سیلاب سے متاثرہ اضلاع جعفرآباد، نصیرآباد، سبی اور ڈیرہ مراد جمالی میں بحالی کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوسکا اور لاکھوں متاثرین بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے رہنے پرمجبور ہیں ۔ ضلع جعفرآباد اور دیگر علاقوں سے پانچ لاکھ جبکہ سندھ سے سات لاکھ افراد نے کوئٹہ، قلات، سبی، ڈھڈراور خاران میں پناہ لے رکھی ہے۔ حکومت کی جانب سے بارہ لاکھ سے زائد افراد میں سے ابھی تک صرف پندرہ ہزار متاثرین کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کرچکی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں غذائی اجناس کی بھی شدید قلت ہے جسے دور کرنے کے لئے بھی اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔ متاثرین نے اس صورت حال پر شدید احتجاج کیا ہے اور اسے صوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے ۔
Post New Comment