پشاور + راولپنڈی (بیورو رپورٹ + اے ایف پی + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) فوجی کمانڈوز نے 10 گھنٹے سے زائد طوےل آپرےشن کے بعد دہشت گردوں سے امریکی قونصلیٹ کے قریب حساس ادارے کی عمارت پر دہشت گردوں کا قبضہ چھڑا لےا اور 2 ےرغمال بنائے گئے سنترےوں کو بحفاظت بازےاب کرا لےا، اس طرح 10 گھنٹے بعد اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ کمانڈوز آپرےشن مےں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہےں ہوا عمارت پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دےا۔ ترجمان پاک فوج مےجر جنرل اطہر عباس کے مطابق پشاور کےنٹ مےں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اےک عمارت مےں تحقےقات کےلئے رکھے گئے دہشت گردوں نے ہفتہ کی صبح دو سنتریوں سے اسلحہ چھین کر ان پر قابو پا کر عمارت پر قبضہ کر لےا تھا جس پر سکیورٹی فورسز نے علاقے کو چاروں طرف سے گھےر لےا اور عمارت کا قبضہ چھڑانے کےلئے آپرےشن شروع کر دےا‘ دہشت گرد باہر سے نہےں آئے تھے وہ پہلے سے زےر حراست تھے۔ انہوں نے ہی ان سنترےوں کو ےرغمال بنا کر عمارت پر قبضہ کےا تھا، 10 گھنٹے کے طوےل آپرےشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پا لےا اور عمارت کا قبضہ سنبھال لےا۔ اس دوران دہشت گردوں نے جن دو سنترےوں کو ےرغمال بناےا تھا انہےں بحفاظت زندہ بازےاب کراےا گےا ہے‘ دہشت گردوں نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دےا انہیں تحوےل مےں لے لےا گےا ہے۔ دوسری طرف خیبر پی کے حکومت کے ذرائع کے مطابق ہفتہ کی صبح 6 بجے کےنٹ کے علاقے مےں امرےکی قونصلےٹ کے قرےب حساس ادارے کی عمارت پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی اندر موجود سکیورٹی گارڈز کو ےرغمال بنا لےا جس پر پولےس، اےف سی اور فوج نے عمارت کو گھےرے مےں لے کر سرچ آپرےشن شروع کر دےا ہےلی کاپٹرز کے ذرےعے نگرانی کی جاتی رہی، اس دوران جمرود روڈ کو ٹرےفک کےلئے بند اور کےنٹ اےرےا کو مکمل طور پر سےل کر دےا گےا تھا، بعض اطلاعات کے مطابق تفتیش کے لئے لے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 6 تھی جنہوں نے فائدہ اٹھا کر دو سنتریوں کو یرغمال بنا لیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق شدت پسند باہر سے نہےں آئے تھے وہ پہلے سے ہی اس عمارت مےں تحقےقات کےلئے رکھے گئے تھے جبکہ عےنی شاہدےن کے مطابق دہشت گردوں نے عمارت مےں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر وہاں تعےنات سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے درمےان فائرنگ کا شدےد تبادلہ ہوا، دہشت گردوں کی تعداد 6 سے 8 بتائی جاتی ہے تاہم عسکری حکام نے مزید معلومات فراہم نہےں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی حساس نوعےت کے باعث وہ آپرےشن کی مزید تفصےلات نہےں دے سکتے۔ اس واقعہ کے بعد امریکی قونصلیٹ عارضی طور پر بندی کر کے تمام غیر ملکی عملہ اسلام آباد منتقل کر دیا گیا‘ دیگر قونصل خانوں‘ غیر ملکی سفارتکاروں‘ ان کے دفاتر اور رہائش گاہوں پر پولیس کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے‘ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر جامہ تلاشی کا سلسلہ سخت کر دیا گیا‘ اہم عمارتوں پر خصوصی فورس تعینات کر دی گئی۔ واضح رہے کہ سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کی رہائش گاہ بھی یہاں سے قریب ہے۔ خیبر پی کے کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گرد ازسرنو منظم ہو رہے ہیں‘ وہ سیلاب کی صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں‘ پشاور خطرے میں ہے۔ سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور نے کہا کہ دہشت گردوں کا شہر میں داخلہ سکیورٹی کی کمزوری ہے‘ پورے شہر کو سیل نہیں کیا جا سکتا۔ چیف کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور لیاقت علی خان نے نوائے وقت کو بتایا کہ سکیورٹی ایجنسی نے کاروائی کے دوران بعض حطرناک عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا تھا اور ان گرفتار افراد کو حیات ایونیو پر واقع تفتیشی مرکز لایا گیا تھا۔ ہفتہ کی صبح ان ملزموں کو پوچھ گچھ کی غرض سے ایک کمپاونڈ سے دوسرے کو منتقل کیا جا ریا تھا اس دوران انہوں نے ایک اہلکار سے اسلحہ چھینا جس کے دوران ایک اہلکار کو معمولی زخم آیا ملزمان نے فائرنگ کر تے ہوئے وہاں پر موجود اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا اور اس دوران وقفہ وقفہ سے فائرنگ کرتے رہے تاہم سکیورٹی اداروں نے علاقہ کی رہائشی، حساس نوعیت اور یرغمالیوں کی سکیورٹی کے پیش نظر آپریشن میں انتہائی احتیاط سے کام لیا اور کئی گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد یرغمالیوں کو کامیابی کے ساتھ بخفاظت بازایاب کرایا گیا جبکہ ملزمان نے ہتھیار ڈال دئیے اور صورتحال اب مکمل طور قابو میں ہیں۔
پشاور / حساس عمارت
Post New Comment