برسلز (نیوز ایجنسیاں) پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے نیٹو ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کا مسئلہ پائےدار بنیادوں پر حل کرنے کے لئے پاکستان کے کردار میں اضافہ کریں۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان سے بہتر زمینی حقائق کو کوئی نہیں جانتا ہم دہشت گردوں کے خلاف اپنی حکمت عملی کے مطابق کارروائی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیٹو ہیڈکوارٹرز میں نیٹو ملٹری کمیٹی کے اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں انہیں خصوصی طور پر شرکت کی دعوت نیٹو ملٹری کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل گیام پالو ڈی پلاﺅ نے دی تھی اجلاس میں بیالیس ممالک کے فوجی سربراہوں نے شرکت کی۔ تمام شرکاءنے جنرل کیانی کے مفصل خطاب کو سنجیدگی اور توجہ سے سنا۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے نیٹو اور پاکستانی افواج کے درمیان اعتماد کی بحالی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں مزید تعاون کی اشد ضرورت ہے نیٹو پاکستان سے ناصرف دفاعی و فوجی بلکہ دیگر شعبوں میں بھی تعاون بڑھائے ہم ایک حکمت عملی کے تحت قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں اور پرتشدد انتہاءپسندوں کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ عالمی برادری اور نیٹو ممالک پاکستان کی اس حکمت عملی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ سفارتی ذرائع اور نجی ٹی وی چینلز کے مطابق جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی نئی حکمت عملی پر ہمارے بعض تحفظات موجود ہیں افغانستان میں امن اور استحکام ہماری خواہش ہے لیکن پاکستان میں امن کا قیام افغانستان کے امن سے منسلک ہے عالمی برادری ان حقائق کو بھی دیکھے ہم نے ایک جامع حکمت عملی کے تحت مالاکنڈ اور سوات میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا اور مختصر عرصے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور جنوبی وزیرستان میں بھی ہم ایک حکمت عملی کے تحت کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے فوجی کمانڈروں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تقریر کو سراہا اور کہا کہ صرف فوجی طاقت کے استعمال سے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی اس کے لئے سیاسی اور معاشی آپشنز کو بھی بروئے کار لانا ہو گا۔ افغانستان میں بہت سی اقوام آباد ہیں امن کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے علاقے کی مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کیلئے نئی امریکی حکمت عملی پر بھی اپنا نقطہ نظر واضح کیا ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کے خطاب کو سراہتے ہوئے مختلف ممالک کے آرمی چیفس اور سربراہان ملٹری کمیٹی کے ارکان نے کہاکہ جس طرح جنرل کیانی نے اپنی حکمت عملی کو احسن طریقے سے ادا کیا اس کے مثبت اثرات برآمد ہونے کی توقع ہے۔ ہم چیف آف آرمی سٹاف کی تقریر سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمڈ فورسز اور پاکستان کی اس مسئلہ افغانستان میں باقاعدہ ایک بڑی جگہ بنانا بہت ضروری ہے اگر اس مسئلے کا حل نکالنا ہے تو اس کا کردار اب وسیع کرنا ہو گا۔ لندن کانفرنس کے بعد ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ لندن کانفرنس کے اعلامیے میں لوگوں کو دیکھیں گے کہ پاکستان کی مسلح افواج اورپاکستان کا کردار اس تنازعہ کے حل کےلئے انتہائی وسیع ہو جائےگا۔
نیٹو/ کیانی
Post New Comment