صادق آباد (نامہ نگار + اے پی پی) سانحہ کراچی میں خودکش بمبار کو پکڑ کر لاکھوں افراد کو بچانے والے شہید عبدالرزاق کا تعلق ماچھی گوٹھ تحصیل صادق آباد سے تھا۔ حکومت نے اسے ستارہ شجاعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ شہید عبدالرزاق بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا بچپن سے شہادت کا شوق تھا۔ ایک سال قبل شادی ہوئی فون کیا تھا کہ محرم الحرام کے بعد آﺅنگا فی الحال ملکی حالات ٹھیک نہیں‘ 10 محرم الحرام کی صبح گھر والوں کو آخری فون موصول ہوا شہادت کی خبر شام کو ہوئی۔ شہید کی ایک سال قبل اپنی قریبی عزیز زمرہ سولنگی سے شادی ہوئی عبدالاضحی کے موقع پر شہید عبدالرزاق نے 70 سالہ والد محمد چنوں خان سولنگی کوفون کیا کہ عید پر نہیں آﺅں گا انشاءاللہ محرم الحرام کے بعد چکر لگاﺅں گا گھر والوں نے بتایا کہ شہید رزاق روزانہ گھر فون کرتا تھا 10 محرم الحرام کی صبح شہید عبدالرزاق کاٹیلی فون موصول ہوا اپنے گھروالوں اور اہلیہ سے بات کی اوربتایا کہ مجھے چھٹی مل چکی ہے۔ شہید یوم عاشورہ کے موقع پر کراچی میں ایم اے جناح روڑ پر اپنی خدمات انجام دے رہاتھا کہ اس کی نظر ایک خودکش بمبار پرپڑی جوجلوس کی طرف بڑھ رہاتھا دہشت گرد جلوس میں شریک لاکھوں افراد کی جان لینے کامشن لیکر آیا تھا شہید عبدالرزاق نے خودکش بمبار کا ارادہ بھانپتے ہوئے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو خودکش نے اپنے آپ کو اڑا دیا اور شہید عبدالرزاق بھی موقع پر شہید ہو کر لاکھوں جانوں کو بچانے کے مشن میں کامیاب ہو گیا اور ملک وقوم کیلئے اپنی جان کانذرانہ دے دیا۔ شہید عبدالرزاق کے والد چنوں سولنگی اور والدہ نے بتایا کہ ہمارے بیٹے کو بچپن سے شہادت کاشوق تھا ہمیں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے ملک وقوم کیلئے جان قربان کی۔ شہید رزاق کے بھائیوں اختیار احمد‘ مختار احمد‘ محمد حسین نے بتایا کہ ہمیں اپنے بھائی کی شہادت کا دکھ اور خوشی بھی ہے۔ اہلیہ زمرہ سولنگی نے کہا کہ رزاق بیٹے کی حسرت لئے شہید ہو گیا کاش اس کاایک بیٹا تو ہوتا۔ رزاق شہید کے دوستوں علی نواز منگر‘ محمد پرویز مہر و دیگر نے کہا کہ شہید ملنسار اور فرض شناس تھا ہمیشہ دوستوں اور رشتہ داروں کااحترام کرتا تھا اللہ نے اسے اپنے راستے کیلئے چن لیا۔
Post New Comment