اگلے ماہ عدالتی بحران کا خطرہ....ججز تعینات نہ ہونے سے عدالتوں کا کام متاثر ہو گا‘ چاروں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز کا چیف جسٹس افتخار کو خط

ـ 29 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (وقت نیوز + مانیٹرنگ ڈیسک) اگلے ماہ ملک مےں نئے عدالتی بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ستمبر مےں چاروں ہائی کورٹس کے 33ججز ریٹائر ہو جائیں گے اس حوالے سے چاروں صوبوں کے چیف جسٹسز نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو خط لکھ دیا ہے کہ ہائی کورٹس مےں ججز تعینات نہ ہونے سے عدالتوں کا کام متاثر ہوگا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی مےں فل کورٹ 30اگست کو سماعت کرے گا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو 30اگست کے لئے نوٹس جاری کر دیئے ہےں۔ ہائی کورٹ کے ججز مےں بلوچستان کے چار، سندھ کے 9، پنجاب کے 12، خیبر پی کے کے 7ججز شامل ہےں۔ ججز تعینات نہ ہوئے تو بلوچستان ہائی کورٹ کے غیر فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی مےں سپریم کورٹ کا 17رکنی بنچ پیر کو 18ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت سے پہلے ہائیکورٹس مےں ایڈیشنل ججوں کو مستقل کئے جانے سے متعلق اہم کیس کی سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے خط لکھے تھے کہ 5 ستمبر کو ایڈیشنل ججوں کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد انہیں مستقل کرنے بارے فیصلہ نہ کیا گیا تو بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ خطوط ملنے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ اہم معاملہ سپریم کورٹ کے 17رکنی بنچ کے سامنے رکھ دیا۔ اس سلسلے مےں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہےں۔ مقدمات کی سماعت کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہےں وکلا اور صحافیوں کو خصوصی پاس دیئے گئے ہےں۔
چیف جسٹسز / خط

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions