لاہور (سلمان غنی) حکومت نے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال میں یکجہتی کی فضا فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور صوبوں کو فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اپوزیشن سمیت پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے اور قومی اسمبلی کے دو ستمبر سے شروع ہونے والے اجلاس سے قبل ایک قابل عمل لائحہ عمل کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت سمجھتی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بلیم گیم سے ہٹ کر متاثرین کی فوری بحالی کیلئے حکومت اور اپوزیشن ملکر کام کریں اور اس حوالے سے اپوزیشن کی قابل عمل تجاویز پر پیشرفت کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سمیت وزیراعلیٰ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقاصد کی تکمیل کیلئے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے قومی کمیشن کی تشکیل کی تجویز دی اور خود ایوان وزیراعظم جا کر اپنا تعاون پیش کیا لیکن وزیراعظم نے اس پر اصولی اتفاق کرنے کے بعد کمیشن کی تشکیل سے انحراف بڑتتے ہوئے ایک ایسی کونسل کے قیام کا اعلان کر دیا جس کے نہ مقاصد معلوم ہیں اور نہ ہی کونسل کے اراکین کے ناموں کا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اب بھی سمجھتی ہے کہ سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال متاثرین سیلاب کی عملی مدد اور ان کی بحالی کو ممکن بنانے کیلئے حکومت کوئی ایسا ادارہ یا پروگرام تشکیل دے جس کے ذریعہ فنڈز کی فراہمی فنڈز جمع کرنے کے عمل اور فنڈز کے صوبوں کے ذریعہ استعمال کا عمل شفاف ہو تاکہ دنیا اور خصوصاً عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد حکومت پاکستان پر بحال ہو۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے نہ تو بلیم گیم شروع کی اور نہ ہی سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کو نمبرز گیم کیلئے استعمال کیا اگر اس حوالہ سے وزیراعلیٰ شہبازز شریف کی متاثرہ علاقوں میں متاثرین بحالی کیلئے ریسیکو مدد اور بحالی کیلئے تگ و دو کو نمبرز گیم سمجھا جاتا ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن کے ذمہ دار ذرائع نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال میں حکومتی اقدامات کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر بلایا گیا ہے اور اس حوالہ سے اپوزیشن نے حقائق جمع کر رکھے ہیں لہٰذا اس بنیاد پر ایوان میں بات ہو گی اور اگر حکومت واقعتاً صورتحال میں بہتری کیلئے اپوزیشن اور خصوصاً مسلم لیگ ن کے تعاون میں مخلص ہے تو وزیراعظم کو اس کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل معاملات اور اقدامات طے کرنا ہوں گے جس کا اعلان قومی اسمبلی کے اجلاس میں کر دیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیلاب پر پیدا شدہ صورتحال میں باہمی تحفظات کے ازالہ کیلئے کوششیں شروع ہیں اور اس امر کا امکان موجود ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ایک قابل عمل لائحہ عمل اور اس پر عملدرآمد کیلئے ایک بااختیار کمیٹی کا قیام عمل میں آ سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور مسلم لیگ ن کے درمیان کوئی ڈیڈ لاک والی پوزیشن نہیں بلکہ حکومتی ذمہ داران کے مسلم لیگ ن سے روابط قائم ہیں اور اس حوالہ سے اگلے دو تین روز میں اہم پیشرفت ہو سکتی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی جانب سے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال پر دکھائی جانے والے ........ اور حکومت کو ریسکیو کرنے کیلئے کی جانے والی کوشش کا جواب حکومت کی جانب سے مثبت نہیں آیا لہٰذا اب اس حوالہ سے پیشرفت کا انحصار خود حکومت کی جانب سے بعض مثبت اقدامات یکجہتی کی فضا اور خصوصاً سیلاب کے حوالہ سے فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبوں کے اطمینان کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے ہی ہو سکتا ہے اور اس حوالہ سے گیند حکومت کی کورٹ میں ہے۔
Post New Comment