لاہور (خبر نگار + نمائندہ خصوصی + نامہ نگار + نیوز رپورٹر + ایجنسیاں) جدید ترین اسلحہ‘ خودکش جیکٹوں‘ دستی بموں سے لیس دہشت گردوں نے گڑھی شاہو اور ماڈل ٹا¶ن میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر بیک وقت فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کر کے 85 افراد کو ہلاک اور 150 کو زخمی کر دیا جبکہ 10 کی حالت تشویشناک ہے‘ دونوں عبادت گاہوں پر حملوں میں صرف دو تین منٹ کا فرق تھا۔ صوبائی دارالحکومت 3 گھنٹے سے زائد عرصہ تک دہشت گردوں کے نرغے میں رہا۔ دونوں حملوں میں مرنے والوں میں جماعت احمدیہ لاہور کے امیر ریٹائرڈ سیشن جج شیخ منیر احمد‘ جماعت احمدیہ ماڈل ٹا¶ن کے امیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر احمد اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے بھائی اعجاز اللہ خان‘ تحریک احمدیہ کے امیر اعجاز نصراللہ اور 3 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ تھانہ ماڈل ٹا¶ن اور تھانہ گڑھی شاہو میں سنگین ترین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کے القاعدہ الجہاد پنجاب ونگ نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور تمام اقلیتی مذہبی مقامات کی سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ حملہ آوروں نے عبادت گاہوں میں دو ہزار سے زائد افراد کو ڈھائی تین گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ فائرنگ کا تبادلہ کرتے رہے۔ حملہ آوروں نے دستی بم پھینکے اور بے دریغ فائرنگ کی۔ دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو اڑا کر بھی متعدد افراد کو ہلاک کیا۔ دہشت گردوں نے پہلا حملہ ایک بجکر 38 منٹ پر گڑھی شاہو میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ دارالذکر پر کیا۔ دہشت گرد گولیاں برساتے نہر کی طرف سے پیدل آئے۔ عبادت گاہ کے آگے تعمیر شدہ شیل کے پٹرول پمپ پر گولیاں برسائیں‘ پٹرول پمپ کا عملہ زمین پر لیٹ گیا اور حملہ آور سکیورٹی اہلکاروں پر قابو پا کر عبادت گاہ میں داخل ہو گئے۔ دہشت گرد جن کی اصل تعداد 5 سے 7 بتائی جاتی ہے عبادت گاہ میں داخل ہوئے تو اس وقت مربی ناصر خطبہ دے رہے تھے۔ دہشت گردوں نے عبادت گاہ میں داخل ہو کر فائرنگ کی تو صحن میں موجود افراد باہر کی جانب بھاگے جن پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی۔ بعدازاں دہشت گردوں نے عبادت گاہ کے ہال میں داخل ہو کر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے۔ عینی شاہدین کے مطابق گرنیڈ کے 6 دھماکے ہوئے‘ زوردار فائرنگ بھی ہوئی۔ اس دوران عبادت گاہوں کے باہر پٹرول پمپ کے ساتھ کھڑی گاڑیوں کے قریب موٹر سائیکل میں دھماکہ ہوا جس سے وہاں کھڑی تمام گاڑیاں بری طرح تباہ ہو گئیں۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی سول لائنز ڈاکٹر حیدر اشرف اور ایس پی مجاہد سکواڈ جہانزیب نذیر موقع پر پہنچے تو عبادت گاہ کی چھت اور مینار پر موجود حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی۔ ایس پی ڈاکٹر حیدر اشرف اور جیپ میں موجود ڈرائیور اور گن مین ٹانگ اور بازو میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ایس پی مجاہد سکواڈ جہانزیب نذیر کی جیپ تباہ ہو گئی مگر ان کے ماتحت بچ گئے۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ملحقہ عمارتوں کی چھتوں پر بھی چڑ گئی اور پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ فائرنگ کی آوازوں سے پورا علاقہ گونجتا رہا۔ فائرنگ کا یہ تبادلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ پولیس بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے عبادت گاہ کے قریب پہنچے اور دہشت گردوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس دوران دہشت گرد وقفے وقفے سے ہینڈ گرنیڈ بھی پھینکتے رہے۔ تین بج کر آٹھ سے دس منٹ کے دوران دو زوردار دھماکے ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ دھماکے دو خودکش حملہ آوروں کے تھے جنہوں نے ان کے درمیان خود کو اڑا لیا تھا۔ دھماکوں کے بعد بھی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ 4بجے تک وقفے وقفے سے پولیس فائرنگ کرتی رہی جبکہ پولیس کے اسلحہ سے مختلف آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ اس دوران عبادت گاہ سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا عمل شروع ہو گیا۔ 4بجکر 5منٹ پر پولیس اہلکاروں نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی۔ ہزاروں گولیاں ہوا میں چلائی گئیں جس سے عبادت گاہ کے باہر جمع ہونے والے پولیس‘ ٹریفک پولیس‘ سفید پوش افراد‘ ریسکیو‘ امدادی ٹیموں کا عملہ اور عوام جانیں بچانے کے لئے اندھا دھند بھاگ پڑے۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے جائے وقوعہ سے دور جانے کی کوشش کرتے رہے مگر اس فائرنگ کے فوراً بعد پولیس نے نعرہ تکبیر‘ اللہ اکبر بلند کر کے یہ واضح کر دیا کہ فائرنگ فتح کی خوش میں تھی۔ آپریشن مکمل ہوتے ہی عبادت گاہ کے دروازے کے باہر ایمبولینس گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور زخمیوں اور مرنے والوں کی منتقلی شروع ہو گئی۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والے قادیانیوں کے عزیز و اقارب اور ورثا اس دوران عبادت گاہ کے سامنے اکٹھے ہو گئے‘ ہر کوئی اپنے باپ‘ بھائی‘ بیٹے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ ان مشتعل افراد نے عبادت گاہ کے سامنے گھیرا ڈال کر اخبار نویسوں اور فوٹو گرافروں کو دور دھکیل دیا۔ زخمیوں کو بھی میڈیا سے دور رکھا جاتا رہا مگر اس دوران پولیس نے عمارت کو ”کلیئر“ نہیں قرار دیا اور ایلیٹ فورس کے جوان اپنے سربراہ کی سربراہی میں ”عمارت کلیئر“ کرتے رہے۔ عمارت کو ساڑھے چھ بجے کے بعد کلیئر کیا گیا۔ عبادت گاہ کے باہر اندر موجود افراد کے عزیز و اقارب بے چینی سے باہر آنے والے ہر زخمی اور لاش کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ زخمیوں کو گلے لگا کر روتے اور نعشوں کو دیکھ کر ایمبولینس کے ساتھ چمٹ کر روتے رہے جبکہ اندر سے آنے والے معمولی زخمی اور بچ جانے والے خوش قسمت اپنے خون سے بھرے کپڑوں کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کو فون کر کے اپنے زندہ بچ جانے کی نوید سناتے رہے۔ عبادت گاہ کے باہر موجود خواتین دیوانہ وار اپنے بچوں کو تلاش کرتی رہیں جیسے ہی بچے انہیں ملتے گئے ان کی حالت دیدنی تھی۔ یہ خواتین اپنے بچوں کو چمٹائے روتی نظر آئیں۔ عبادت گاہ سے زندہ بچ کر آنے الے نعمان‘ اشرف اور شرافت نے بتایا کہ اندر داخل ہونے والوں نے جب اندھا دھند فائرنگ کی اس وقت ”مربی ناصر“ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ زندہ بچ کر آنے والے خوش نصیب ر¶ف کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے بعد جب صحن میں موجود 40‘ 50 افراد جانیں بچانے کے لئے باہر بھاگے تو ان پر حملہ آوروں نے پیچھے سے فائرنگ کر کے انہیں قتل کیا۔ ان عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کی عمریں 18 سے 22 برس تھیں اور انہوں نے اپنی کمر پر بیگ پہنے ہوئے تھے۔ گڑھی شاہو میں ہونے والی اس واردات میں 1122 کے مطابق 33 افراد مارے گئے جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 50 کے لگ بھگ ہے۔ ماڈل ٹا¶ن 87 سی میں قائم قادیانیوں کی عبادت گاہ ”بیت النور“ میں موٹر سائیکل پر سوار خودکش جیکٹ پہنے تین حملہ آور ہینڈ گرنیڈ اور جدید آتشی اسلحہ سے لیس ہو کر وہاں آئے۔ انہوں نے موٹر سائیکل بیت النور کے باہر ڈیڑھ دو سو میٹر کے فاصلے پر سڑک کنارے دیگر موٹر سائیکلوں کے ساتھ کھڑی کی۔ ایک حملہ آور وہیں رک گیا جبکہ دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے دوڑتے ہوئے بیت النور کے مرکزی داخلی دروازے کے قریب آئے اور وہاں دستی بم پھینک کر دھماکہ کیا اور تیزی سے اندر داخل ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق وہاں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے دوڑ کر جانیں بچائیں۔ جب حملہ آور عمارت میں داخل ہو گئے تو پھر سکیورٹی اہلکاروں نے باہر سے جوابی فائرنگ کی۔ عمارت میں داخل ہو کر حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے اور عبادت گاہ کے مرکزی ہال میں دو دستی بم کے دھماکے کئے۔ حملہ آور اندھا دھند وہاں موجود افراد کو فائرنگ کا نشانہ بناتے رہے۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی اور خون پھیل گیا۔ اندر موجود پرائیویٹ گارڈز نے بھی حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی جس سے ایک حملہ آور زخمی ہو گیا۔ لوگوں نے دونوں حملہ آوروں کو قابو کر لیا۔ اسی اثناءمیں باہر موجود حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجہ میں وہاں کھڑی دیگر چار موٹر سائیکلیں اور کار نمبر ایل ایکس ایکس 914 تباہ ہو گئی۔ حملہ آور نے دھماکے کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے دوڑ لگا دی۔ سامنے سے ایک نج ٹی وی چینل کی گاڑی کوریج کے لئے آ رہ تھی جس پر اس حملہ آور نے دوڑتے ہوئے فائرنگ کی جس سے گاڑی کی ونڈ سکرین و سائیڈ شیشے ٹوٹ گئے۔ حملہ آور نے فائرنگ کر ایک شہری کو بھی زخمی کیا اور فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے دوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اتنے میں پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار‘ ریسکیو 1122‘ ایدھی و دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ پویس‘ ایلیٹ فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے جوانوں نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا اور اندر داخل ہو گئے جہاں دونوں حملہ آوروں کو قابو کر کے وہاں سے نامعلوم مقام پر تفتیش کے لئے منتقل کر دیا۔ ریسکیو و ایدھی ایمبولینسز نے زخمیوں اور نعشوں کو وہاں سے نکال کر ہسپتال پہنچانا شروع کیا۔ عبادت گاہ میں دہشت گردی کی اس واردات میں 24 افراد ہلاک جبکہ 60 افراد شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئے۔ اس دوران وہاں خوف و ہراس کی شدید فضا چھائی ہوئی تھی۔ عمارت میں موجود لوگوں کو باہر نکالا گیا‘ متعدد لوگوں کے کپڑے خون میں لتھڑے ہوئے تھے اور بعض دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور بعض ایک دوسرے کے گلے لگ کر آہیں بھر رہے تھے۔ متعدد افراد ننگے پا¶ں ہی عمارت سے باہر نکلے اور جلد از جلد گھروں کو روانہ ہو گئے‘ درجنوں قادیانی نوجوانوں نے عمارت کے داخلی دروازے کو اپنے حصار میں لے لیا اور بعض پولیس افسران و اہلکاروں کو بھی اندر نہ جانے دیا۔ صرف پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اندر گئے اور کرائم سین محفوظ کیا۔ میڈیا کو بھی عمارت میں داخلہ کی اجازت نہ دی گئی اور نہ ہی انہیں وقوعہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت ملی۔
قادیانی عبادت گاہ / دھماکے
Post New Comment