قائمہ کمیٹی کی چینی بحران پر تشویش‘ پاکستان سٹیل ملز کی انتظامیہ تبدیل کرنے کی سفارش

ـ 30 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد ( رےڈےونےوز/نےوز اےجنسےاں) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار نے ملک میں چینی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور بروقت عملی اقدامات نہ اٹھانے کے باعث چینی ناپید ہوسکتی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ بروقت چینی درآمد نہ کرنے سے اب دو سو ڈالر فی ٹن اضافی قیمت ادا کرنا پڑے گی ‘حکومت فوری طور پر دس لاکھ ٹن چینی درآمد کرکے ذخیرہ کرے۔ سینیٹر الیاس بلور نے کہاکہ چینی کی قیمتیں مزید بڑھیں تو عوام حکومتی اراکین کے گریبان پھاڑ دینگے۔ گذشتہ روز کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان سٹیل مل کراچی میں کرپشن اور ملک میں چینی بحران کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیا گیا‘ اس موقع پروفاقی وزیر صنعت وپیداوار میر ہزار خان بجارانی نے بتایا کہ سٹیل مل میں بدانتظامی کے باعث اربوں روپے کرپشن ہوئی۔ حکومت نے مالی معاملات بہتر بنانے کے لیے دس ارب روپے کا بیل آﺅٹ پیکج دے دیا ہے جبکہ ذیلی کمیٹی نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا کہ سٹیل ملز کو دیا گیا 10 ارب روپے کا بیل آﺅٹ پیکیج بھی ضائع ہوجائیگا۔ کمیٹی نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو چینی کی سمگلنگ روکی جائے جبکہ حکومت کو سفارش کی کہ پاکستان سٹیل مل کو خسارے سے بچانے کےلئے انتظامیہ تبدیل کی جائے۔ سیکرٹری صنعت عبدالغفار سومرو نے بریفنگ میں بتایا کہ چینی کی قیمتیں حکومتی اندازے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں اگر چینی کی قیمتوں میں اضافے کا دباﺅ برقرار رہا تو یوٹیلٹی سٹورز پر بھی اس کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions