازشریف کے ساتھ تلخی جنرل مشرف کے حوالے سے بڑھی۔ آصف علی زرداری جب رائے ونڈ میں میاں نوازشریف سے ملاقات کے لئے گئے تھے تو میں وہاں موجود تھا جہاں نوازشریف نے اس وقت مطالبہ کیا تھا کہ جنرل مشرف کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے جس پر زرداری صاحب نے یہ م¶قف اختیار کیا تھا کہ حکومت ابھی تک مستحکم نہیں ہے‘ جنرل مشرف کو ہٹانے میں کچھ وقت درکار ہے لیکن پھر پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے مشورے سے جنرل مشرف کے مواخذے سےکے لئے چارج شیٹ تیار کی۔ جنرل مشرف کے مواخذے کی تحریک میاں نوازشریف نے یہ شرط بھی لگا دی کہ موجودہ عدلیہ کو ہٹا کر ان ججوں کو بحال کیا جائے جنہیں جنرل مشرف نے برطرف کیا تھا۔ ہمارا م¶قف تھا کہ موجودہ عدلیہ کام کر رہی ہے اسے چیف جسٹس ڈوگر کی مدت کے خاتمہ تک کام کرنے دیا جائے‘ اس پر ہمارے مسلم لیگ (ن) سے اختلافات پیدا ہوئے لیکن میثاق جمہوریت کی اکثر شقوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے‘ 18ویں ترمیم کے ذریعہ ہم نے آئین میں شامل آمرانہ دور کی ترامیم ختم کر دی ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی الگ جماعتیں ہیں جن کے منشور بھی الگ ہیں کئی امور پر ہمارے اختلافات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایوان صدر میں اس لئے پارٹی اجلاس کرتے ہیں وہ پارٹی کے دفتر میں نہیں جا سکتے‘ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر انہیں ایوان صدر میں اجلاس کرنا پڑتے ہیں۔ اجلاسوں پر حکومتی خزانہ کے اخراجات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شاید کبھی کبھار چائے پلانے پر خرچ اٹھتا ہو پارٹی اجلاسوں پر کوئی بڑا خرچہ نہیں ہوتا۔ اس سوال پر کہ صدر زرداری لندن میں اپنے بیٹے کو پارٹی کا چیئرپرسن بنانے کے لئے سرکاری خرچ پر ایک تقریب منعقد کر رہے ہیں‘ اس کا کیا جواز ہے تو قر زمان کائرہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سے ہی پارٹی کے چیئرپرسن ہیں انہیں پارٹی کا سربراہ بنانے کے لئے کوئی تقریب نہیں ہو رہی ہے۔ صدر پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کریں گے‘ اس کے اخراجات پاکستانی کمیونٹی ادا کرے گی۔ جنرل کیانی کو توسیع دینے کے بارے میں انہوں نے اس نظریہ کو مسترد کر دیا کہ انہیں کسی کے کہنے پر توسیع دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے انہیں اس لئے توسیع دی ہے کہ ان کی ملک کو ضرورت ہے اور ان کی خدمات کو ہم بنظر تحسین رکھتے ہیں۔
قمر کائرہ
Post New Comment