متاثرین کو ملنے والی آدھی امداد این جی اوز کھا جائیں گی : یوسف رضا گیلانی

ـ 30 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

ملتان (ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے واضح کرایا کہ وہ مارشل لاء کی حمایت نہیں کرتے سیاسی قوتیں کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ہیں غور نہیں کرتے کیونکہ وہ صرف تنقید کرتی ہیں۔ ملتان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے پاکستان کی ہم دوبارہ تعمیر کریں گے سیلاب سے 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے 15 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا۔ پوری قوم اور عالمی برادری متاثرین سیلاب کی بحالی تک مدد جاری رکھے مستقبل میں بھی سیلاب متاثرین کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ نواز شریف کی طرف سے کمشن بنانے کی تجویز مسترد نہیں کی کمشن نہ بننے کا مطلب نیت میں خرابی نہیں پاکستان کو اس وقت مزید ڈیمز کی ضرورت ہے مگر کالا باغ ڈیم پر کسی کو سبز باغ نہیں دکھانا چاہتا ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اتحادی ہیں الطاف حسین نے مارشل لاءکی حمایت نہیں کی 18 ویں ترمیم پر پوری قوم ایک ہو گئی ہے۔ ہمیں پوری دنیا کی حمایت حاصل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کہا جا رہا تھا کہ قوم ایک نہیں تاہم دنیا نے دیکھ لیا کہ قوم نے ملکر دہشت گردی کا مقابلہ کیا سوات میں فوجی آپریشن کی پورے ملک نے حمایت کی اور 13 لاکھ افراد واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر آمر آ کر احتساب کا نعرہ لگاتا ہے احتساب تو نہیں ہوتا مگر چوروں کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں کیا پاکستانی عوام یہ ایک بار پھر چاہیں گے کہ ایسا دور واپس آئے‘ ملک و قوم کو کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں‘ حکومت پر سب کو اعتماد ہے ہم تنہا نہیں پوری دنیا ہمارے ساتھ ہے۔ کالاباغ ڈیم کے حق میں ہوں مگر اس پر بحث چھیڑنے کا یہ مناسب موقع نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا سے ملنے والی امداد کا 80 فیصد غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے دیا جائے گا جن میں سے نصف وہ کھا جائیں گے اور اس کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ وزیراعظم ان دنوں سیلاب زدگان کے لئے امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کی بات کرنے والوں کو وہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے پاس امداد کا صرف کچھ فیصد ہی آئے گا۔ بعد میں انہوں نے محتاط ردعمل کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ وہ کوئی الزام نہیں عائد کر رہے بلکہ غیر ملکی این جی اوز کے اپنے اخراجات ہوتے ہیں‘ ان کے دفاتر بنتے ہیں۔ ارکان کوڈالروں میں تنخواہیں دی جاتی ہیں ان کے لئے بلٹ پروف کاریں خریدی جاتی ہیں جبکہ ہم وطنوں کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ اگر روپیہ ملے تو وہ آنہ اپنی طرف سے لگا دیتے ہیں مگر ہمارے وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ آخر کیا وجہ ہوئی کہ بین الاقوامی دنیا حکومت کے بجائے ان غیر سرکاری تنظیموں کو فنڈز دینے لگی ہے جبکہ اسے یہ بھی پتہ ہے کہ اس میں تقریباً نصف تو خود تنظیموں کے اخراجات میں ہی لگ جاتے ہیں۔ دریں اثنا وزیراعظم کے این جی اوز کے بارے میں بیان کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم ہاﺅس کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی نے غیر ملکی این جی اوز کے بارے میں بیان دیا تھا انہوں نے مقامی این جی اوز کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی۔ غیر ملکی این جی اوز کے لاجسٹک اخراجات زیادہ ہیں انہیں یہاں گھر کرایہ پر اور بلٹ پروف گاڑیاں لینا پڑتی ہیں اس لئے آدھی امداد اس پر ہی خرچ ہو جائے گی۔ دریں اثنا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ہسپتال کی توسیع کیلئے ارجنٹینا پارک میں نئے بلاک کی تعمیر کی اجازت دیدی ہے ساڑھے پانچ ارب روپے سے اڑھائی ایکڑ رقبہ پر پانچ منزلہ نیا بلاک تعمیر کیا جائیگا جس میں 11 ہزار بیڈز اور اسلام آباد کا پہلا ٹراما سنٹر قائم کیا جائیگا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions