سانحہ سیالکوٹ میں ملوث سترہ گرفتار ملزموں کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر دو میں پیش کیا گیا ۔ پولیس نے واقعہ میں استعمال ہونے والے ڈنڈے، سریے اور رسیوں کی برآمدگی کیلئے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمان کوتفتیش کیلئے پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزموں کو عدالت پیش کیا گیا تو ان کے منہ کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ فاضل جج رانا نثار احمد کےاستفسار پرپولیس نے بتایا کہ ملزمان کے چہرے انکی خواہش کے تحت ڈھانپے گئے ہیں۔ عدالت کے دریافت کرنے پر ملزمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ان کو بددعائیں دی جا رہی ہیں۔ لوگ ان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ ان کی تصویریں اخبار یا ٹی وی چینلز پر نشر ہوں۔ فاضل جج نے جب ملزمان سے پوچھا کہ تم نے واقعی یہ جرم کیا ہے تو تمام ملزمان خاموش رہے جبکہ ایک ملزم سرفراز نے کہا کہ عالی جاہ وہ بے قصور ہے۔ جسمانی ریمانڈ ملنے کے بعد ان ملزمان کو تھانہ کینٹ سیالکوٹ منتقل کردیا گیا جہاں انہیں خواتین کیلئے مخصوص خصوصی حوالات میں بند کردیا گیا ہے۔ اس مقدمہ کے لئے خصوصی طور پر مقرر کئے گئے سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل رانا بختیار نے مقدمے کی پیروی کی۔ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار احمد چوہان اور دیگر چھ پولیس اہلکاروں کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
Post New Comment