سانگلہ ہل (نمائندہ نوائے وقت + نامہ نگار + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ مشرف کا حلف اٹھانے والے جج خود نااہل ہیں‘ اسمبلیاں توڑنے کا اختیار صدر کے پاس نہیں ہونا چاہئے‘ یہاں عوامی جلسے سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر زرداری میثاق جمہوریت پر عمل کریں میں ان کی حکومت کے لئے سر درد نہیں بنوں گا‘ انہوں نے کہا کہ عوام نے مجھے اہل قرار دے دیا ہے لیکن سپریم کورٹ کے بعض جج مجھے نااہل قرار دینا چاہتے ہیں‘ وہ مجھے نااہل قرار نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی بجائے ایک شخص کا حلف اٹھانے والے ججوں کا احتساب کریں گے‘ موجودہ ججوں نے آئین کا حلف اٹھانے کی بجائے مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے‘ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 9 مارچ کے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں کیونکہ عدلیہ کی بحالی و آزادی پاکستان کی بقا کی جنگ ہے‘ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق انہوں نے کہا کہ مشرف کی ذات کا حلف اٹھانے و الے جج پاکستان سے مخلص نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی آزاد عدلیہ‘ صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان متوازن اختیار میں ہے‘ میں پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کو کٹہرے میں لایا جائے انہیں وی آئی پی پروٹوکول دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی میزائل حملوں پر صرف مذمتی بیان جاری کرنے کا مذاق ختم ہونا چاہئے۔ پاکستان عزیز ہے تو جرنیلی نظام کو بدلنے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا‘ مشرف سے آٹھ سال کا حساب لینے کا وقت آ گیا ہے‘ میرا مشن اقتدار نہیں پاکستان کی تقدیر سنوارنا ہے‘ جسٹس افتخار کی جگہ عبدالحمید ڈوگر بھی اصول پر کھڑے رہتے تو ہم اس کی بھی حمایت کرتے۔ میں زرداری کا وزیر یا مشیر نہیں کہ ان کی تعریف کرتا رہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی کوششوں سے پنجاب میں روٹی دو روپے میں مل رہی ہے‘ ایسا تمام صوبوں میں ہونا چاہئے‘ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آٹھ سال تک پاکستان کی خودمختاری سالمیت سے کھیلنے والے پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘ آج مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آ کر لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں‘ پٹرول‘ گیس‘ بجلی اور کھاد کے حصول کے لئے مزدور‘ کاشتکار اور غریب دھکے کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا مشرف کی عدلیہ مجھے نااہل قرار دینے پر تلی ہوئی ہے مگر سپریم کورٹ سن لے جس کے پیچھے سولہ کروڑ عوام ہوں اسے کوئی نااہل قرار نہیں دے سکتا۔ جلسہ سے جاوید ہاشمی‘ برجیس طاہر‘ طارق باجوہ‘ رانا محمد ارشد نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج پر ذوالفقار کھوسہ‘ رانا تنویر احمد‘ چودھری عبدالغفور‘ مشتاق حسین شاہ‘ ذوالفقار لعی شاہ‘ جاوید لطیف و دیگر موجود تھے۔ نوازشریف نے ایم این اے برجیس طاہر کی والدہ کے انتقال پر ان کے گھر جا کر دعائے مغفرت کی۔ ملاقات کرنے والوں میں عارف سندھیلہ بھی شامل تھے۔ نامہ نگار کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ صدر زرداری 9 مارچ سے پہلے افتخار چودھری سمیت تمام ججز کو بحال کر دیں تو ہم ان کا پانچ سال تک ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ مشرف کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں ان کے جرائم کی عبرتناک سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرا مشن اقتدار نہیں بلکہ 16 کروڑ عوام کی ترقی و خوشحالی اور انہیں انصاف کی فراہمی ہے۔
Post New Comment